بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 15 hadith
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع اور عبداللہ بن دینار سے، ان دونوں نے حضرت (عبداللہ) بن عمرؓ سے روایت کی کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے رات کی نماز سے متعلق پوچھا۔ رسول اللہ علیہ السلام نے فرمایا: رات کی نماز دو دو رکعتیں ہیں۔ پھر جب تم میں سے کسی کو خوف ہو کہ صبح ہوجائے گی تو ایک رکعت پڑھ لے وہ اس کی ساری نماز کو طاق بنا دے گی جو وہ پڑھ چکا ہے۔
اور نافع سے مروی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ وتروں میں دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر کر ایک پڑھتے حتی کہ اپنی کسی ضرورت سے متعلق بھی کہہ دیا کرتے۔
عبداللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا کہ مالک سے مروی ہے۔ انہوں نے مخرمہ بن سلیمان سے، مخرمہ نے کریب سے روایت کی کہ حضرت ابن عباسؓ نے انہیں بتایا کہ وہ حضرت میمونہؓ کے پاس رات رہے اور وہ ان کی خالہ تھیں (کہا:) میں بچھونے کی چوڑان میں لیٹا اور رسول اللہ ﷺ اور آپؐ کی اہلیہ اس کی لمبائی میں لیٹے۔ آپؐ سو گئے، یہاں تک کہ جب آدھی رات ہوئی یا اس کے لگ بھگ تو آپؐ جاگے، اپنے چہرہ پر ہاتھ پھیر کر نیند دور کرنے لگے۔ پھر آپؐ نے سورۂ آل عمران کی دس آیتیں پڑھیں۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ اُٹھ کر ایک مشکیزے کی طرف گئے جو لٹک رہا تھا۔ آپؐ نے وضو کیا۔ پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے۔ میں نے بھی آپؐ ہی کی طرح کیا اور آپؐ کے پہلو میں کھڑا ہوگیا اور آپؐ نے اپنا دایاں ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرا کان پکڑ کر ملنے لگے۔ پھر آپؐ نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں، پھر ایک رکعت پڑھی۔ اس کے بعد آپؐ لیٹ گئے۔ آخر مؤذن آپؐ کے پاس آیا۔ آپؐ نے اُٹھ کر دو رکعتیں پڑھیں، پھر آپؐ نے باہر جا کر صبح کی نماز پڑھائی۔
یحيٰ بن سلیمان نے ہم سے بیان کیا، کہا: (عبداللہ) بن وہب نے مجھ سے بیان کیا، کہا: عمرو (بن حارث) نے مجھے بتایا کہ عبدالرحمن بن قاسم نے ان کو بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے فرمایا: رات کی نماز دو دو رکعتیں ہیں، پس جب تم نماز سے فارغ ہونا چاہو تو ایک رکعت پڑھ لو، وہ تمہاری اس نماز کو جو تم نے پڑھی ہے طاق کر دے گی۔ قاسم کہتے تھے: جب سے ہم نے ہوش سنبھالا ہے لوگوں کو تین رکعت ہی وتر پڑھتے دیکھا ہے اور ہر طرح ہی جائز ہے اور میں امید رکھتا ہوں کہ کسی میں بھی حرج نہیں۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا، کہا: شعیب نے ہمیں بتایا۔ زہری سے مروی ہے۔ انہوں نے عروہ (بن زبیر) سے روایت کی کہ حضرت عائشہؓ نے انہیں بتایا۔ رسول اللہ ﷺ گیارہ رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔ یہی آپؐ کی نماز تھی۔ اس سے حضرت عائشہؓ کی مراد رات کی نماز ہے۔ اس نماز میں آپؐ اتنی دیر سجدہ کرتے کہ آپؐ کے سر اُٹھانے سے پہلے تم میں سے کوئی پچاس آیتیں پڑھ لے اور فجر کی نماز سے پہلے آپؐ دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔ پھر آپؐ اپنی دا ہنی کروٹ لیٹ جاتے، یہاں تک کہ مؤذن نماز کے لئے بلانے کو آپؐ کے پاس آتا۔
(تشریح)ابو النعمان نے ہم سے بیان کیا، کہا: حماد بن زید نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: انس بن سیرین نے ہمیں بتایا، کہا: میں نے حضرت (عبداللہ) بن عمرؓ سے پوچھا کہ آپؓ کا کیا خیال ہے کہ میں صبح کی نماز سے پہلے دو رکعتوں میں قرأت لمبی کیا کروں۔ انہوں نے جواب دیا: نبی ﷺ رات کو دو دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے اور ایک رکعت پڑھ کر اُن کو طاق کر لیتے۔ صبح کی نماز سے پہلے دو رکعتیں اس طرح پڑھتے کہ گویا تکبیر کی آواز آپؐ کے کان میں پڑ رہی ہے۔ حماد نے کہا: یعنی جلدی سے۔
عمر بن حفص (بن غیاث) نے ہم سے بیان کیا، کہا: میرے باپ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: اعمش نے ہمیں بتایا کہا: مسلم (بن کیسان) نے مجھے بتایا۔ انہوں نے مسروق سے، مسروق نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں: رسول اللہ ﷺ نے رات کے ہر حصہ میں وتر پڑھے ہیں اور آخر عمر میں آپؐ سحری کے وقت وتر پڑھا کرتے تھے۔
(تشریح)مسدد نے ہم سے بیان کیا، کہا: یحيٰ (قطان) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: ہشام نے ہمیں بتایا، کہا: میرے باپ (عروہ بن زبیر) نے مجھے بتایا۔ انہوں نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں: نبی ﷺ نماز پڑھا کرتے اور میں آپؐ کے بچھونے پر آڑی سو رہی ہوتی۔ جب آپؐ وتر پڑھنا چاہتے تو مجھے جگا دیتے تو میں بھی وتر پڑھتی۔
(تشریح)مسدد نے ہم سے بیان کیا، کہا: یحيٰ بن سعید نے ہمیں بتایا۔ عبیداللہ (عمری) سے مروی ہے کہ (انہوں نے کہا:) نافع نے مجھے بتایا۔ حضرت عبداللہ (بن عمرؓ) سے روایت ہے۔ انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: رات کو اپنی آخری نماز وتر رکھا کرو۔
(تشریح)اسماعیل (بن ابی اویس) نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ابوبکر بن عمر بن عبدالرحمن بن عبداللہ بن عمر بن خطاب سے، انہوں نے سعید بن یسار سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے ساتھ مکہ کے راستہ میں سفر کرتا تھا۔ سعید نے کہا: جب مجھے صبح ہونے کا اندیشہ ہوا تو میں نے (سواری سے) اُتر کر نماز وتر پڑھی۔ پھر ان سے جا ملا۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے کہا: آپ کہاں تھے۔ میں نے کہا: صبح ہونے کا مجھے اندیشہ ہوا تو میں نے اتر کر نماز وتر پڑھی۔ حضرت عبداللہؓ نے کہا: کیا تمہارے لئے رسول اللہ ﷺ میں اسوئہ حسنہ نہیں ہے۔ میں نے کہا: بخدا کیوں نہیں۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ تو اونٹ پر سوار رہ کر وتر پڑھ لیا کرتے تھے۔
(تشریح)