بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 525 hadith
اور ابن اسحاق نے اتنا اور بیان کیا کہ (عبداللہ) بن ابی نجیح اور ابان بن صالح نے مجھے بتایا۔ انہوں نے عطاء اور مجاہد سے، ان دونوں نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے عمرۂ قضاء میں حضرت میمونہؓ سے شادی کی تھی۔
(تشریح)احمد (بن صالح) نے ہم سے بیان کیا کہ (عبداللہ) ابن وہب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو (بن حارث انصاری) سے۔ عمرو نے (سعید) بن ابی ہلال سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: اور نافع نے مجھے خبر دی کہ حضرت ابن عمرؓ نے ان کو بتایا کہ وہ غزوۂ موتہ کے دن حضرت جعفرؓ کے پاس کھڑے تھے جبکہ وہ شہید ہو کر زمین پر پڑے تھے۔ (انہوں نے کہا:) میں نے ان پر پچاس نیزے کے زخم اور تلوار کے گھاؤ گنے اور ان زخموں میں سے کوئی زخم بھی ان کی پیٹھ پر یعنی ان کی پشت پر نہ تھا۔
احمد بن ابی بکر نے ہمیں خبر دی کہ مغیرہ بن عبدالرحمٰن نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبداللہ بن سعید سے، عبداللہ نے نافع سے، نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: غزوۂ موتہ میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت زید بن حارثہؓ کو امیر مقرر کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر زیدؓ مارے جائیں تو جعفرؓ امیر ہوں اور اگر وہ مارے جائیں تو عبداللہ بن رواحہؓ۔ حضرت عبداللہ (بن عمرؓ) کہتے تھے کہ میں اس جہاد میں ان کے ساتھ تھا۔ ہم نے حضرت جعفر بن ابی طالبؓ کی تلاش کی تو ہم نے ان کو مقتولوں میں پایا اور جو زخم ان کے جسم میں تھے ہم نے ان کو نوے سے کچھ اوپر پایا، جو بھالے اور تیر کے زخم تھے۔
احمد بن واقد نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب (سختیانی) سے، ایوب نے حمید بن ہلال سے، انہوں نے حضرت انسؓ سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے حضرت زیدؓ، حضرت جعفرؓ اور حضرت ابن رواحہؓ کے شہید ہوجانے کی خبر لوگوں کو سنائی، اس سے پہلے کہ ابھی تک کوئی خبر نہیں آئی تھی۔ آپؐ نے فرمایا: زیدؓ نے عَلَم لیا اور وہ شہید ہوئے۔ پھر جعفرؓ نے لیا، وہ بھی شہید ہوئے۔ پھر (عبداللہ) بن رواحہؓ نے لیا وہ بھی شہید ہوئے اور آپؐ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ (فرمایا:) پھر عَلَم اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار نے لیا۔ آخر اللہ نے اس کے ذریعہ فتح دی۔
قتیبہ (بن سعید) نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوہاب (بن عبدالمجید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: میں نے یحيٰ بن سعید (انصاری) سے سنا۔ انہوں نے کہا: عمرہ (بنت عبدالرحمٰن) نے مجھے بتایا۔ کہتی تھیں: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا۔ کہتی تھیں کہ جب (زید) بن حارثہ، جعفر بن ابی طالب اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم کی شہادت کی خبر پہنچی تو رسول اللہ ﷺ بیٹھ گئے۔ آپؐ کے چہرے سے غم نمایاں تھا۔ حضرت عائشہؓ کہتی تھیں: اور میں دروازے کی دراڑ میں سے جھانک رہی تھی۔ ان کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! جعفر کی عورتیں (تو یہ کچھ کر رہی ہیں) اور اس نے ان کے رونے کا ذکر کیا تو آپؐ نے اس سے فرمایا کہ ان کو روک دے۔ (یحيٰ بن سعید) کہتے تھے۔ وہ شخص چلا گیا۔ پھر کچھ دیر کے بعد آیا اور کہنے لگا: میں نے ان کو روک دیا تھا اور اس نے بیان کیا کہ انہوں نے اس کی بات نہیں مانی۔ کہتے تھے کہ آپؐ نے اس کو پھر ویسے ہی فرمایا: وہ گیا اور پھر آیا۔ کہنے لگا: اللہ کی قسم! ہم کو تو ان عورتوں نے عاجز کر دیا ہے۔ حضرت عائشہؓ کہتی تھیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ان کے منہ میں مٹی ڈال۔ حضرت عائشہؓ کہتی تھیں: میں نے کہا: اللہ تیرا بھلا کرے۔ نہ تم بخدا (عورتوں کو) روک سکے اور نہ تم رسول اللہ ﷺ کو تکلیف دینے سے باز رہے۔
محمد بن ابی بکر نے مجھ سے بیان کیا کہ عمر بن علی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسماعیل بن ابی خالد سے، اسماعیل نے عامر (شعبی) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: (حضرت عبداللہ) بن عمرؓ جب (عبداللہ) بن جعفرؓ کو سلام کرتے تو یہ کہتے: اے دو پنکھ والے کے بیٹے، تم پر سلامتی ہو۔
ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسماعیل (بن ابی خالد) سے، اسماعیل نے قیس بن ابی حازم سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت خالد بن ولیدؓ سے سنا۔ کہتے تھے کہ موتہ کی جنگ میں میرے ہاتھ میں نو تلواریں ٹوٹیں اور صرف ایک یمنی تیغ ہی میرے ہاتھ میں رہ گئی۔
محمد بن مثنیٰ نے مجھ سے بیان کیا کہ یحيٰ (بن سعید قطان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسماعیل (بن ابی خالد) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: قیس (بن ابی حازم) نے مجھ سے بیان کیا، کہا: میں نے حضرت خالد بن ولیدؓ سے سنا۔ کہتے تھے: موتہ کی جنگ میں میرے ہاتھ میں نو تلواریں ٹکڑے ٹکڑے ہوئیں اور ایک میری یمنی تیغ ہی آخر تک میرے ہاتھ میں رہی۔
عمران بن میسرہ نے مجھ سے بیان کیا کہ محمد بن فضیل نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حصین (بن عبدالرحمٰن) سے، حصین نے عامر (شعبی) سے، عامر نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت عبداللہ بن روحہؓ (ایک بار بیماری سے) بیہوش ہوگئے تھے اور ان کی بہن عمرہؓ یوں بَین کرکے رونے لگی۔ ہائے پہاڑ، ہائے وہ ایسا، ہائے وہ ایسا، ان کی تعریفیں بیان کرنے لگی۔ جب وہ ہوش میں آئے تو انہوں نے کہا: جو کچھ بھی تو کہتی تھی تو اس کے مقابل میں مجھ سے یہ کہا جاتا: کیا واقعہ میں تو ایسا ہی ہے (جیسے یہ بیان کرتی ہے۔)
قتیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ عبثر (بن قاسم کوفی) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے حصین سے، حصین نے شعبی سے، شعبی نے حضرت نعمان بن بشیرؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت عبداللہ بن رواحہؓ بیہوش ہوگئے۔ پھر یہی واقعہ جو اوپر گزر چکا ہے، بیان کیا۔ مگر جب وہ فوت ہوئے تو (اُن کی بہن) اُن پر نہیں روئی۔
(تشریح)