بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 266 hadith
حضرت ابو رزینؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہمارا رب اپنے بندوں کی مایوسی پر اور اُن کی (مایوسی کے حالات کی) جلد (ہونے والی) تبدیلی پر ہنستا ہے۔ مَیں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! کیا ربّ ہنستا ہے؟ آپؐ نے فرمایا ہاں۔ اس پر مَیں نے کہا کہ ہم ربّ کی خیر سے جو ہنستا ہے ہرگز محروم نہیں ہوں گے۔
حضرت ابو رزینؓ نے بیان کیا کہ مَیں نے کہا یا رسولؐ اللہ! اپنی مخلوق کی پیدائش سے پہلے ہمارا ربّ کہاں تھا؟ آپؐ نے فرمایا : ’’ عَمَاء ‘‘ _ غیب الغیب _ میں تھا۔ اس کے نیچے کچھ نہیں تھا اس کے اوپر بھی کچھ نہیں تھا۔ اور وہاں کوئی مخلوق نہیں تھی اور اس کا عرش پانی پر ہے۔
صفوان بن مُحرِز مازنی نے بیان کیا کہ ہم حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کے ساتھ تھے اور وہ خانہ کعبہ کا طواف کر رہے تھے کہ ایک شخص ان کے سامنے آگیا۔ اس نے کہا اے ابن عمرؓ! آپؓ نے رسول اللہ ﷺ سے ’’نجویٰ‘‘ کے بارے میں کیا سنا ہے؟ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے جواب دیا کہ مَیں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ ایک مومن قیامت کے دن اپنے ربّ کے قریب کیا جائے گا یہاں تک کہ وہ اس پر (رحمت کا) ہاتھ رکھے گا۔ پھر وہ (اللہ) اس سے اس کے گناہوں کا اقرار کروائے گا اور پوچھے گا کیا تو جانتا ہے؟ وہ بندہ کہے گا اے میرے ربّ مَیں جانتا ہوں، یہاں تک کہ وہ اس حالت تک پہنچ جائے گا جہاں اللہ چاہتا ہے کہ وہ پہنچے اللہ فرمائے گا مَیں نے دنیا میں ان (گناہوں) پر تمہاری پردہ پوشی کی مَیں آج انہیں تیرے لئے بخشتا ہوں اور فرمایا پھر اس کی نیکیوں کا صحیفہ یا فرمایا اس کی کتاب اس کے دائیں ہاتھ میں دی جائے گی۔ فرمایا جہاں تک کافر یا منافق کا تعلق ہے اسے گواہوں کے سامنے پکارا جائے گا۔ ہٰـؤُلَائِ الَّذِیْنَ کَذَبُوْا عَلَی رَبِّہِمْ أَلَا لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الظَّالِمِیْنَ (ترجمہ) یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے ربّ پر جھوٹ بولا تھا۔ خبردار! ظلم کرنے والوں پر اللہ کی لعنت ہے۔
حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس اثناء میں کہ اہل جنت اپنی نعمتوں میں ہوں گے، ان پر ایک نور چمکے گا، وہ اپنا سر اٹھائیں گے اور دیکھیں گے کہ ان کا رب ان کو اوپر سے جھانک رہا ہے۔ وہ کہے گا اے جنت والو! تم پر سلامتی ہو۔ فرمایا یہ اللہ کے اس قول کے مطابق ہے سَلَامٌ قَوْلًا مِن رَّبٍّ رَّحِیْمٍ (ترجمہ) ’’سلام‘‘ کہا جائے گا ربّ رحیم کی طرف سے۔ فرمایا اللہ ان کی طرف دیکھتا رہے گا اور وہ اس کی طرف دیکھتے رہیں گے اور وہ کسی نعمت کی طرف التفات نہیں کریں گے جب تک اسے (اللہ کو) دیکھتے رہیں گے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان سے چھپ جائے گا مگر اس کا نور اور برکت ان پر ان کے گھروں میں باقی رہیں گی۔
حضرت عدی بن حاتِم ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں کوئی بھی نہیں مگر اس کا ربّ اس سے ضرور بات کرے گا اور اس کے اور اس کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہوگا۔ وہ اپنی دائیں طرف دیکھے گا تو وہ نہیں دیکھے گا سوائے اس کے جو کچھ اس نے آگے بھیجا تھا پھر وہ اپنی بائیں طرف دیکھے گا تو وہاں بھی نہیں دیکھے گا سوائے اس کے جو کچھ اس نے آگے بھیجا تھا۔ پھر وہ اپنے سامنے دیکھے گا تو آگ اُس کے سامنے ہوگی۔ جو شخص تم میں سے آگ سے بچ سکتا ہو خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعہ سے پس اس کو چاہئے کہ ایسا ہی کرے۔
