بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 525 hadith
عبداللہ بن عبدالوہاب نے ہمیں بتایا کہ عبدالوہاب (بن عبدالمجید ثقفی) نے ہم سے بیان کیا کہ ایوب (سختیانی) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے محمد (بن سیرین) سے، ابن سیرین نے حضرت انس بن مالکؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک آدمی آیا، کہنے لگا: گدھے کھا لیے گئے۔ آپؐ یہ سن کر خاموش رہے۔ پھر وہ آپؐ کے پاس دوبارہ آیا اور کہنے لگا: گدھے کھا لئے گئے۔ آپؐ خاموش رہے۔ پھر وہ آپؐ کے پاس تیسری دفعہ آیا اور کہنے لگا: گدھوں کا صفایا کردیا گیا ہے۔ تب آپؐ نے ایک منادی سے فرمایا: اور اس نے لوگوں میں منادی کی کہ اللہ اور اس کا رسول تمہیں پالے ہوئے گدھوں کا گوشت کھانے سے منع کرتے ہیں۔ یہ سن کر ہانڈیاں انڈیل دی گئیں جبکہ وہ گوشت سے اُبل رہی تھیں۔
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ثابت سے، ثابت نے حضرت انسؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے صبح کی نماز ابھی کچھ اندھیرا ہی تھا، خیبر کے قریب پڑھی۔ پھر آپؐ نے فرمایا: اللہ سب سے بڑا ہے۔ خیبر برباد ہوگیا۔ جب ہم کسی قوم کے آنگن میں اُترتے ہیں تو اُن لوگوں کی صبح بُری ہوتی ہے جو قبل از وقت خطرے سے آگاہ کر دئے گئے ہوں۔ خیبر کے باشندے نکل کر گلیوں میں دوڑنے لگے اور نبی ﷺ نے لڑنے والوں کو قتل کیا اور بال بچے قید کر لئے اور اُن جنگی قیدیوں میں حضرت صفیہؓ تھیں جو حضرت دحیہ کلبیؓ کے حصہ میں آئیں۔ پھر اس کے بعد وہ نبی ﷺ کے پاس آگئیں اور آپؐ نے اُن کی آزادی ہی ان کا مہر قرار دیا (اور اُن سے نکاح کرلیا۔) عبدالعزیز بن صُہَیب نے ثابت سے پوچھا: ابومحمد! کیا تم نے حضرت انسؓ سے پوچھا تھا کہ آپؐ نے حضرت صفیہؓ کو کیا مہر دیا؟ ثابت نے اپنا سر اُن کی تصدیق میں ہلایا (یعنی ہاں میں نے پوچھا تھا۔)
آدم (بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ (بن حجاج) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبدالعزیز بن صہیب سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا۔ کہتے تھے: نبی ﷺ نے حضرت صفیہؓ کو (جنگ میں) قید کیا۔ پھر آپؐ نے انہیں آزاد کرکے ان سے نکاح کر لیا۔ ثابت نے حضرت انسؓ سے پوچھا: آپؐ نے ان کو کیا مہر دیا؟ انہوں نے جواب دیا: آپؐ نے ان کی ذات ہی ان کے مہر میں دی یعنی آپؐ نے ان کو آزاد کر دیا۔
قتیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ یعقوب (بن عبدالرحمٰن) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوحازم سے، ابوحازم نے حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ اور مشرکوں کا مقابلہ ہوا اور وہ لڑے۔ جب رسول اللہ ﷺ اپنے لشکر کی طرف اور دوسرے (مدمقابل) اپنے لشکر کی طرف لَوٹے، رسول اللہ ﷺ کے صحابہؓ میں ایک شخص (قزمان ابوالغیداق) تھا جو کفار کے کسی اِکّے دُکّے کو نہ چھوڑتا۔ اس کا ضرور ہی پیچھا کرتا اور اپنی تلوار سے اسے گھائل کر دیتا۔ لوگوں نے کہا: ہم میں سے آج کسی نے بھی ایسا حق ادا نہ کیا جیسا کہ فلاں نے۔ )یہ سن کر( رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مگر باوجود اس کے وہ دوزخی ہے۔ مسلمانوں میں سے ایک شخص نے کہا: میں اس کے ساتھ رہتا ہوں۔ حضرت سہلؓ کہتے تھے: یہ کہہ کر وہ اس کے پیچھے ہو گیا۔ جب وہ ٹھہر جاتا، وہ بھی ٹھہر جاتا اور جب وہ جلدی چلتا تو وہ بھی جلدی چلتا۔ کہتے تھے کہ آخر وہ شخص (قزمان) سخت زخمی ہوا اور زخموں کی تاب نہ لاکر جلد مر جانے کے لئے اپنی تلوار زمین پر ٹیکی اور اس کی اَنّی (یعنی نوک) اپنے سینے کے درمیان رکھ کر تلوار پر جھکا اور اس پر بوجھ ڈالا اور اس طرح اپنے آپ کو مار ڈالا۔ یہ دیکھ کر (نگرانی کرنے والا) وہ شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس گیا اور کہا: میں شہادت دیتا ہوں کہ آپؐ اللہ کے رسول ہیں۔ آپؐ نے پوچھا: کیا بات ہے؟ کہنے لگا: وہ شخص جس کا ابھی آپؐ نے ذکر کیا تھا کہ وہ دوزخی ہے اور لوگوں پر یہ بات شاقّ گزری تھی، میں نے کہا: میں تمہارے لئے اس کی خبر لاتا ہوں۔ یہ کہہ کر میں اس کے پیچھے چل دیا۔ (میں نے دیکھا کہ) آخر وہ سخت زخمی ہوا اور جلد مرنے کے لئے اس نے اپنی تلوار کا دستہ زمین پر ٹیکا اور اس کی نوک اپنے سینے کے درمیان رکھی پھر اس پر جھک کر بوجھ ڈالا اور اس طرح اس نے اپنے آپ کو مار ڈالا۔ نبی ﷺ نے اس وقت فرمایا: کبھی آدمی جنتیوں کے کام کرتا ہوا لوگوں کو نظر آتا ہے حالانکہ وہ دوزخی ہوتا ہے اور کبھی ایک آدمی ظاہر میں دوزخی نظر آتا ہے اور کام بھی دوزخیوں والے کرتا ہے لیکن درحقیقت وہ جنتیوں میں سے ہوتا ہے۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے روایت کی کہ انہوں نے کہا کہ سعید بن مسیب نے مجھے بتایا کہ حضرت ابوہریرہؓ نے کہا: ہم جنگ خیبر میں شریک ہوئے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان لوگوں میں سے جو آپؐ کے ساتھ تھے ایک شخص کی نسبت جو اسلام کا دعویٰ کرتا تھا، فرمایا: یہ دوزخیوں میں سے ہے۔ جب لڑائی شروع ہوئی وہ شخص نہایت سختی سے لڑا یہاں تک کہ اس کو بہت زخم آئے اور قریب تھا کہ بعض لوگ اس بارے میں (آنحضرتﷺ کے اشارے کے متعلق) شک میں پڑ جائیں (مگر) اس شخص نے (جب) زخموں کی درد محسوس کی تو اُس نے اپنے ترکش کی طرف ہاتھ جھکا کر اُس سے تیر نکالے اور ان سے خودکشی کرلی۔ یہ دیکھ کر مسلمانوں میں سے کچھ لوگ دوڑتے ہوئے گئے اور کہنے لگے: یارسول اللہ! اللہ نے آپؐ کی بات سچی کی، فلاں شخص نے خودکشی کرلی ہے۔ آپؐ نے کسی سے فرمایا: اُٹھو اور (لوگوں میں) اعلان کرو کہ جنت میں صرف وہی داخل ہوگا جو مومن ہوگا۔ اللہ کبھی اس دین کی مدد بدکار شخص کے ذریعہ بھی کردیتا ہے۔ (شعیب کی طرح) معمر نے بھی زُہری سے یہ روایت کی۔
اور شبیب نے یونس سے، یونس نے ابن شہاب سے روایت کرتے ہوئے یوں کہا: (سعید) بن مسیب اور عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب نے مجھے بتایا کہ حضرت ابوہریرہؓ نے کہا: ہم نبی ﷺ کے ساتھ حنین کی جنگ میں شریک ہوئے۔ اور (عبداللہ) بن مبارک نے یونس سے، یونس نے زہری سے، زہری نے سعید (بن مسیب) سے، سعید نے نبی ﷺ سے یہ حدیث (مرسلًا) روایت کی ہے اور (عبداللہ بن مبارک کی طرح) صالح (بن کیسان) نے بھی زُہری سے یہ روایت نقل کی اور (محمد بن ولید) زبیدی نے کہا کہ زہری نے مجھے بتایا کہ عبدالرحمٰن بن کعب نے ان کو خبر دی کہ عبیداللہ بن کعب نے کہا: مجھے اس نے خبر دی جو نبی ﷺ کے ساتھ جنگ خیبر میں موجود تھا۔ زہری نے کہا: مجھ سے عبیداللہ بن عبداللہ اور سعید (بن مسیب) نے نبی ﷺ سے (مرسلًا) یہ روایت بیان کی۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالواحد (بن زیاد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عاصم (احوَل) سے، عاصم نے ابوعثمان (نہدی) سے، انہوں نے حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے جب خیبر پر حملہ کیا یا یوں کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے جب (خیبر کا) رُخ کیا تو لوگ ایک وادی کے کنارے پر پہنچے، انہوں نے اپنی آوازیں تکبیر سے بلند کیں یعنی اَللهُ اَکْبَر، اَللهُ اَکْبَر، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللهُ کہنا شروع کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آہستہ آواز سے کہو، تم کسی بہرے کو نہیں بلا رہے اور نہ کسی غیر حاضر کو، تم تو اُس کو بلا رہے ہو جو بہت سننے والا اور قریب ہے اور وہ تمہارے ساتھ ہے اور میں اس وقت رسول اللہ ﷺ کی سواری کے پیچھے ہی تھا۔ آپؐ نے مجھے سن لیا اور میں کہہ رہا تھا: لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللهِ۔ آپؐ نے مجھے فرمایا: عبداللہ بن قیس! میں نے کہا: حاضر ہوں یا رسول اللہ! آپؐ نے فرمایا: کیا میں تمہیں اس کلمہ کا پتہ نہ دوں جو جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپؐ پر قربان ہوں۔ آپؐ نے فرمایا: لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللهِ یعنی نہ بدی سے بچنے کی طاقت ہے اور نہ نیکی کرنے کی قوت مگر اللہ کی ہی توفیق سے۔
مکی بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ یزید بن ابی عبید نے ہمیں بتایا، کہا: میں نے حضرت سلمہ (بن اکوَعؓ) کی پنڈلی میں ایک زخم کا نشان دیکھا۔ میں نے پوچھا: ابومسلم! یہ زخم کیسا ہے؟ کہنے لگے: یہ وہ زخم ہے جو مجھے خیبر کی جنگ میں لگا تھا۔ لوگ کہنے لگے: سلمہ مارا گیا۔ میں نبی ﷺ کے پاس آیا۔ آپؐ نے اس پر تین بار پھونکیں ماریں پھر اَب تک اس ضرب کی مجھے کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔
عبداللہ بن مسلمہ (قعنبی) نے ہم سے بیان کیا کہ (عبدالعزیز) بن ابی حازم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ (سلمہ بن دینار) سے، انہوں نے حضرت سہل (بن سعد ساعدیؓ) سے روایت کی، کہا: نبی ﷺ اور مشرکوں کا ایک جنگ میں مقابلہ ہوا۔ چنانچہ لڑائی شروع ہوئی۔ پھر فریقین اپنے اپنے لشکر میں لَوٹ گئے۔ مسلمانوں میں ایک شخص تھا جو مشرکوں میں سے کسی اِکّے دُکّے کو نہ چھوڑتا، ضرور ہی اس کا پیچھا کرتا اور اس کو تلوار سے گھائل کر دیتا۔ کسی نے کہا: یارسول اللہ! فلاں نے جو حق ادا کیا ہے (ان میں سے) کسی نے نہیں کیا۔ آپؐ نے فرمایا: وہ تو دوزخیوں میں سے ہے۔ لوگوں نے کہا: اگر یہ دوزخیوں میں سے ہوا تو پھر ہم میں سے کون جنتی ہوگا؟ مسلمانوں میں سے ایک شخص نے کہا: میں تو ضرور اس کے پیچھے پیچھے رہوں گا، جب وہ تیز ہو جاتا یا آہستہ ہو جاتا تو مَیں اس کے ساتھ ہی ہوتا۔ آخر وہ شخص زخمی ہوا (اور تکلیف برداشت نہ کرسکا۔) اس نے جلد مر جانے کے لئے یہ تجویز کی کہ اپنی تلوار کی مٹھ کو زمین پر رکھا اور اس کی اَنّی (یعنی نوک) اپنے سینے کے درمیان ٹکائی۔ پھر اس پر جھک کر پورا بوجھ ڈالا اور اس طرح اپنے آپ کو مار ڈالا۔ وہ (نگرانی کرنے والا) شخص نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ آپؐ اللہ کے رسول ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: کیا بات ہے؟ اس نے آپؐ کو سارا واقعہ بتایا۔ آپؐ نے (سن کر) فرمایا: ایک آدمی جیسا کہ لوگوں کو دکھائی دیتا ہے جنتیوں کا کام کر رہا ہوتا ہے حالانکہ وہ دوزخیوں میں سے ہوتا ہے اور ایک آدمی جیسا کہ لوگوں کو دکھائی دیتا ہے دوزخیوں کے کام کر رہا ہوتا ہے حالانکہ وہ جنتیوں میں سے ہوتا ہے۔
محمد بن سعید خزاعی نے ہم سے بیان کیا کہ زیاد بن ربیع نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوعمران (عبدالملک بن حبیب) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت انسؓ نے بعض لوگوں کو جمعہ کے دن دیکھا جو طیلسان (کن ٹوپ) پہنے نظر آئے، بولے: یہ اس وقت ایسے معلوم ہوتے ہیں جیسے خیبر کے یہودی۔