بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 266 hadith
حضرت ابو ہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یقینا اللہ دو آدمیوں پر ہنستا ہے جن میں سے ایک دوسرے کو قتل کرتا ہے۔ وہ دونوں جنت میں داخل ہو جاتے ہیں۔ یہ تو اللہ کے راستے میں لڑتا اور شہید ہو جاتا ہے۔ پھر اللہ اس کے قاتل کی توبہ قبول کرتا ہے اور وہ مسلمان ہو جاتا ہے اور وہ بھی اللہ کے راستے میں لڑتا ہے اور شہید ہو جاتا ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کیا کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن زمین کو اپنی مٹھی میں لے لے گا اور آسمان کو اپنے دائیں ہاتھ سے لپیٹ لے گا پھر فرمائے گا میں بادشاہ ہوں، کہاں ہیں زمین کے بادشاہ؟
حضرت عباس ؓ بن عبد المطلب نے بیان کیا میں بطحاء میں ایک جماعت میں تھا اور ان میں رسول اللہ ﷺ موجود تھے۔ آپؐ کے پاس سے ایک بادل گزرا۔ آپؐ نے اس کی طرف دیکھا اور پوچھا کہ تم اس کو کیا نام دیتے ہو؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا ’’سحاب‘‘ بادل۔ آپؐ نے فرمایا اور المُزن۔ انہوں نے عرض کیا المزنبھی۔ آپؐ نے فرمایا اور العَنَان بھی؟ (راوی) ابو بکر کہتے ہیں اور انہوں نے کہا العَنَان بھی۔ آپؐ نے فرمایا تم لوگ اپنے درمیان اور آسمان کے درمیان کتنا فاصلہ سمجھتے ہو؟ انہوں نے کہا ہم نہیں جانتے۔ آپؐ نے فرمایا تمہارے اور آسمان کے درمیان ستر 70، اکہتر 71، بہتر 72 یا تہتر 73 سال کا فاصلہ ہے۔ اس سے اوپر آسمان اسی طرح ہے۔ یہاں تک کہ آپؐ نے سات آسمان شمار کئے۔ پھر ساتویں آسمان کے اوپر سمندر ہے۔ اس کے اوپر کے حصے اور نیچے (کے حصّہ میں) فاصلہ اتنا ہے جتنا ایک آسمان سے دوسرے آسمان کے درمیان ہے پھر ان سب کے اوپر آٹھ پہاڑی مینڈھے ہیں۔ ان کے کھروں اور گھٹنوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک۔ ان کی پشتوں پر عرش ہے۔ اس (عرش) کے اوپر کے حصے کا، نیچے (کے حصے سے) اتنا فاصلہ ہے جتنا ایک آسمان سے دوسرے آسمان کے درمیان کا۔ پھر اس کے اوپر اللہ تبارک و تعالیٰ ہے۔
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ آسمان میں کسی بات کا فیصلہ فرماتا ہے تو فرشتے اس کے فرمان پر عاجزی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے پر ہلاتے ہیں گویا چٹان پر زنجیر (مارنے کی آواز) ہے۔ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور ہو جاتی ہے تو وہ پوچھتے ہیں تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ وہ کہتے ہیں سچ ہی کہا وہ بلند اور بڑائی والا ہے۔ تو اس کو سُنتے ہیں چوری چھپے باتوں کو سننے والے پس (ان میں سے ایک) بات سُنتا ہے اور اس کو اپنے سے نیچے پہنچا دیتا ہے۔ بسا اوقات اُس کو روشن شعلہ پا لیتا ہے پہلے اس کے کہ وہ کاہن یا جادوگر کی زبان تک پہنچائے اور بسا اوقات (وہ شہاب) اُسے نہیں پاتا یہاں تک کہ وہ اس کو پہنچا دیتا ہے تو وہ اس کے ساتھ سو 100 جھوٹ شامل کر دیتا ہے تو وہ بات جو آسمان سے سنی گئی سچ نکلتی ہے۔
