بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 525 hadith
عبداللہ بن مسلمہ (قعنبی) نے ہم سے بیان کیا کہ حاتم (بن اسماعیل) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یزید بن ابی عُبَید سے، انہوں نے حضرت سلمہ (بن اکوَع) ؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت علیؓ غزوۂ خیبر میں نبی ﷺ سے پیچھے رہ گئے تھے کیونکہ ان کی آنکھیں دُکھ رہی تھیں۔ کہنے لگے: میں نبی ﷺ کے پیچھے رہ جاؤں؟ (یہ کیسے ہوسکتا ہے) آخر وہ آنحضرت ﷺ سے آملے۔ جب ہم نے وہ رات گزاری جس کی صبح کو خیبر فتح ہوا تو آپؐ نے (اس رات) فرمایا: میں کل عَلَم اس شخص کو دوں گا یا (فرمایا:) جھنڈا وہ شخص سنبھالے گا جس سے اللہ اور اس کا رسول محبت رکھتے ہیں۔ اس کے ہاتھ پر خیبر فتح ہوگا۔ (یہ سن کر) ہم سب اس کی امید رکھنے لگے۔ لوگوں نے آپؐ سے کہا: یہ علیؓ آپہنچے ہیں۔ تب آپؐ نے جھنڈا اُن کو دیا اور اُن کے ہاتھ پر خیبر فتح ہوا۔
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ یعقوب بن عبدالرحمٰن نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوحازم سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا کہ جس دن خیبر کی جنگ ہوئی، (اس دن) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں یہ عَلَم کل ایسے شخص کو دوں گا جس کے ہاتھ پر اللہ فتح کر دے گا، وہ اللہ اور اس کے رسولؐ سے محبت رکھتا ہے اور اللہ اور اس کا رسولؐ بھی اس سے محبت رکھتے ہیں۔ لوگ رات بھر باتیں کرتے رہے کہ (دیکھیں) ان میں سے کس کو عَلَم دیا جائے گا۔ جب لوگ صبح اُٹھے، رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے۔ ان میں سے ہر شخص یہی امید رکھتا تھا کہ جھنڈا اُسے دیا جائے گا۔ آپؐ نے پوچھا: علی بن ابی طالب ؓ کہاں ہیں؟ آپؐ سے کہا گیا: یا رسول اللہ! وہ آشوبِ چشم سے بیمار ہیں۔ حضرت سہلؓ کہتے تھے: آپؐ نے ان کو بلوا بھیجا۔ وہ آگئے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کی آنکھوں میں لعاب لگایا اور ان کے لئے دعا کی۔ وہ ایسے تندرست ہو گئے کہ گویا انہیں درد تھا ہی نہیں۔ آپؐ نے ان کو عَلَم دیا۔ حضرت علی ؓ کہنے لگے: یا رسول اللہ! کیا میں ان سے اس وقت تک جنگ کرتا رہوں کہ وہ ہمارے جیسے ہو جائیں؟ آپؐ نے فرمایا: آہستگی سے سنبھل کر چلے جائیں یہاں تک کہ جب ان کے آنگن میں ڈیرہ لگائیں تو پھر ان کو اسلام کی دعوت دیں اور انہیں بتائیں اللہ کے جو حقوق ان پر واجب ہیں۔ اللہ کی قسم! آپؓ کے ذریعہ اللہ ایک شخص کو بھی راہ راست پر لے آئے تو یہ امر آپؓ کے لئے اس سے بہتر ہے کہ آپؓ کو (بہت سے) سرخ اونٹ مل جائیں۔
عبدالغفار بن داؤد نے ہم سے بیان کیا کہ یعقوب بن عبدالرحمٰن نے ہمیں بتایا۔ اور احمد بن عیسیٰ نے بھی مجھے بتایا کہ (عبداللہ) بن وہب نے ہم سے بیان کیا، کہا: یعقوب بن عبدالرحمٰن زُہری نے مجھے بتایا۔ زُہری نے مطلب (بن عبداللہ) کے غلام عمرو سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ہم خیبر میں آئے جب اللہ نے آپؐ کے لئے قلعہ فتح کرا دیا تو آپؐ سے حضرت صفیہ بنت حي بن اخطبؓ کی خوبصورتی کا ذکر کیا گیا۔ ان کا خاوند مارا گیا تھا اور وہ ابھی دلہن تھیں۔ نبی ﷺ نے ان کو اپنے لئے پسند کیا اور ان کو اپنے ساتھ لے کر (خیبر سے) نکلے۔ جب ہم سد صہباء پہنچے وہ حیض سے پاک ہوئیں اور وہاں رسول اللہ ﷺ نے ان سے شادی کی اور ایک چھوٹے سے دسترخوان پر حیس (کھجور اور ستو کا ملیدہ) تیار کروا کر رکھوایا۔ پھر آپؐ نے مجھے فرمایا: جو تمہارے آس پاس ہوں انہیں اطلاع دو۔ چنانچہ حضرت صفیہؓ کی شادی میں آپؐ کا یہی ولیمہ تھا۔ پھر ہم مدینہ کی طرف روانہ ہوئے اور میں نے نبی ﷺ کو دیکھا۔ آپؐ حضرت صفیہؓ کے لئے اپنے پیچھے عباء کو لپیٹ کر گدا بناتے۔ پھر اپنے اونٹ کے قریب بیٹھ جاتے اور اپنے گھٹنے کو آگے جھکا دیتے اور حضرت صفیہؓ اپنا پاؤں آپ کے گھٹنے پر رکھ کر سوار ہو جاتیں۔
