بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 525 hadith
یحيٰ بن بُکَیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یونس (بن یزید) سے، یونس نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے سعید بن مسیب سے روایت کی کہ حضرت جبیر بن مطعمؓ نے انہیں خبر دی، کہا: میں اور حضرت عثمان بن عفانؓ نبی ﷺ کے پاس گئے، ہم نے کہا: آپؐ نے بنو مطلب کو خیبر کے پانچویں حصہ میں سے دیا اور ہمیں چھوڑ دیا ہے بحالیکہ ہم سب کا تعلق آپؐ سے یکساں ہے۔ آپؐ نے فرمایا: بے شک بنو ہاشم اور بنو مطلب تو ایک ہی ہیں۔ حضرت جبیرؓ نے کہا: اور نبی ﷺ نے بنو عبد شمس اور بنو نوفل کو کوئی حصہ نہ دیا۔
محمد بن علاء نے مجھے بتایا کہ ابواسامہ نے ہم سے بیان کیا کہ بُرَید بن عبداللہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوبردہ سے، ابوبردہ نے حضرت ابوموسیٰ (اشعری) رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی ﷺ کے (مکہ سے) ہجرت کرنے کا ہمیں اس وقت علم ہوا، جب ہم اپنے ملک یمن میں تھے۔ یہ سن کر ہم بھی ہجرت کی نیت سے (اپنے وطن سے) نکلے، میں اور میرے دو بھائی۔ میں ان میں سب سے چھوٹا تھا۔ دوسرے دو بھائیوں میں سے ایک ابوبردہؓ تھے اور دوسرے ابورُہمؓ۔ حضرت ابوموسیٰ ؓ نے کہا کہ پچاس پر کچھ زائد آدمی یا ترپن یا باون آدمی جو میری قوم میں سے اور بھی تھے ہم ایک جہاز پر سوار ہوئے۔ ہمارے جہاز نے ہمیں حبشہ میں نجاشی کے پاس پہنچا دیا۔ اتفاق سے ہم جعفر بن ابی طالبؓ سے ملے اور وہاں ان کے ساتھ ٹھہرے۔ پھر ہم سب اکٹھے مدینہ آئے اور نبی ﷺ سے اس وقت ملے جب آپؐ خیبر فتح کر چکے تھے اور لوگوں میں سے کچھ لوگ ہم سے یعنی جہاز والوں سے کہتے تھے کہ ہم نے تم سے پہلے ہجرت کی ہے اور اسماء بنت عمیسؓ (حضرت جعفر کی بیوی) بھی ان لوگوں میں سے تھیں جو ہمارے ساتھ آئے تھے۔ وہ نبی ﷺ کی زوجہ حضرت حفصہؓ سے ملنے گئیں اور اسماء ؓ بھی ان لوگوں کے ساتھ جو نجاشی کی طرف ہجرت کر گئے تھے، چلی گئی تھیں۔ اتنے میں حضرت عمرؓ بھی حضرت حفصہؓ کے پاس پہنچے جبکہ ابھی اسماءؓ ان کے پاس تھیں۔ جب حضرت عمرؓ نے اسماءؓ کو دیکھا، پوچھا: یہ کون ہیں؟ حضرت حفصہؓ نے کہا: اسماء ؓ عمیس کی بیٹی۔ حضرت عمرؓ نے کہا: واہ! یہ حبشہ سے لوٹنے والی ہے، سمندر کا سفر کر کے آنے والی۔ اسماءؓ بولیں: ہاں۔ حضرت عمرؓ نے کہا: ہم تم سے پہلے ہجرت کر کے آئے ہیں، اس لئے رسول اللہﷺ پر ہمارا زیادہ حق ہے۔ (یہ سن کر) وہ ناراض ہو گئیں اور کہنے لگیں: اللہ کی قسم! ہرگز نہیں۔ تم لوگ رسول اللہﷺ کے ساتھ تھے۔ آنحضورﷺ تم میں سے بھوکے کو کھلاتے اور جاہل کو وعظ کرتے اور ہم اجنبی دشمنوں کے گھر میں یا (کہا) ملک میں یعنی حبشہ میں تھے اور یہ ہمارا قیام اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی خاطر تھا۔ اللہ کی قسم! مَیں کھانا نہیں کھاؤں گی اور نہ پانی پیوں گی جب تک کہ جو بات آپؓ نے کہی ہے وہ رسول اللہ ﷺ سے کہہ لوں اور ہمیں تو دُکھ دیا جاتا تھا اور خوف کا سامنا رہتا اور نبی ﷺ سے میں یہ ذکر ضرور کروں گی اور آپؐ سے پوچھوں گی۔ اللہ کی قسم! جھوٹ نہ بولوں گی اور نہ اِدھر اُدھر کی بات کہوں گی اور نہ اپنی طرف سے کچھ بڑھاؤں گی۔
