بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 266 hadith
حضرت جابر بن عبد اللہؓ نے بیان کیا کہ حج کے موسم میں رسول اللہ ﷺ لوگوں کو ملتے اور فرماتے کیا کوئی جواں مرد نہیں جو مجھے اپنی قوم میں لے جائے کیونکہ قریش مجھے اپنے رب کا کلام پہنچانے سے روکتے ہیں۔
حضرت ابو درداءؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے قرآنی آیت کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِيْ شَأْنٍ (ترجمہ) ہر گھڑی وہ ایک نئی شان میں ہوتا ہے۔ کے بارے میں فرمایا اس کی شان میں سے (یہ بھی) ہے کہ گناہ بخش دیتا ہے۔ تکلیف کو دور کر دیتا ہے۔ کچھ لوگوں کو رفعت دیتا اور دوسروں کو نیچے کرتا ہے۔
منذر بن جریر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے نیک طریق جاری کیا اور اس پر عمل ہونے لگا تو اس کے لئے اس کا اجر ہے اور ان کے اجر کے برابر جو اس پر عمل کریں۔ ان کے اجر میں کوئی کمی نہ ہوگی اور جس نے بُرا طریق جاری کیا اور اس پر عمل کیا گیا اس پر اس کا بوجھ بھی ہوگا اور جنہوں نے اس کے بعد اس پر عمل کیا اور ان کے بوجھ میں کوئی کمی نہ ہوگی۔
حضرت ابو ہریرہؓ نے بیان کیا کہ ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا۔ آپؐ نے اس کے لئے تحریک فرمائی۔ ایک شخص نے کہا میرے پاس یہ یہ ہے۔ (راوی نے کہا) مجلس میں کوئی بھی ایسا شخص نہ رہا جس نے اس کو تھوڑا یا بہت صدقہ نہ دیا ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے اچھا طریق جاری کیا اور اس کو اختیار کرلیا گیا تو اُس کو اس کا پورا اجر ہو گا اور ان کے اجر میں سے بھی جنہوں نے اس کو اختیار کیا اور ان کے اجر میں سے کچھ کم نہ ہوگا جنہوں نے اس طریق کو اختیار کیا اور جس نے بُرا طریق جاری کیا اور اُس کو اختیار کرلیا گیا تو اس کے اوپر اس کا پورا بوجھ ہوگا اور ان کے بوجھ بھی جنہوں نے اس کو اختیار کیا اور ان کے بوجھ میں کچھ کمی نہ ہو گی۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جس بلانے والے نے بھی گمراہی کی طرف بلایا اور اُس کی پیروی کی گئی تو اس پر اُن سب کے بوجھ کے برابر ہوگا جنہوں نے اس کی پیروی کی اور ان کے بوجھوں میں سے کچھ کمی نہ ہوگی اور جس بلانے والے نے ہدایت کی طرف بلایا اور اُس کی پیروی کی گئی تو اس کے لئے بھی اُسی قدر اجر ہوں گے جس قدر اُن پیروی کرنے والوں کے اجر ہوں گے اور ان کے اجر میں کچھ کمی نہ ہوگی۔
حضرت ابو ہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے ہدایت کی طرف بلایا اُس کے لئے اس کی پیروی کرنے والوں کے اجر کے برابر اجر ہوگا اور اُن کے اجر میں کچھ کمی نہ ہو گی اور جس نے گمراہی کی طرف بلایا اس پر اُن پیروی کرنے والوں کے گناہوں کے برابر گناہ ہوگا اور ان کے گناہوں میں سے کچھ کم نہ ہو گا۔
حضرت ابوجحیفہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے نیک طریق جاری کیا اور اس کے بعد اس پر عمل کیا گیا تو اس کے لئے اس کا اجر ہوگا اور ان لوگوں کے اجر کے برابر بھی بغیر اس کے کہ ان سب کے اجر میں کچھ کم نہ ہوگا اور جس نے بُرا طریق رائج کیا اور اس کے بعد اس پر عمل بھی کیا گیا تو اس کا بوجھ اس پر ہوگا اور ان کے بوجھوں کے برابر بھی بغیر اس کے کہ ان کے بوجھوں میں کوئی کمی ہو۔
حضرت ابو ہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کوئی بھی بلانے والا نہیں ، جس نے کسی چیز کی طرف بلایا ہو ، مگر وہ قیامت کے دن اپنی پکار کے ساتھ وابستہ ہوگا جس کی طرف اُس نے بلایا ، خواہ ایک شخص نے ایک ہی کو پکارا ہو۔
کثیر بن عبداللہ بن عمرو بن عوف مزنی نے بیان کیا کہ مجھے میرے باپ نے میرے دادا سے روایت کرتے ہوئے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے میری سنت میں سے کسی سنت کو زندہ کیا اور لوگ اُس پر عمل کرنے لگے تو اس کے لئے اس پر عمل کرنے والوں کے برابر اجر ہوگا اور اُن کے اجر میں کچھ کمی نہیں ہو گی اور جس نے کوئی بدعت شروع کی اور اس پر عمل ہونے لگا تو اس پر ان سب عمل کرنے والوں کے بوجھ ہوں گے اور ان عمل کرنے والوں کے بوجھ میں کچھ بھی کمی نہ ہوگی۔
کثیر بن عبد اللہ اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جس نے میری سنت میں سے کسی سنت کو زندہ کیا جس پر میرے بعد عمل نہیں ہوتا تھا۔ یقینا اُس کے لئے اجر ہے اُن لوگوں کی مانند، جنہوں نے اُس پر عمل کیا اور ان لوگوں کے اجر میں کوئی کمی نہ ہو گی اور جس نے کوئی بدعت شروع کی، جس کو اللہ اور اس کا رسولؐ پسند نہیں کرتے تو اس پر عمل کرنے والے لوگوں کی طرح گناہ ہوگا اور ان لوگوں کے گناہوں میں سے کچھ بھی کم نہ ہوگا۔