بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 266 hadith
حضرت سراقہ بن جُعشمؓ نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! جو عمل کیا جاتا ہے کیا وہ اس لکھے ہوئے کے مطابق ہوتے ہیں جسے قلم لکھ کر خشک ہوگیا اور جس کے بارے میں تقدیریں جاری ہوچکی ہیں یا وہ لکھا ہوا ایسے امر کے متعلق ہے جو مستقبل میں ہونے والا ہے؟ حضورؐ نے فرمایا بلکہ اس کے مطابق ہے جسے قلم لکھ کر خشک ہوا اور اس پر تقدیریں جاری ہوگئیں اور ہر ایک کے لئے وہ میسر ہے جس کے لئے وہ پیدا کیا گیا ہے۔
حضرت جابر بن عبد اللہؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس امت کے مجوسی وہ لوگ ہیں جو اللہ کی تقدیروں کو جھٹلاتے ہیں۔ اگر وہ بیمار ہو جائیں تو ان کی عیادت نہ کرو۔ اگر وہ مر جائیں تو ان کے جنازے میں حاضر نہ ہو۔ اگر تمہاری ان سے ملاقات ہو تو ان کو سلام نہ کرو۔
حضرت عبد اللہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سنو! مَیں کسی بھی خلیل کی دوستی سے براء ت کا اظہار کرتا ہوں۔ اگر میں کسی کو خلیل بناتا تو ابو بکر ؓ کو بناتا۔ یقینا تمہارا صاحب اللہ کا خلیل ہے۔ وکیع کہتے ہیں کہ آپؐ کی مُراد اپنے آپ سے تھی۔
حضرت ابو ہریرہؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے کبھی کسی مال نے اس قدر نفع نہیں دیا جتنا ابو بکرؓ کے مال نے مجھے نفع دیا تو ابو بکرؓ رو پڑے اور کہنے لگے یا رسولؐ اللہ! میں اور میرا مال آپؐ کے ہی ہیں۔
حضرت علیؓ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ابو بکرؓ اور عمرؓ دونوں انبیاء اور مرسلین کے علاوہ اوّلین و آخرین کے جنتیوں کے مضبوط جوانوں کے سردار ہیں۔ اے علیؓ! ان دونوں کو اس وقت تک نہ بتانا جب تک وہ دونوں زندہ ہیں۔
حضرت ابو سعید خدری ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جنت میں بلند درجات والوں کو، وہ لوگ جو اُن سے نیچے ہوں گے، ان کو ایسی دیکھیں گے جیسے طلوع ہونے والا ستارہ آسمان کے آفاق میں سے ایک افق میں دکھائی دیتا ہے۔ ابو بکرؓ اور عمرؓ انہی میں سے ہیں اور وہ دونوں افضل ہیں۔
حضرت حذیفہ بن یمانؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مَیں نہیں جانتا کہ میرے لئے تم میں باقی رہنا کب تک ہے۔ پس تم پیروی کرو اُن کی جو میرے بعد ہیں اور آپؐ کا اشارہ ابو بکرؓ اور عمرؓ کی طرف تھا۔
حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عمرؓ کو (وفات کے بعد) چارپائی پر رکھا گیا اور قبل اس کے کہ ان کا جنازہ اُٹھایا جائے لوگ ان کے گرد اکٹھے تھے اور دعا کر رہے تھے اور درود پڑھ رہے تھے یا کہا کہ (ان کی) تعریف کر رہے تھے اور ان پر درود پڑھ رہے تھے اور مَیں (ابن عباسؓ) بھی ان لوگوں میں تھا۔ اچانک ایک شخص نے مجھے چونکا دیا اور بھیڑ میں آکر مجھے آ لگا میرے کندھے کو پکڑا اور جب میں نے مڑ کر دیکھا تو وہ حضرت علی بن ابی طالبؓ تھے انہوں نے حضرت عمرؓ پر رحمت کی دعا کی پھر کہا آپؓ نے کوئی ایسا شخص اپنے پیچھے نہیں چھوڑا جس کے اعمال آپ کی نسبت ایسے ہوں کہ اس کے اعمال پر مجھے اللہ سے ملنا پسند ہو۔ بخدا مجھے یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے دونوں ساتھیوں کے ساتھ کر دے گا اور یہ اس وجہ سے ہے کہ میں اکثر رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کرتا تھا کہ مَیں اور ابو بکرؓ اور عمرؓ گئے، مَیں اور ابو بکرؓ اور عمر ؓ داخل ہوئے اور مَیں ابو بکرؓ اور عمرؓ نکلے۔ مجھے یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ آپؐ کو آپؐ کے دونوں ساتھیوں کے ساتھ کر دے گا۔
حضرت ابن عمرؓ نے بیان کیا کہ نبی ﷺ حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمرؓ کے درمیان تشریف لائے اور فرمانے لگے کہ ہم اسی طرح اٹھائے جائیں گے۔
حضرت ابوجُحَیفہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ابوبکر ؓ اور عمر ؓ جنت میں اگلے اور پچھلے مضبوط جوانوں کے سردار ہوں گے سوائے انبیاء اور مرسلین کے۔ بعض نسخوں میں خَلَّفْتُ کی بجائے خَلَّفْتَ ہے جو زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے اور ترجمہ اس کے مطابق ہے۔