اسماعیل (بن ابی اویس) نے ہم سے بیان کیا، کہا: میرے بھائی (عبدالحمید) نے مجھے بتایا، انہوں نے سلیمان (بن بلال) سے، سلیمان نے یحيٰ (بن سعید انصاری) سے، یحيٰ نے حمید طویل سے روایت کی۔ انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی ﷺ خیبر کے راستے میں (مدینہ اور خیبر کے درمیان) تین دن ٹھہرے جن میں حضرت صفیہ بنت حيؓ کی خاطرداری منظور تھی اور اس کے بعد ان سے شادی کی اور وہ بھی ان عورتوں میں سے تھیں جن کے لئے (الگ) پردہ کا انتظام کیا گیا تھا۔
سعید بن ابی مریم نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن جعفر بن ابی کثیر نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے کہا: حُمَید نے مجھے بتایا کہ انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا۔ کہتے تھے: نبی ﷺ نے خیبر اور مدینہ کے درمیان تین رات قیام فرمایا جس میں حضرت صفیہؓ کا رُخصتانہ ہوا اور میں نے مسلمانوں کو آپؐ کے ولیمہ میں بلایا اور اس ولیمہ میں نہ روٹی تھی نہ گوشت۔ صرف یہی کہ آپؐ نے حضرت بلالؓ کو دسترخوان بچھانے کے لئے فرمایا جو بچھائے گئے۔ پھر آپؐ نے ان پر کھجوریں، پنیر اور گھی رکھ دیا۔ مسلمان کہنے لگے: آیا حضرت صفیہؓ بھی امہات المومنین میں سے ہیں یا لونڈی جو (جائز طور پر) آپؐ کے قبضہ میں آئی ہیں؟ لوگوں نے کہا: اگر آپؐ نے ان کو پردہ میں رکھا تو امہات المؤمنین میں سے ہوں گی اور اگر پردے میں نہ رکھا تو پھر وہ کنیز ہیں جو جائز طور پر آپؐ کے قبضہ میں آئی ہیں۔ جب آپؐ نے کوچ کا قصد کیا تو اپنے پیچھے (اونٹ پر) حضرت صفیہؓ کی نشست کے لئے نرم جگہ بنائی اور پردہ تان دیا۔
ابوالولید (ہشام بن عبدالملک) نے ہمیں بتایا کہ شعبہ (بن حجاج) نے ہم سے بیان کیا۔ اور عبداللہ بن محمد (مسندی) نے بھی مجھے بتایا کہ وہب (بن جریر) نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حمید بن ہلال سے، حمید نے حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ہم خیبر کا محاصرہ کئے ہوئے تھے، ایک آدمی نے ایک تھیلا پھینک دیا جس میں چربی تھی۔ میں اس کو لینے کے لئے کود کر لپکا۔ اتنے میں مڑ کر جو دیکھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ نبیؐ کھڑے ہیں، میں شرمندہ ہوگیا۔
عبید بن اسماعیل نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ابواسامہ سے، انہوں نے عبیداللہ سے، عبیداللہ نے نافع اور سالم سے، ان دونوں نے حضرت (عبداللہ) بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوۂ خیبر میں لہسن کھانے سے اور پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔ آپؐ نے لہسن کھانے سے منع فرمایا، یہ خبر صرف نافع سے مروی ہے اور پالتو گدھوں کا گوشت کھانے کی ممانعت سالم سے۔
یحيٰ بن قزعہ نے مجھ سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عبداللہ اور حسن سے جو محمد بن علی کے بیٹے تھے۔ ان دونوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے دن عورتوں کے ساتھ متعہ کرنے اور پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے روک دیا۔
محمد بن مقاتل نے مجھ سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبر دی کہ عبیداللہ بن عمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے (حضرت عبداللہ) بن عمرؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوۂ خیبر کے اثناء پالتو گدھوں کا گوشت کھانے کی ممانعت فرما دی۔
اسحاق بن نصر نے مجھے بتایا کہ محمد بن عبید نے ہم سے بیان کیا کہ عبیداللہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع اور سالم سے، دونوں نے (حضرت عبداللہ) بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے روک دیا۔