بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 22 hadith
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں خبردی کہ زہری سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: حضرت علی بن حسین(امام زین العابدین) رضی اللہ عنہما نے مجھے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت صفیہؓ نے انہیں خبردی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات کی غرض سے آپؐ کے پاس آئیں۔ آپؐ اُس وقت مسجد میں اعتکاف فرما تھے، جو رمضان کے آخری عشرہ میں تھا۔ بی بی صفیہؓ نے کچھ وقت آپؐ کے پاس بیٹھ کر کچھ باتیں کیں۔ پھر جب اُٹھ کر واپس جانے لگیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اُن کو گھر تک پہنچانے کے لئے کھڑے ہوگئے۔ جب حضرت صفیہؓ مسجد کے دروزے پر اُس جگہ پہنچیں جہاں حضرت امّ سلمہؓ کا دروازہ ہے تو انصار میں سے دو شخص گزرے۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو السلام علیکم کہا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن دونوں سے فرمایا: ذرا ٹھہر جائیں۔یہ صفیہؓ بنت حيّ ہیں تو اُن دونوں نے کہا: سبحان اللہ یا رسول اللہ! اور اُن دونوں پر شاق گزرا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان انسان٭ میں وہاں تک پہنچتا ہے جہاں خون پہنچتا ہے اور مجھے اندیشہ ہو ا کہ مبادا تمہارے دِلوں میں کوئی بات ڈال دے۔
(تشریح)قتیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ یزید بن زُرَیع نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے خالد سے، خالد نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپؐ کی ازواج میں سے ایک زوجہ نے جو مستحاضہ تھیں، اعتکاف کیا۔ وہ (خون میں) سرخی اور زردی دیکھتیں۔ کبھی ہم اُن کے استعمال کے لئے طشت رکھ دیتے اور (ان ایام میں) وہ نماز پڑھتیں۔
عبداللہ بن ابی شیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ ابوبکر(بن عیاش) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوحصین (عثمان بن عاصم) سے، انہوں نے ابوصالح (سمان) سے، ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر رمضان میں دس دِن اعتکاف بیٹھا کرتے تھے مگر جس سال آپؐ نے وفات پائی۔ آپؐ بیس دن معتکف ہوئے۔
عبداللہ بن منیر نے مجھ سے بیان کیاکہ انہوں نے ہارون بن اسماعیل سے سنا۔(انہوں نے کہا:) علی بن مبارک نے ہمیں بتایا، کہا: یحيٰ بن ابی کثیر نے مجھ سے بیان کیا، کہا: میں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے سنا۔ انہوں نے کہا: حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے میں نے پوچھا۔ میں نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپؓ نے لیلۃ القدر کا ذکر کرتے سنا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم رمضان کے درمیانی عشرہ میں معتکف ہوئے۔ انہوں نے کہا: اور ہم بیسویں کی صبح کو (اعتکاف سے) نکلے۔ کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیسویں (رات) کی صبح کو خطاب فرمایا اور کہا: مجھے لیلۃ القدر دکھائی گئی اور بھلا دی گئی۔۲؎ پس تم آخری عشرے کی طاق راتوں میں اسے تلاش کرو کیونکہ میں نے دیکھا ہے کہ میں پانی اور کیچڑ میں سجدہ کررہا ہوں اور جس نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اعتکاف کیا ہو، وہ واپس آجائے۔ چنانچہ جو لوگ چلے گئے تھے وہ بھی مسجد میں واپس آگئے۔ اس وقت حالت یہ تھی کہ ہم آسمان میں کوئی اَبر کا ٹکڑا نہیں دیکھتے تھے۔ راوی نے کہا: (اچانک) بادل آیا اور مینہ برسا اور جب نماز کے لئے تکبیر اقامت ہوئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیچڑ اورپانی میں سجدہ کیا؛ یہاں تک کہ میں نے آپؐ کی ناک اور پیشانی پر کیچڑ لگی ہوئی دیکھی۔
