بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 266 hadith
حضرت ابو قتادہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا خیر، جو انسان اپنے بعد چھوڑتا ہے، تین قسم کی ہے۔ (1) نیک اولاد جو اس کے لئے دعا کرے۔ (2) صدقہ جاریہ ، اُس کا اجر اُسے پہنچتا رہے گا۔ (3) ایسا علم جس پر اس کے بعد عمل کیا جاتا رہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ان باتوں میں سے جو مومن کو اس کے مرنے کے بعد ملتی رہتی ہیں: علم، جو اس نے سکھایا اور اسے پھیلایا، اور صالح اولاد جو اس نے پیچھے چھوڑی ہو۔ مصحف جس کا اس نے (کسی کو) وارث بنایا ہو یا کوئی مسجد تعمیر کروائی ہو یا کوئی گھر جو اس نے مسافروں کے لئے بنایا ہو یا کوئی نہر جاری کی ہو، یا ایسا صدقہ جو اُس نے اپنے مال میں سے اپنی صحت اور اپنی زندگی میں نکالا ہو، وہ اس کی موت کے بعد اسے ملتا رہے گا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا سب سے افضل صدقہ یہ ہے کہ ایک مسلمان شخص علم سیکھے اور پھر وہ اسے اپنے مسلمان بھائی کو سکھائے۔
حضرت عبد اللہ بن عمرو اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو کبھی ٹیک لگا کر کھاتے ہوئے نہیں دیکھا گیا اور آپؐ کے پیچھے دو آدمی نہیں چلتے تھے۔
حضرت ابو امامہ ؓ نے بیان کیا کہ ایک دن سخت گرمی میں نبی ﷺ بقیع الغرقد کی طرف تشریف لے جا رہے تھے۔ لوگ آپؐ کے پیچھے چل رہے تھے۔ جب آپؐ نے جوتوں کی آواز سنی تو آپؐ کی طبیعت پر گراں گذرا اور آپؐ بیٹھ گئے اور اُن کو اپنے آگے کر دیا۔ (راوی کا خیال ہے کہ) مبادہ کوئی بڑائی کا خیال نہ آجائے۔
حضرت جابر بن عبد اللہؓ نے بیان کیا کہ جب نبی ﷺ چلتے تو آپؐ کے صحابہؓ آپؐ سے آگے چلتے تھے اور آپؐ کی پشت فرشتوں کے لئے چھوڑ دیتے تھے۔
حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عنقریب تمہارے پاس قومیں، علم حاصل کرنے کے لئے آئیں گی، جب تم اُن کو دیکھو تو رسول اللہ ﷺ کی وصیت کے مطابق اُن کو مرحبا مرحبا کہو اور اُنہیں مالا مال کر دو۔ (راوی کہتے ہیں) میں نے حَکَم سے کہا اقْنُوْہُمْ سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا اُن کو سکھاؤ۔
اسماعیل نے بیان کیا کہ ہم حضرت حسنؒ کے پاس اُن کی عیادت کے لئے گئے یہاں تک کہ ہم نے گھر بھر دیا۔ انہوں نے اپنے پاؤں سمیٹ لئے، پھر انہوں (حضرت حسن بصریؒ) نے کہا کہ ہم حضرت ابوہریرہؓ کی عیادت کے لئے گئے یہاں تک کہ ہم نے گھر بھر دیا تو انہوں نے اپنے پاؤں سمیٹ لئے۔ انہوں (حضرت ابوہریرہؓ) نے کہا کہ ہم رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے یہاں تک کہ ہم نے گھر بھر دیا اور آپؐ اپنے پہلو کے بل لیٹے ہوئے تھے آپؐ نے جب ہمیں دیکھا تو اپنے پاؤں سمیٹ لئے پھر آپؐ نے فرمایا عنقریب میرے بعد تمہارے پاس علم سیکھنے کے لئے قومیں آئیں گی، پس اُن کو مرحبا کہنا اور سلام کہنا اور انہیں علم سکھانا۔ راوی کہتے ہیں خدا کی قسم، ہم نے وہ قومیں پائیں جنہوں نے ہمیں مرحبا نہ کہا اور نہ سلام کہا اور نہ انہوں نے ہمیں علم سکھایا۔ ہم اُن کے پاس جایا کرتے تھے تو وہ ہم سے بے رُخی برتتے تھے۔
ابو ہارون عبدی نے بیان کیا کہ جب ہم حضرت ابو سعید خدریؓ کے پاس جاتے تو وہ رسول اللہ ﷺ کی وصیت کے مطابق مرحبا کہا کرتے تھے، نیز کہتے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں فرمایا تھا کہ یقینا لوگ تمہارے پیچھے آنے والے ہیں وہ زمین کے اطراف سے تمہارے پاس دین سمجھنے کے لئے آئیں گے۔ پس جب وہ تمہارے پاس آئیں تو ان سے بھلائی کے بارہ میں حُکم کی تعمیل کرنا۔
حضرت ابو ہریرہؓ نے بیان کیا کہ نبی ﷺ کی ایک دعا یہ بھی تھی کہ اَللَّہُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ عِلْمٍ لَا یَنْفَعُ وَمِنْ دُعَائٍ لَا یُسْمَعُ وَمِنْ قَلْبٍ لَا یَخْشَعُ وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں، ایسے علم سے جو نفع نہ دے، ایسی دعا سے جو سنی نہ جائے اور ایسے دل سے جس میں عاجزی نہ ہو اور ایسے نفس سے جو سیر نہ ہو۔