ابو بکر بن عبداللہ بن قیس اشعری اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دو جنتیں ہیں جن کے برتن چاندی کے ہیں اور جو کچھ بھی ان میں ہے ، دو جنتیں ہیں، جن کے برتن سونے کے ہیں اور جو کچھ ان میں ہے۔ اور جنت عدن میں لوگوں اور ان کے اپنے رب تبارک و تعالیٰ کے دیدار کے درمیان سوائے کبریائی کی چادر کے جو اس کے چہرہ پر ہے اور کچھ حائل نہیں ہوگا۔
حضرت صُہَیبؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی لِلَّذِیْنَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَی وَزِیَادَۃٌ (ترجمہ) جن لوگوں نے احسان کئے ان کے لئے سب سے حسین جزا ہے اور اس سے بھی زیادہ۔ پھر آپؐ نے فرمایا جب جنت والے جنت میں داخل ہوں گے، اور جہنم والے جہنم میں، ایک پکارنے والا پکارے گا اے جنت والو! یقینا اللہ کے پاس تمہارے لئے ایک وعدہ ہے اور وہ اسے تمہارے لئے پورا کرنا چاہتا ہے۔ پس وہ کہیں گے وہ کیا ہے؟ کیا اللہ نے ہمارے پلڑے بھاری نہیں کر دئیے اور ہمارے چہروں کو روشن نہیں کر دیا اور ہمیں جنت میں داخل نہیں کر دیا؟ اور ہمیں آگ سے نجات نہیں دی؟ فرمایا پس وہ پردہ ہٹائے گا۔ وہ اس کی طرف دیکھیں گے اور اللہ کی قسم! جو کچھ اللہ نے ان کو دیا ہے ان میں سے کوئی چیز اس کی طرف دیکھنے سے پیاری نہیں ہوگی اور نہ ان کی آنکھوں کو زیادہ ٹھنڈک دینے والی۔
حضرت عائشہؓ نے بیان فرمایا کہ ہر طرح کی حمد اللہ کے لئے ہے وہ سب آوازیں سنتا ہے۔ ایک بحث کرنے والی نبی ﷺ کے پاس آئی اور میں گھر میں ایک طرف تھی۔ وہ اپنے شوہر کی شکایت کر رہی تھی جو وہ کہہ رہی تھی وہ میں نے نہیں سنا۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ کلام اتارا قَدْ سَمِعَ اللَّہُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُکَ فِیْ زَوْجِہَا (ترجمہ) یقینا سن لی ہے اللہ نے اس کی بات جو اپنے خاوند کے بارہ میں تجھ سے بحث کرتی تھی۔
حضرت ابو ہریرہؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمہارے رب نے مخلوق کو پیدا کرنے سے پہلے اپنے ہاتھ سے اپنے متعلق لکھا کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔
حضرت جابر بن عبد اللہؓ بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عبد اللہ بن عمرو بن حرامؓ احد کے دن شہید ہوئے تو مجھے رسول اللہﷺ ملے اور فرمانے لگے اے جابر! کیا میں تمہیں نہ بتاؤں جو بات اللہ نے تمہارے والد سے کہی۔ راوی یحییٰ نے اپنی روایت میں بیان کیا ہے۔ فرمایا اے جابرؓ! کیا بات ہے میں تجھے شکستہ خاطر دیکھتا ہوں۔ میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! میرے والد شہید ہوگئے ہیں اور اپنے بچے اور قرض چھوڑ گئے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا کیا میں تمہیں اس بات کی خوشخبری نہ دوں جس کے ساتھ اللہ نے تیرے والد سے ملاقات کی۔ جابرؓ نے کہا ضرور یا رسولؐ اللہ! آپؐ نے فرمایا اللہ نے کبھی کسی سے بات نہیں کی مگر پردے کے پیچھے سے، مگر تیرے والد سے روبرو کلام کیا اور اللہ نے کہا اے میرے بندے! مجھ سے تمنّا کرو، میں تمہیں دوں گا۔ اس نے عرض کیا اے میرے رب! تو مجھے زندہ کر، میں تیرے راستے میں دوبارہ قتل کیا جاؤں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جواب دیا میری طرف سے یہ فیصلہ ہوچکا ہے کہ یقینا وہ اس (دنیا) کی طرف نہیں لوٹیں گے۔ اس نے عرض کیا اے میرے رب! اُنہیں جو میرے پیچھے ہیں یہ بات پہنچا دے۔ (راوی) نے کہا پس اللہ نے یہ (آیت) نازل کی وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللَّہِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْیَآئٌ عِنْدَ رَبِّہِمْ یُرْزَقُوْنَ (ترجمہ) اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کئے گئے اُن کو ہرگز مُردے گمان نہ کر بلکہ (وہ تو) زندہ ہیں (اور) انہیں ان کے ربّ کے ہاں رزق عطا کیا جا رہا ہے۔