بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 525 hadith
عمرو بن محمد (بغدادی) نے مجھ سے بیان کیا کہ ہشیم نے ہمیں بتایا کہ حصین نے ہمیں خبر دی کہ ابوظبیان (حصین بن جندب) نے ہمیں بتایا، کہا: میں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے سنا۔ کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ نے قبیلہ حُرقہ کی طرف ہمیں بھیجا۔ ہم نے صبح سویرے اس قوم پر حملہ کیا اور انہیں شکست دے کر بھگا دیا اور میں نے اور ایک انصاری مرد نے اُن میں سے ایک شخص کا پیچھا کیا۔ جب ہم نے اس کو گھیر لیا تو وہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ کہنے لگا۔ یہ سن کر انصاری تو رُک گیا اور میں نے اپنے نیزہ سے اُس کو زخمی کیا اور مار ڈالا۔ جب ہم آئے تو نبی کریم ﷺ کو یہ خبر پہنچی تو آپؐ نے فرمایا: اُسامہ! کیا تم نے اُسے مار ڈالا بعد اس کے کہ اس نے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ کا اقرار کیا۔ میں نے کہا: وہ اپنا بچاؤ کر رہا تھا۔ مگر آپؐ وہی بات دُہراتے رہے۔ یہاں تک کہ میں نے آرزو کی کہ کاش میں اس دن سے پہلے مسلمان نہ ہوا ہوتا۔
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ حاتم (بن اسماعیل) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یزید بن ابی عبید سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت سلمہ بن اکوعؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے کہ میں نبی ﷺ کے ساتھ سات مہموں میں نکلا اور جو دستے آپؐ روانہ فرماتے تھے ایسے دستوں کے ساتھ میں نو مہموں میں نکلا۔ ایک بار حضرت ابوبکرؓ ہم پر سردار تھے اور ایک بار اُسامہ بن زیدؓ۔
عمر بن حفص بن غیاث (شیخ بخاری) نے کہا کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یزید بن ابی عبید سے روایت کی۔ یزید نے کہا: میں نے حضرت سلمہ (بن اکوعؓ) سے سنا۔ کہتے تھے کہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ سات مہموں میں نکلا اور جو دستے آپؐ روانہ فرمایا کرتے تھے، میں ایسے دستوں میں سے نو مہموں میں گیا۔ ایک بار حضرت ابوبکرؓ ہم پر سردار تھے اور ایک بار اسامہؓ۔
ابو عاصم ضحاک بن مخلد نے ہم سے بیان کیا کہ یزید (بن ابی عبید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ حضرت سلمہؓ نے کہا: میں نبی ﷺ کے ساتھ نَو مہموں میں نکلا اور (اسامہ بن زیدؓ) بن حارثہ کے ساتھ بھی ایک مہم میں گیا تھا۔ نبی کریم ﷺ نے انہیں ہمارا سالار مقرر کیا۔
محمد بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن مسعدہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یزید بن ابی عبید سے، انہوں نے حضرت سلمہ بن اکوعؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ سات مہموں میں نکلا اور یہ کہہ کر انہوں نے خیبر، حدیبیہ، حنین اور قرد کی جنگ کا ذکر کیا۔ یزید نے کہا: اور اُن کی باقی (مہمات کا نام) میں بھول گیا ہوں۔
(تشریح)قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا کہ عمرو بن دینار سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: حسن بن محمد (بن علی) نے مجھے خبر دی کہ انہوں نے عبیداللہ بن ابی رافع سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سنا۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے مجھے زبیرؓ اور مقدادؓ کو بھیجا۔ آپؐ نے فرمایا: تم چلے جاؤ، یہاں تک کہ جب روضہ خاخ میں پہنچو تو وہاں ایک عورت ہودہ میں سوار ہوگی اس کے پاس ایک خط ہے وہ اس سے لے لو۔ کہتے تھے: ہم چل پڑے۔ ہمارے گھوڑے سر پٹ دوڑتے ہوئے ہمیں لے گئے۔ یہاں تک کہ ہم اس روضہ (باغ) میں پہنچے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ وہاں ایک سوار عورت ہے۔ ہم نے اسے کہا کہ خط نکالو۔ کہنے لگی: میرے پاس تو کوئی خط نہیں۔ ہم نے کہا: خط نکالنا ہوگا ورنہ ہم کپڑے اُتاریں گے۔ (حضرت علیؓ) نے کہا: (یہ سن کر) اس نے اپنے جُوڑے میں سے اسے نکالا۔ ہم وہ خط لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے۔ اس خط میں یہ مضمون تھا: حاطب بن ابی بلتعہ کی طرف سے مکہ کے چند مشرکوں کے نام۔ رسول اللہ ﷺ کے بعض ارادوں کے متعلق انہیں اطلاع دی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: حاطبؓ یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! میرے خلاف جلدی نہ فرمائیں۔ میں ایسا شخص ہوں جو باہر سے آکر قریش میں مل گیا تھا۔ ان کی مراد یہ تھی کہ میں ان کا حلیف تھا، اُن میں سے نہ تھا۔ اور جو آپؐ کے ساتھ مہاجر ہیں ان کے رشتہ دار مکہ میں موجود ہیں جو اُن کے گھر بار اور مال و متاع کو بچاتے ہیں۔ مجھے یہ بات حاصل نہیں۔ یعنی میرا اُن کے ساتھ رشتہ داری کا تعلق نہیں۔ تو میں نے چاہا کہ ان پر کوئی احسان کروں، جس کے ذریعہ سے وہ میرے رشتہ داروں کی حمایت کریں۔ دین سے مرتد ہوکر میں نے یہ بات نہیں کی۔ اسلام کے بعد کفر پسند نہیں کیا۔ (یہ سن کر) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دیکھو اس نے تم سے سچ بیان کیا ہے۔ حضرت عمرؓ نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے اس منافق کی گردن اڑانے دیجئے۔ آپؐ نے فرمایا: دیکھو وہ غزوہ بدر میں شریک ہوا ہے اور تمہیں کیا علم کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں جھانک کر دیکھا جو بدر میں شریک ہوئے اور فرمایا: جو چاہو کرو۔ میں نے تمہارے گناہوں سے پردہ پوشی کرکے تم سے درگذر کردیا ہے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے سورۂ (ممتحنہ کی یہ آیت) نازل کی: اے مومنو! میرے اور اپنے دشمنوں کو گہرا دوست نہ بنایا کرو۔ تم تو اُن کی طرف محبت کے پیغام بھیجتے ہو۔ حالانکہ وہ اس حق کے منکر ہیں جو تمہاری طرف آیا ہے۔ وہ تم کو بھی اور رسول کو بھی صرف اس لئے کہ تم سب اللہ پر جو تمہارا ربّ ہے ایمان لائے ہو، (لڑنے کے لئے گھروں سے) نکالتے ہیں۔ اگر تم میرے رستہ میں کوشش کرنے اور میری رضاجوئی کے لئے نکلو تو تم میں سے بعض چوری چوری ان کی طرف محبت کا پیغام بھیجتے ہیں اور میں خوب جانتا ہوں اس کو جو تم چھپاتے ہو اور جو ظاہر کرتے ہو اور جو کوئی تم میں سے ایسا کام کرے وہ سمجھ لے کہ وہ سیدھے رستہ سے بھٹک گیا۔
(تشریح)عبداللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہمیں بتایا کہ لیث (بن سعد) نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) عقیل (بن خالد) نے مجھے بتایا کہ ابن شہاب سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے مجھے خبر دی کہ حضرت ابن عباسؓ نے انہیں بتایا: رسول اللہ ﷺ نے رمضان میں غزوہ فتح (مکہ) کے لئے کوچ کیا۔ انہوں نے کہا: اور میں نے (سعید) ابن مسیب سے بھی سنا۔ وہ بھی اسی طرح کہتے تھے۔ اور عبید اللہ بن عبد اللہ سے مروی ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ ﷺ روزہ دار تھے۔ جب آپؐ کَدِید میں پہنچے یعنی اس پانی پر جو قُدَید اور عسفان کے درمیان ہے تو آپؐ نے روزہ افطار کیا۔ پھر روزہ نہیں رکھا، یہاں تک کہ وہ مہینہ گزر گیا۔
محمود (بن غیلان) نے مجھ سے بیان کیا کہ عبدالرزاق نے ہمیں بتایا۔ معمر نے ہمیں خبر دی، (کہا:) زُہری نے مجھے بتایا۔ انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ سے, عبیداللہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی ﷺ رمضان میں مدینہ سے نکلے اور آپؐ کے ساتھ دس ہزار آدمی تھے اور یہ کوچ مدینہ میں آپؐ کی آمد سے (پورے) ساڑھے آٹھ سال بعد ہوا اور جو مسلمان آپؐ کے ساتھ تھے، مکہ کو روانہ ہوئے۔ آپؐ بھی روزہ رکھتے اور وہ بھی۔ یہاں تک کہ جب آپؐ کَدِید میں پہنچے اور وہ ایک چشمہ ہے جو عسفان اور قُدَید کے درمیان ہے۔ وہاں آپؐ نے روزہ افطار کیا اور لوگوں نے بھی۔ زُہری نے کہا: نبی ﷺ کی اسی بات کو سنت بنایا جاتا ہے جو سب سے آخری ہو۔
عیاش بن ولید نے ہمیں بتایا کہ عبدالاعلیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ خالد (حذاء ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عکرمہ سے, عکرمہ نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ رمضان میں حُنین کی سمت نکلے اور لوگ مختلف حالت میں تھے۔ کوئی روزہ دار, کوئی بے روزہ۔ جب آپؐ اپنی سواری پر ٹھیک طرح بیٹھ گئے تو آپؐ نے دودھ یا پانی کا ایک برتن منگوایا اور اسے اپنی ہتھیلی پر یا (کہا:) سواری پر رکھا۔ پھر آپؐ نے لوگوں کی طرف دیکھا۔ جو بے روزہ تھے، وہ روزہ داروں سے کہنے لگے کہ اب تو روزہ کھول دو۔
اور عبدالرزاق نے کہا کہ معمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب سے, ایوب نے عکرمہ سے, عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ (انہوں نے یوں کہا:) جس سال مکہ فتح ہوا نبی ﷺ نکلے۔ اور حماد بن زید نے ایوب سے، ایوب نے عکرمہ سے, عکرمہ نے حضرت ابن عباسؓ سے, انہوں نے نبی ﷺ سے بیان کیا۔