بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 266 hadith
حضرت انس بن مالکؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے جھوٹ چھوڑ دیا اور وہ (جھوٹ) ہے ہی باطل، اُس کے لئے جنت کے کناروں پر محل تیار کروایا جائے گا اور جو شخص جھگڑا چھوڑ دیتا ہے باوجود حق پر ہونے کے، اس کے لئے اس (جنت) کے درمیان گھر بنایا جائے گا اور جو اپنے اخلاق سنوارے، اس کیلئے اس (جنت) کے بلند ترین مقام پر (گھر) بنایا جائے گا۔
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ علم کو اس طرح نہیں اُٹھاتا کہ وہ اسے لوگوں سے چھین کر نکال لے بلکہ وہ علم کو اٹھاتا ہے علماء کو اُٹھانے کے ذریعہ اور جب کوئی عالم باقی نہیں چھوڑتا تو لوگ جاہلوں کو سردار بنالیتے ہیں اور ان سے سوال کئے جاتے ہیں اور وہ بغیر علم کے فتویٰ دیتے ہیں اور وہ خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔
حضرت ابو ہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کو بغیر ثبوت کے کوئی فتو ٰی دیا گیا تو اس کا گناہ اس پر ہے جس نے اس کو فتو ٰی دیا۔
حضرت عبد اللہ بن عمروؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا علم تین ہیں اور جو اس کے علاوہ ہے وہ (اللہ کا) فضل ہے۔ محکم آیت، سنت متواترہ اور منصفانہ رائے۔
حضرت معاذ بن جبلؓ نے بیان کیا کہ جب مجھے رسول اللہ ﷺ نے یمن بھیجا تو فرمایا کہ تم کسی جھگڑے یا مقدمہ کا فیصلہ نہ کرنا مگر اس کے مطابق جو تم علم رکھتے ہو۔ اگر کوئی امر تم پر واضح نہ ہو تو رُک جاؤ یہاں تک کہ اس کو اچھی طرح سمجھ جاؤ یا مجھے اس بارہ میں لکھو۔
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاصؓ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ بنی اسرائیل کا معاملہ اعتدال پر رہا یہاں تک کہ پھر ان میں وہ لوگ پیدا ہوئے جو دوسری قوموں کی اسیر عورتوں کے بیٹے تھے جنہوں نے اپنی رائے سے بات کہی اور خود بھی گمراہ ہوئے اور ( دوسروں کو بھی ) گمراہ کیا۔
حضرت ابوہریرہؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایمان کے ساٹھ یا ستّر سے کچھ زائد دروازے ہیں۔ ان میں راستہ سے تکلیف دہ چیز کا ہٹانا سب سے عام ہے اور سب سے بلند تر لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہنا ہے اور حیا بھی ایمان کا ایک شعبہ ہے۔
سالم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے ایک آدمی کو سنا وہ اپنے بھائی کو حیاء کے بارہ میں نصیحت کر رہا تھا آپؐ نے فرمایا کہ حیاء ایمان کا ایک شعبہ ہے۔
حضرت عبد اللہ ؓ نے بیان کیا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کے دل میں رائی کے ذرّہ کے برابر بھی تکبر ہوگا ، وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا اور جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی ایمان ہوگا وہ آگ میں داخل نہیں ہوگا۔
حضرت ابو سعید خدریؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ مومنوں کو آگ سے بچا لے گا اور وہ امن میں آجائیں گے تو تم سے کسی کا اپنے ساتھی کے حق کے لئے دنیا میں مجادلہ اس سے زیادہ سخت نہیں ہوگا جو مومنوں کا ان کے رب سے اپنے ان بھائیوں کے بارہ میں ہوگا جو جہنم میں داخل کئے گئے۔ آپؐ نے فرمایا وہ کہیں گے اے ہمارے رب! ہمارے بھائی ہیں ہمارے ساتھ نمازیں ادا کرتے تھے، ہمارے ساتھ روزے رکھا کرتے تھے اور ہمارے ساتھ حج کیا کرتے تھے مگر تو نے انہیں آگ میں داخل کر دیا ہے۔ اللہ فرمائے گا، جاؤ ان میں سے جس کو تم پہچان لو اُن کو نکال لو۔ پس وہ ان کے پاس جائیں گے اور وہ ان کو ان کی شکلوں سے پہچان لیں گے۔ آگ نے ان کی صورتوں کو کھایا نہ ہوگا۔ ہاں ان میں سے بعض کو آگ نے اُن کی پنڈلیوں کے نصف تک پکڑا ہوگا اور ان میں سے بعض کو ان کے ٹخنوں تک پکڑا ہوگا۔ پس وہ ان کو نکالیں گے اور کہیں گے اے اللہ! ہم نے ان کو نکال لیا ہے جن کے نکالنے کا تو نے حکم دیا تھا۔ پھر (اللہ فرمائے گا) اسے بھی نکال لو جس کے دل میں دینار کے وزن کے برابر بھی ایمان ہے۔ پھر (فرمائے گا) اُسے بھی نکال لو جس کے دل میں آدھے دینار کے وزن کے برابر ایمان ہے۔ پھر اسے بھی نکال لو جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہے۔ ابو سعید نے کہا جو اس کی تصدیق نہ کرتا ہو تو اسے چاہئے قرآن کی یہ آیت پڑھے إِنَّ اللّٰہَ لَا یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ وَإِنْ تَکُ حَسَنَۃً یُّضَاعِفْہَا وَیُؤْتِ مِن لَّدُنْہُ أَجْرًا عَظِیْمًا (ترجمہ) یقینا اللہ ذرّہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا اور اگر کوئی نیکی کی بات ہو تو وہ اسے بڑھاتا ہے اور اپنی طرف سے بھی بہت بڑا اجر عطا کرتا ہے۔