بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 400 hadith
حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ وہ حضرت ابی بن کعب ؓ کے پاس آئے اور اُن کے ساتھ حضرت عمر ؓ بھی تھے۔ وہ ان کے پاس نکل کر آئے اور کہا میں نے مذی محسوس کی اور اپنی شرمگاہ کو دھویا اور وضو کیا۔ حضرت عمر ؓ نے کہا کیا یہ کافی ہے؟ انہوں نے کہا ہاں۔ انہوں (حضرت عمر ؓ) نے پوچھا کہ آپؓ نے رسول اللہ ﷺ سے یہ سنا ہے؟ انہوں نے کہا ہاں۔
سفیان نے زائدہ بن قدامہ سے پوچھا اے ابو صلت ! کیا تم نے اس بارہ میں کچھ سنا ہے۔ انہوں (راوی سفیان) نے حضرت ابن عباسؓ کی یہ روایت سنائی کہ نبی ﷺ رات کو نیند سے اُٹھے، بیت الخلاء گئے اور قضائے حاجت سے فارغ ہوئے۔ پھر اپنا چہرہ اور دونوں ہاتھ دھوئے ، پھر سو گئے۔
حضرت انس بن مالکؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ ہر نماز کے لئے وضو کیا کرتے تھے اور ہم تمام نمازیں ایک وضو سے بھی پڑھ لیا کرتے تھے۔
سلیمان بن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ ہر نماز کے لئے وضو کیا کرتے تھے اور فتح مکہ کے دن آپؐ نے تمام نمازیں ایک ہی وضو سے ادا کیں۔
فضل بن مبشر نے بیان کیا کہ میں نے حضرت جابر بن عبد اللہؓ کو ایک وضو سے کئی نمازیں پڑھتے دیکھا۔ میں نے پوچھا، یہ کیا؟ انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسا کرتے دیکھا ہے اور میں اسی طرح کرتا ہوں جیسے رسول اللہ ﷺ نے کیا۔
ابو غُطَیف ھُذَلِی نے بیان کیا کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عمر بن خطابؓ کا مسجد میں ایک مجلس میں (خطاب) سنا۔ جب نماز کا وقت ہوا تو آپؓ کھڑے ہوئے اور وضو کیا اور نماز پڑھی پھر اپنی مجلس کی طرف لوٹ گئے۔ پھر جب نماز عصر کا وقت آیا، کھڑے ہوئے اور وضو کیا اور نماز ادا کی پھر اپنی مجلس کی طرف لوٹ گئے۔ جب مغرب کی نماز کا وقت آیا کھڑے ہوئے، وضو کیا اور نماز ادا کی، پھر اپنی مجلس کی طرف لوٹ گئے۔ میں نے کہا اللہ آپؓ کو سلامت رکھے کیا ہر نماز کے وقت وضو کرنا فرض ہے یا سنت؟ انہوں نے فرمایا کیا تم مجھے اور جو میں نے کیا اس کو سمجھ گئے ہو؟ میں نے کہا، ہاں۔ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے فرمایا نہیں، اگر میں نے صبح کی نماز کے لئے وضو کیا اور بے وضو نہ ہوا، تو اس کے ذریعہ تمام نمازیں ادا کر سکتا ہوں لیکن میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے، جس نے با وضو ہوتے ہوئے وضو کیا، اُس کے لئے دس نیکیاں ہیں اور میں تو صرف نیکیوں (کے حصول) میں رغبت رکھتا ہوں۔
عَبَّاد بن تمیم اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ نبی ﷺ کے پاس اس شخص کی شکایت کی گئی جو نماز میں کچھ محسوس کرتا ہے؟ آپؐ نے فرمایا نہیں (نئے وضو کی ضرورت نہیں) جب تک بو نہ محسوس کرے یا آواز سن لے۔
حضرت ابو سعید خدریؓ نے بیان کیا کہ نبی ﷺ سے نماز میں شبہ پیدا ہونے کے بارے میں پوچھا گیا۔ آپؐ نے فرمایا وہ (نماز) نہ چھوڑے یہاں تک کہ آواز سنے یا بو محسوس کرے۔
حضرت ابو ہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وضو واجب نہیں ہے سوائے آواز یا بو کی وجہ سے۔
محمد بن عَمرو بن عَطَاء نے بیان کیا کہ انہوں نے کہا میں نے حضرت سائب ؓ بن یزید کو اپنا کپڑا سونگھتے ہوئے دیکھا میں نے کہا یہ کس وجہ سے ؟ انہوں نے کہا ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ (نیا) وضو لازم نہیں ہے سوائے بو یا آواز سننے کی وجہ سے۔