حضرت ابو موسیٰ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم میں کھڑے ہو کر پانچ باتیں بیان فرمائیں۔ آپؐ نے فرمایا یقینا اللہ سوتا نہیں اور سونا اس کے شایانِ شان نہیں ہے۔ وہ ترازو کو جھکا دیتا ہے اور بلند کر دیتا ہے۔ اُس کے سامنے رات کے اعمال دن کے اعمال سے قبل پیش کئے جاتے ہیں اور دن کے اعمال رات کے اعمال سے قبل پیش کئے جاتے ہیں۔ نُور اس کا حجاب ہے۔ اگر وہ اُس کو ہٹا دے تو اُس کے چہرے کے جلوے جہاں تک اُس کی مخلوق میں اس کی نظر پہنچے اس چیز کو جلا دیتے۔
حضرت ابو موسیٰ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یقینا اللہ نہیں سوتا اور سونا اس کے شایانِ شان بھی نہیں ہے۔ وہ ترازو کو جھکاتا ہے اور بلند کرتا ہے۔ اُس کا حجاب نُور ہے۔ اگر وہ اُس کو ہٹا دے تو اُس کے چہرے کے جلوے ہر اُس چیز کو جلا دیں جس چیز تک اس کی نظر پہنچے۔ پھر راوی ابو عبیدہ نے پڑھا بُوْرِکَ مَنْ فِی النَّارِ وَمَنْ حَوْلَھَا وَ سُبْحَانَ اللَّہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ (ترجمہ) برکت دیا گیا ہے جو اس آگ میں ہے اور وہ بھی جو اس کے اردگرد ہے اور پاک ہے اللہ تمام جہانوں کا ربّ۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ کا داہنا ہاتھ بھرا ہوا ہے۔ دن رات خوب دینے والا ہے۔ کوئی چیز اس میں کمی نہیں کرتی۔ اُس کے دوسرے ہاتھ میں میزان ہے۔ ترازو کو بلند کرتا ہے اور جھکا دیتا ہے۔ فرمایا کیا تمہیں پتہ ہے جب سے اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے جو کچھ اُس کے دونوں ہاتھوں میں ہے اس میں کچھ کم نہیں ہوا۔
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا اور آپؐ منبر پر تھے ، آپؐ فرما رہے تھے جبار خدا اپنے آسمانوں اور زمین کو اپنے ہاتھ میں لے گا _ اور آپؐ نے اپنے ہاتھ کی مٹھی بند کی اور آپؐ اسے بند کرنے اور کھولنے لگے_ پھر فرمائے گا ، میں جبار ہوں ، کہاں ہیں جبار؟ تکبر کرنے والے کہاں ہیں؟ رسول اللہ ﷺ نے اپنے دائیں توجہ فرمائی اور اپنے بائیں طرف توجہ فرمائی اور میں نے منبر کی طرف دیکھا اُس کا نچلا حصّہ ہل رہا تھا یہاں تک کہ میں خیال کرنے لگا کیا وہ گر تو نہیں جائے گا اور رسول اللہ ﷺ اُس پر ہیں ؟
حضرت نواس بن سمعانؓ کلابی نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہر ایک دل رحمن کی دو انگلیوں کے درمیان ہے۔ اگر چاہے تو اسے سیدھا رکھے، چاہے ٹیڑھا ہونے دے۔ رسول اللہ ﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے اے دلوں کو ثبات بخشنے والے! ہمارے دلوں کو اپنے دین پر ثبات بخش اور فرمایا کہ میزان رحمن کے ہاتھ میں ہے قیامت کے دن تک بہت سی قوموں کو بلند کردے گا اور دوسری قوموں کو پست کردے گا۔
حضرت ابو سعید خدری ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یقینا اللہ تین پر خوش ہوتا ہے۔ ایسی صف پر جو نماز کے لئے ہو۔ ایسے شخص پر جو رات کے دوران نماز پڑھتا ہے اور اُس شخص پر جو لڑائی کرتا ہے۔ راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے آپؐ نے فرمایا لشکر (کے پیچھے ہٹ جانے) کے بعد بھی لڑتا رہتا ہے۔