بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 66 hadith
محمد بن ابی بکر المقدمی نے ہم سے بیان کیا، کہا: حرمی بن عمارہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: ابوخلدہ خالد بن دینار نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس بن مالکؓ سے سنا۔ کہتے تھے: نبی ﷺ جب سخت سردی ہوتی تو نماز سویرے پڑھ لیتے اور اگر سخت گرمی ہوتی تو نماز ٹھنڈے وقت پڑھتے یعنی جمعہ کی نماز۔ یونس بن بکیر نے کہا: ابوخلدہ نے ہمیں بھی بتایا اور انہوں نے نماز کا تو ذکر کیا مگر جمعہ کا ذکر نہیں کیا اور بشیر بن ثابت نے کہا: ہم سے ابوخلدہ نے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک امیر نے ہمیں نماز جمعہ پڑھائی۔ پھر انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی ﷺ ظہر کی نماز کس وقت پڑھتے تھے۔
(تشریح)علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: ولید بن مسلم نے ہم سے بیان کیا، انہوں نے کہا: یزید بن ابی مریم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا کہ عبایہ بن رفاعہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں جمعہ کو جا رہا تھا کہ مجھے حضرت ابوعبس (عبدالرحمن بن جبر رضی اللہ عنہ) آ ملے اور انہوں نے کہا: میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ جس کے پائوں اللہ کی راہ میں گرد آلود ہوں اس کو اللہ نے آگ پر حرام کردیا ہے۔
آدم نے ہم سے بیان کیا، کہا: (عبدالرحمن) بن ابی ذئب نے ہم سے بیان کیا۔ ابن ابی ذئب نے کہا: زہری نے (ہمیں) بتایا۔ انہوں نے سعید اور ابوسلمہ سے، ان دونوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی ﷺ روایت کی اور ابوالیمان نے بھی ہم سے بیان کیا، کہا: شعیب نے ہمیں بتایا زہری سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے مجھے بتایا کہ حضرت ابوہریرہؓ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپؐ فرماتے تھے: جب تکبیر اقامت ہو تو نماز کے لئے دوڑتے ہوئے نہ آئو بلکہ معمول کی رفتار سے چل کر آئو اور تم سکون کو اپنا وطیرہ بنائو۔ جتنی نماز تم پالو پڑھ لو جو تم سے رہ جائے اسے پورا کرلو۔
عمرو بن علی نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابو قتیبہ نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: علی بن مبارک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحيٰ بن ابی کثیر سے، یحيٰ نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے، (انہوں نے کہا:) میں یہی جانتا ہوں کہ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: جب تک مجھے (اٹھتے) نہ دیکھو نہ اٹھا کرو اور تمہیں چاہیے کہ آرام سے اٹھو۔
(تشریح)عبدان نے ہم سے بیان کیا، کہا: عبداللہ (بن مبارک) نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابن ابی ذئب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سعید مقبری سے، سعید نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے (عبداللہ) بن ودیعہ سے، ابن ودیعہ نے حضرت سلمان فارسیؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص جمعہ کے دن نہاتا ہے اور جہاں تک ہو سکتا ہے نہا دھوکر پاک و صاف ہو جاتا ہے اور تیل یا خوشبو لگاتا ہے۔ پھر جمعہ کو جاتا ہے اور دو آدمیوں کے درمیان نہیں گھستا اور جس قدر اس کے لئے مقدر ہے نماز پڑھتا ہے۔ پھر اس کے بعد جب امام نکلتا ہے تو وہ خاموشی سے سنتا ہے تو جو گناہ اس جمعہ سے لے کر دوسرے جمعہ تک ہوں گے ان کی مغفرت کی جائے گی۔
(تشریح)محمد (بن سلام) نے ہم سے بیان کیا، کہا: مخلد بن یزید نے ہمیں بتایا، کہا: ابن جریج نے ہمیں خبر دی کہا: میں نے نافع سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا۔ وہ کہتے تھے: نبی ﷺ نے منع فرمایا ہے کہ آدمی اپنے بھائی کو اس کے بیٹھنے کی جگہ سے اٹھا کر خود وہاں بیٹھے۔ (ابن جریج کہتے ہیں:) میں نے نافع سے پوچھا: (کیا) جمعہ میں؟ انہوں نے جواب دیا: جمعہ میں اور اس کے علاوہ بھی۔
(تشریح)آدم نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابن ابی ذئب (محمد بن عبدالرحمن) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے سائب بن یزید سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: جمعہ کے دن پہلی اذان نبی ﷺ اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے زمانے میں اس وقت ہوا کرتی تھی جب امام منبر پر بیٹھتا۔ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا زمانہ ہوا اور لوگ بہت ہوگئے تو انہوں نے زوراء میں تیسری اذان بڑھا دی۔ ابوعبداللہ نے کہا: زوراء مدینہ کے بازار میں ایک مقام ہے۔
(تشریح)ابونعیم نے ہم سے بیان کیا، کہا: عبدالعزیز بن ابی سلمہ ماجشون نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے سائب بن یزید سے روایت کی کہ یہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ تھے جنہوں نے جمعہ کے دن تیسری اذان بڑھائی تھی۔ اس وقت مدینہ کے باشندے زیادہ ہوگئے تھے اور نبی ﷺ کا صرف ایک ہی مؤذن تھا اور جمعہ کے دن اذان اس وقت ہوتی جب امام بیٹھتا یعنی منبر پر۔
(تشریح)(محمد) بن مقاتل نے ہم سے بیان کیا، کہا: عبداللہ نے ہمیں بتایا، کہا: ابوبکر بن عثمان بن سہل بن حنیف نے ہمیں بتایا۔ ابو امامہ بن سہل بن حنیف سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت معاویہ بن ابی سفیانؓ سے جب کہ وہ منبر پر بیٹھے ہوئے تھے سنا۔ مؤذن نے اذان دی اور کہا: اللہ اکبر اللہ اکبر۔ حضرت معاویہؓ نے بھی کہا: اللہ اکبر اللہ اکبر مؤذن نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں حضرت معاویہؓ نے کہا: میں بھی گواہی دیتا ہوں۔ مؤذن نے کہا: میں گواہ ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ حضرت معاویہؓ نے کہا اور میں بھی۔ جب مؤذن اذان کہہ چکا تو حضرت معاویہؓ نے کہا: لوگو! میں نے رسول اللہ ﷺ سے اسی جگہ بیٹھے ہوئے جس وقت مؤذن نے اذان دی وہی کہتے سنا تھا جو تم نے مجھے کہتے سنا ہے۔
(تشریح)یحیٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا، کہا: لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عُقیل سے، عُقیل نے ابن شہاب سے روایت کی کہ سائب بن یزید نے انہیں بتایا: جمعہ کے دن دوسری اذان دینے کا حکم حضرت عثمانؓ نے دیا تھا، جب مسجد میں آنے والے لوگ بہت ہو گئے تھے اور جمعہ کے دن اذان اس وقت دی جاتی ہے جب امام منبر پر بیٹھ جاتا۔
(تشریح)