جب نبی ﷺ آئے، حضرت اسماءؓ کہنے لگیں: اللہ کے نبی! عمرؓ نے ایسا ایسا کہا ہے۔ آپؐ نے پوچھا: تم نے کیا جواب دیا؟ حضرت اسماءؓ نے کہا: میں نے ان سے ایسا ایسا کہا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: مجھ پر تم سے بڑھ کر کسی کا حق نہیں اور عمرؓ کی اور عمرؓ کے ساتھیوں کی تو ایک ہی ہجرت ہے اور تم یعنی جہاز والوں کی دو ہجرتیں ہیں۔ حضرت اسماءؓ کہتی تھیں: پھر میں نے دیکھا ابوموسیٰؓ اور جہاز کے ہم سفر یکے بعد دیگرے میرے پاس آنے لگے اور مجھ سے اس حدیث کی نسبت پوچھتے۔ دنیا میں کوئی چیز بھی ایسی نہ تھی جس پر وہ اتنا خوش ہوئے ہوں اور نہ کوئی بات ان کے نزدیک اس بات سے بڑھ کر (مسرت انگیز) تھی جو نبی ﷺ نے ان سے فرمائی تھی۔ ابو بردہ نے کہا: حضرت اسماءؓ کہتی تھیں: پھر میں نے ابو موسیٰ (اشعریؓ) کو دیکھا کہ وہ مجھ سے یہ حدیث بار بار سنتے۔
ابو بردہ نے کہا: حضرت ابو موسیٰ (اشعریؓ) سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: میں اشعریوں کے رفقاء کی آوازیں پہچان لیتا ہوں جب وہ رات کو (مدینہ میں آکر اپنی قیام گاہوں میں) قرآن پڑھا کرتے ہیں اور میں ان کے رات کو قرآن پڑھنے کی آوازوں سے ان کی قیام گاہوں کو پہچان لیتا ہوں، گو مَیں نے ان کی قیام گاہیں دِن کو نہیں دیکھی تھیں جبکہ وہ آکر اُن میں ٹھہرے اور ان (اشعریوں) میں سے ایک شخص حکیم ہے جب وہ سواروں سے یا کہا: دشمنوں سے ملتا ہے تو اُن سے یوں کہتا ہے: میرے ساتھی تم سے کہتے ہیں کہ تم ان کا انتظار کرو۔
اسحاق بن ابراہیم نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے حفص بن غیاث سے سنا کہ بُرَید بن عبداللہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوبردہ سے، ابوبردہ نے حضرت ابوموسیٰ (اشعریؓ) سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ہم نبی کریم ﷺ کے پاس (مدینہ میں حبش کے ملک سے) اس وقت پہنچے جب آپؐ خیبر فتح کرچکے تھے تو آپؐ نے ہمیں غنیمت سے حصہ دلایا اور ہمارے سوا کسی کو بھی جو خیبر کی فتح میں شریک نہ تھا، حصہ نہیں دیا۔
عبداللہ بن محمد نے مجھے بتایا کہ معاویہ بن عمرو نے ہم سے بیان کیا کہ ابواسحاق (ابراہیم بن محمد فزاری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مالک بن انس سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ثور (بن زید) نے مجھ سے بیان کیا۔ ثور نے کہا: سالم (ابوالغیث) نے جو کہ (عبداللہ) بن مطیع کے غلام تھے، مجھے بتایا کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے: ہم نے خیبر فتح کیا اور ہمیں غنیمت میں سونا چاندی نہیں ملے بلکہ صرف گائے، اونٹ اور سامان وغیرہ اور باغات ہی غنیمت میں ملے۔ اس کے بعد ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ وادیٔ قریٰ میں آئے اور آپؐ کے ساتھ آپؐ کا ایک غلام تھا جسے مِدعم کہتے تھے، جسے بنو ضباب میں سے کسی نے آپؐ کو بطور ہدیہ پیش کیا تھا۔ یہ غلام رسول ﷺ کا کجاوہ اُتار رہا تھا کہ اتنے میں یکا یک ایک تیر اُس کی طرف آیا، معلوم نہیں کس نے مارا تھا، وہ اس غلام کو کاری لگا اور وہ شہید ہوگیا۔ لوگ کہنے لگے: مبارک ہو اس کے لئے یہ شہادت۔ (یہ سن کر) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نہیں بلکہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ وہ چادر جو اس نے غنیمت کے مال سے خیبر کے دن لے لی تھی جبکہ ابھی اس کے حصے نہیں بانٹے گئے تھے وہ آگ ہو کر اس کو جلا رہی ہے۔ ایک شخص جب اس نے نبی ﷺ سے یہ سنا، جوتی کا ایک تسمہ یا دو تسمے لے کر آیا اور کہنے لگا: یہ وہ چیز ہے جس کو میں نے لے لیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: خواہ ایک تسمہ ہو یا دو تسمے یہ بھی آگ میں لے جانے کا موجب ہو جاتے ہیں۔
