بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 505 hadith
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (بن سعید قطان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے شعبہ اور سفیان (ثوری) سے، ان دونوں نے (سلیمان) اعمش سے، اعمش نے ابراہیم (نخعی) سے، ابراہیم نے ابو معمر سے، ابو معمر نے حضرت ابن مسعودؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں چاند پھٹ کر دو ٹکڑے ہوگیا۔ ایک ٹکڑا پہاڑ کے اُوپر، دوسرا اس کے سامنے مقابل میں۔ رسول اللہ ﷺ نے (دیکھ کر) فرمایا: دیکھو گواہ رہنا۔
علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ (عبداللہ) ابن ابی نجیح نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے مجاہد سے، مجاہد نے ابومعمر سے، ابومعمر نے حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: چاند پھٹا اور ہم اس وقت نبی ﷺ کے ساتھ تھے اور وہ دو ٹکڑے ہوگیا تھا۔ آپؐ نے ہم سے فرمایا: دیکھو گواہ رہنا، گواہ رہنا۔
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: بکر (بن مضر) نے مجھے بتایا۔ بکر نے جعفر (بن ربیعہ) سے، جعفر نے عراک بن مالک سے، عراک نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے، عبیداللہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے فرمایا: نبی ﷺ کے زمانہ میں چاند پھٹا تھا۔
عبداللہ بن محمد (مسندی) نے ہم سے بیان کیا کہ یونس بن محمد (بغدادی) نے ہمیں بتایا۔ شیبان (نحوی) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: مکہ والوں نے مطالبہ کیا کہ اُنہیں کوئی نشان دکھایا جائے۔ تو اللہ نے ان کو چاند کے پھٹنے کا نشان دکھلایا۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (بن سعید قطان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے شعبہ سے، شعبہ نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت انسؓ سے روایت کی۔ انہوں نے فرمایا: چاند پھٹ کر دو ٹکڑے ہوگیا تھا۔
(تشریح)حفص بن عمر نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابواسحاق (سبیعی) سے، ابواسحاق نے اسود (بن یزید) سے، اسود نے حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ یوں پڑھا کرتے تھے: فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ یعنی تو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے؟
(تشریح)مسدد نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے یحيٰ (بن سعید قطان) سے، یحيٰ نے شعبہ سے، شعبہ نے ابو اسحاق سے، ابو اسحاق نے اسود سے، اسود نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے، حضرت عبداللہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپؐ یوں پڑھا کرتے تھے: فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ یعنی تو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے؟
ابو نعیم نے ہم سے بیان کیا کہ زُہیر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابو اسحاق سے روایت کی۔ انہوں نے ایک شخص کو سنا جو اَسود سے پوچھ رہا تھا: کیا یہ آیت فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ ہے یا مُذَّكِرٍ۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت عبداللہؓ کو یہ آیت یوں پڑھتے سنا: فَہَلۡ مِنۡ مُّدَّکِرٍ (حضرت عبداللہ بن مسعودؓ) کہتے تھے: اور میں نے نبی ﷺ کو اسے دال سے پڑھتے سنا: فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ یعنی کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے؟
عبدان نے ہم سے بیان کیا کہ میرے باپ (عثمان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے شعبہ سے، شعبہ نے ابواسحاق سے، ابواسحاق نے اسود سے، اسود نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے، حضرت عبداللہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپؐ نے یوں پڑھا: فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ (کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے؟)
محمد (بن بشار) نے ہم سے بیان کیا کہ غندر نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے ابواسحاق سے، ابواسحاق نے اسود سے، اسود نے حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) سے، حضرت عبداللہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپؐ نے یوں پڑھا: فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ ۰۰ یعنی کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے؟