بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 266 hadith
حضرت جندب بن عبد اللہؓ نے بیان کیا کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ تھے اور ہم مضبوط نوجوان تھے۔ پس ہم نے ایمان سیکھا قبل اس کے کہ قرآن سیکھیں۔ پھر ہم نے قرآن کا علم حاصل کیا اور اس کی وجہ سے ہم ایمان میں بہت بڑھ گئے۔
حضرت ابن عباسؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس امت میں سے دو فریق ایسے ہیں جن کا اسلام میں سے کچھ بھی حصہ نہیں۔ -اَلْمُرْجِئَۃُ اور اَلْقَدَرِیَّۃُ -
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمرؓ نے بیان فرمایا کہ ہم نبی ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی آیا جس کے کپڑے بہت سفید اور سر کے بال بہت سیاہ تھے۔ اس پر سفر کا کوئی نشان نظر نہیں آتا تھا اور اسے ہم میں سے کوئی پہچانتا بھی نہیں تھا۔ وہ نبی ﷺ کے پاس بیٹھ گیا اس نے اپنا گھٹنا آپؐ کے گھٹنے سے ملا لیا اور اپنے دونوں ہاتھ آپؐ کی دونوں رانوں پر رکھ دئیے۔ پھر کہا اے محمد(ﷺ) اسلام کیا ہے ؟ آپؐ نے فرمایا گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں اور نماز قائم کرنا اور زکوٰہ دینا اور رمضان کے روزے رکھنا اور بیت اللہ کا حج کرنا۔ اس نے کہا آپؐ نے سچ فرمایا۔ ہمیں اس پر تعجب ہوا کہ وہ آپؐ سے سوال کرتا ہے اور آپؐ کی تصدیق بھی کرتا ہے۔ پھر اس نے کہا اے محمدؐ! ایمان کیا ہے ؟ آپؐ نے فرمایا یہ کہ تو اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں اور اس کی کتابوں اور آخری دن پر اور تقدیر کو، اس کی خیر اور شر کو مانے۔ اس نے کہا آپؐ نے سچ فرمایا۔ پس ہمیں اس پر تعجب ہوا کہ وہ آپؐ سے سوال کرتا ہے اور پھر آپؐ کی تصدیق بھی کرتا ہے۔ پھر اس نے سوال کیا اے محمدؐ! احسان کیا ہے ؟ آپؐ نے فرمایا کہ تو اللہ کی اس طرح عبادت کرے کہ گویا تو اسے دیکھ رہا ہے اگر تو اسے نہیں دیکھ رہا ہے تو وہ تو تجھے دیکھ رہا ہے۔ پھر اس نے سوال کیا کہ وہ گھڑی کب ہوگی ؟ آپؐ نے فرمایا جس سے پوچھا جارہا ہے وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا۔ پھر اس نے کہا اس کی نشانیاں کیا ہیں ؟ فرمایا جب باندی اپنے مالک کو جنے گی _ وکیع نے کہا یعنی عجمی عربوں کو جننے لگیں گے _ اور جب تو دیکھے کہ ننگے پاؤں اور ننگے بدن والے بکریوں کے چرواہے اونچی عمارتیں تعمیر کرنے میں ایک دوسرے سے مقابلہ کریں گے۔ (حضرت ابن عمرؓ) کہتے ہیں پھر (حضرت عمرؓ) نے کہا نبی ﷺ مجھے تین دن کے بعد ملے اور فرمایا کہ جانتے ہو وہ آدمی کون تھا ؟ میں نے کہا کہ اللہ اور اس کا رسولؐ ہی بہتر جانتے ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا وہ جبریل ؑ تھے جو تمہیں تمہارے دین کے علوم سکھانے کے لئے آئے تھے۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک روز لوگوں میں باہر تشریف فرما تھے کہ آپؐ کے پاس ایک آدمی آیا اور کہا یا رسولؐ اللہ! ایمان کیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا کہ تم اللہ، اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں اور اس کی ملاقات پر ایمان لاؤ اور اخروی زندگی پر ایمان لاؤ۔ اس نے کہا یا رسولؐ اللہ! اسلام کیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور تم اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ اور فرض نماز قائم کرو اور فرض زکوٰۃ ادا کرو۔ رمضان کے روزے رکھو۔ اس نے کہا یا رسولؐ اللہ! احسان کیا ہے؟ حضور ﷺ نے فرمایا تم اللہ کی عبادت کرو گویا تم اس کو دیکھ رہے ہو اور اگر تم اس کو نہیں دیکھ رہے تو پھر وہ تمہیں یقینا دیکھ رہا ہے۔ پھر اس نے کہا یا رسولؐ اللہ! وہ گھڑی کب ہوگی؟ آپؐ نے فرمایا جس سے پوچھا جا رہا ہے وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا لیکن میں تمہیں اس کی علامات کے بارے میں بتاتا ہوں۔ جب باندی اپنی مالکہ کو جنے گی اور جب بکریوں کے چرواہے عمارتوں کے بلند و بالا بنانے میں مقابلہ کریں گے۔ یہ اس (گھڑی) کی نشانیوں میں سے ہے۔ اس گھڑی کا علم ان پانچ باتوں میں سے ہے جن کو سوائے اللہ کے کوئی نہیں جانتا اور رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی إِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہُ عِلْمُ السَّاعَۃِ وَیُنَزِّلُ الْغَیْثَ وَیَعْلَمُ مَا فِیْ الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّاذَا تَکْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌ بِأَیِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ خَبِیْر (ترجمہ) یقینا اللہ ہی ہے جس کے پاس قیامت کا علم ہے اور وہ بارش کو اُتارتا ہے اور جانتا ہے کہ رِحموں میں کیا ہے اور کوئی ذی روح نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائے گا اور کوئی ذی روح نہیں جانتا کہ کس زمین میں وہ مَرے گا۔ یقینا اللہ دائمی علم رکھنے والا (اور) ہمیشہ باخبر ہے۔
حضرت علی بن ابی طالبؓ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ایمان دل کی معرفت اور زبان کے اقرار اور اسلام کے ارکان پر عمل کا نام ہے۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں کوئی مومن نہیں ہوتا یہاں تک کہ وہ اپنے بھائی یا فرمایا اپنے پڑوسی کے لئے بھی وہی پسند نہ کرے جو اپنے نفس کے لئے پسند کرتا ہے۔
حضرت انس بن مالکؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا، جب تک کہ میں اسے اس کی اولاد اور اس کے والد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوں۔
حضرت ابو ہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، تم جنت میں داخل نہیں ہو سکتے جب تک مومن نہ ہو جاؤ اور تم مومن نہیں ہو سکتے جب تک باہم محبت نہ کرو۔ اور کیا میں تمہیں ایسی بات نہ بتاؤں اگر تم اس کو کرو گے تو آپس میں محبت کرنے لگو گے ، تم آپس میں سلام کو رواج دو۔
حضرت عبد اللہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا مسلمان کو گالی دینا گناہ ہے اور اُس سے لڑائی کرنا کفر ہے۔
حضرت انس بن مالکؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص خدائے واحد سے اخلاص پر اور اس کی عبادت پر (اور یہ ماننے پر) کہ اس کا کوئی شریک نہیں اور نماز قائم کرنے پر اور زکوٰۃ ادا کرنے پر دنیا چھوڑ دے اور وہ فوت ہو گا اور اللہ اس سے راضی ہوگا۔ حضرت انسؓ نے کہا کہ یہ اللہ کا ہی دین ہے جو سارے رسول لے کر آئے اور انہوں نے اسے روایات کے خلط ملط اور خواہشات کے اختلاف سے پہلے، اپنے رب کی طرف سے پہنچا دیا تھا اور اس کی تصدیق اللہ کی کتاب کے اس حصہ میں ہے جو آخر میں اُترا۔ فَاِنْ تَابُوْا (ترجمہ) پس اگر وہ توبہ کریں۔ یعنی بتوں اور اُن کی عبادت کو چھوڑ دیں۔ وَاَقَامُوْا الصَّلَاۃَ وَآتَوُا الزَّکوٰۃَ (ترجمہ) اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں اور دوسری آیت میں اللہ فرماتا ہے فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوْا الصَّلَاۃَ وَآتَوُا الزَّکوٰۃَ فَاِخْوَانُکُمْ فِی الدِّیْنِ (ترجمہ) پس اگر وہ توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو وہ دین میں تمہارے بھائی ہیں۔