سعید بن ابی مریم نے ہمیں بتایا کہ محمد بن جعفر نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے کہا: زید نے مجھے بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت عمر بن خطابؓ سے سنا، وہ کہتے تھے: سنو! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ میں پیچھے آنے والے لوگوں کو اتنا مفلس چھوڑ دوں گا کہ ان کے پاس کچھ نہ ہوگا تو جو بستی بھی میرے ذریعہ سے فتح ہوتی تو میں اس کو ضرور تقسیم کر دیتا جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے خیبر تقسیم کیا۔ لیکن میں ان مفتوحہ ملکوں کو اُن کے لئے بطور خزانہ چھوڑ رہا ہوں تاکہ وہ آپس میں عند الضرورت تقسیم کریں۔
محمد بن مثنیٰ نے مجھ سے بیان کیا کہ (عبدالرحمٰن) بن مہدی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے امام مالک بن انس سے، امام مالک نے زید بن اسلم سے، انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: اگر پیچھے آنے والے مسلمانوں کا خیال نہ ہوتا تو جو بستی بھی ان کے ذریعہ سے فتح کی گئی ہے میں اس کو ضرور ہی اسی طرح بانٹ دیتا جیسا کہ نبی ﷺ نے خیبر کو بانٹ دیا تھا۔
علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: میں نے زُہری سے سنا اور ان سے اسماعیل بن امیہ نے پوچھا تھا۔ انہوں نے کہا: عنبسہ بن سعید نے مجھے بتایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے پاس (خیبر میں) آئے اور انہوں نے آپؐ سے کچھ مانگا۔ سعید بن عاص (اموی) کے بیٹوں میں سے کسی نے آپؐ سے کہا: یا رسول اللہ! آپؐ ابوہریرہؓ کو کچھ نہ دیں (ان کا کوئی حق نہیں۔) حضرت ابوہریرہؓ بولے: یہ ابن قوقلؓ کا قاتل ہے (اس نے ان کو جنگ اُحد میں قتل کیا تھا۔) یہ سن کر اُس نے کہا: واہ واہ! کیا کہا اس بلونگڑے نے جو ضأن پہاڑ کے جنگل سے اُتر کر آیا ہے۔
اور (محمد بن ولید) زبیدی سے مروی ہے۔ انہوں نے زُہری سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: عنبسہ بن سعید نے مجھے بتایا۔ انہوں نے حضرت ابوہریرہؓ سے سنا، وہ حضرت سعیدؓ بن العاص کو بتا رہے تھے۔ کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ نے ابان (بن سعیدؓ ) کو ایک دستہ فوج کا سردار مقرر کرکے مدینہ سے نجد کی طرف بھیجا۔ حضرت ابوہریرہؓ کہتے تھے: پھر ابانؓ اور ان کے ساتھی نبی ﷺ کے پاس خیبر میں آئے جبکہ آپؐ نے اس کو فتح کرلیا تھا اور ان کے گھوڑے کے تنگ کھجور کی چھال کے تھے۔ حضرت ابوہریرہؓ کہتے تھے: میں نے کہا: یا رسول اللہ! انہیں (یعنی ابان اور ان کے ساتھیوں کو) حصہ نہ دیجئے۔ ابان نے کہا: ارے بلونگڑے! تم یہ بات کہتے ہو، جو ابھی ضأن پہاڑ سے نیچے اُتر کر آئے ہو۔ (ہم پر اَکڑتے ہو!) نبی ﷺ نے کہا: ابان بیٹھ جاؤ اور آپؐ نے ان کو خیبر کی غنیمت سے حصہ نہ دیا۔ ابوعبداللہ (امام بخاریؒ) نے کہا: ضَأْلٌ بیری کو کہتے ہیں۔