(تشریح)سعید بن عفیر نے ہم سے بیان کیا، کہا: لیث نے مجھے بتایا۔ انہو ں نے کہا: عبدالرحمن بن خالد نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے حضرت علی بن حسین رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت صفیہؓ نے اُن کو خبردی ۔ نیز عبداللہ بن محمد نے مجھ سے بیان کیا، کہا کہ ہشام بن یوسف نے ہمیں بتایا کہ معمر نے ہمیں خبردی۔ انہوںنے زُہری سے، زُہری نے حضرت علی بن حسینؓ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تھے اور آپؐ کے پاس آپؐ کی ازواج تھیں۔ وہ جانے لگیں تو آپؐ نے حضرت صفیہؓ بنت حيّ سے کہا: جلدی نہ کریں (ٹھہریں) کہ میں آپؐ کے ساتھ چلوں گا اور اُن کی قیام گاہ حضرت اُسامہؓ کی حویلی میں تھی۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اُن کے ساتھ نکلے اور انصار میں سے دو اشخاص آپؐ سے ملے اور اُن دونوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نظر اُٹھاکر دیکھا۔ پھر وہ دونوں آگے نکل گئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن دونوں سے کہا: اِدھر آئیں۔ یہ صفیہؓ بنت حيّ ہیں۔ اُن دونوں نے کہا: سبحان اللہ یا رسول اللہ! آپؐ نے فرمایا: شیطان انسان میں یوں گردش کرتا ہے جیسے خون اور مجھے اندیشہ ہوا مبادا شیطان تمہارے دِلوں میں کوئی بات ڈال دے۔
(تشریح)اسماعیل بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: میرے بھائی نے مجھے بتایا۔ انہوں نے سلیمان سے، سلیمان نے محمد بن ابی عتیق سے، انہوں نے (ابن شہاب) زہری سے، زہری نے حضرت علی بن حسین رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ حضرت صفیہؓ نے اُن کو خبردی۔ نیز علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا،کہا: میں نے زُہری سے سنا۔ وہ بتاتے تھے۔ حضرت علی بن حسینؓ سے مروی ہے کہ بی بی صفیہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں جبکہ آپؐ معتکف تھے۔ پھر جب لَوٹیں تو آپؐ بھی اُن کے ساتھ گئے۔ (راستہ میں) انصار میں سے ایک شخص نے آپؐ کو دیکھا۔ جب اُس نے آپؐ کو (تعجب کی نگاہ سے) دیکھا تو آپؐ نے اُس کو بلایا اور فرمایا: اِدھر آئو۔ یہ صفیہؓ ہیں، بسا اوقات سفیان الفاظ ھِیَ صَفِیَّۃُ کی بجائے ھٰذِہٖ صَفِیَّۃُ کہتے۔ شیطان ابن آدم میں اس طرح چلتا ہے جیسے خون۔ (علی کہتے ہیں:) میں نے سفیان سے کہا کہ حضرت صفیہؓ تو آپؐ کے پاس رات کو آئی ہوں گی۔ انہوں نے کہا: کیا وہ رات نہیں تھی تو اور کون سا وقت تھا۔
(تشریح)عبدالرحمن بن بشر نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان(بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن جریج سے، انہوں نے سلیمان احول سے، جو ابن ابی نجیح کے ماموں تھے۔ سلیمان نے ابوسلمہ سے، انہوں نے حضرت ابوسعیدؓ سے روایت کی۔ نیز سفیان نے کہا: اور محمد بن عمرو نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے ابوسلمہ سے، انہوں نے حضرت ابوسعیدؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا:میں سمجھتا ہوں کہ (عبداللہ) بن ابی لبید نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایاکہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم درمیانے عشرے میں معتکف ہوئے۔ جب بیسویں تاریخ کی صبح ہوئی تو ہم نے اپنا سامان اُٹھایا تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے اور فرمایا: جس نے اِعتکاف کیا تھا، وہ اپنے اعتکاف کی جگہ واپس آئے۔ کیونکہ آج رات میں نے رئویا دیکھی ہے اور اپنے آپ کو دیکھا کہ پانی اور کیچڑ میں سجدہ کر رہا ہوں۔ جب آپؐ اپنے اعتکاف کی جگہ لَوٹے ۔ کہا: بادل گرجا اور ہم پر مینہ برسا۔ اُسی ذات کی قسم ہے جس نے آپؐ کو سچائی کے ساتھ بھیجا ہے۔ اُس دن آخر وقت تک مینہ گرجتا اور برستا رہا اور مسجد چھپر کی تھی اور میں نے آپؐ کی ناک پر مٹی اور کیچڑ کا نشان دیکھا۔
(تشریح)محمد بن سلام نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن فضیل بن غزوان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحيٰ بن سعید سے، انہوں نے عمرہ بنت عبدالرحمن سے، عمرہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر رمضان میں اعتکاف کیا کرتے تھے اور جب صبح کی نماز پڑھ چکتے تو وہ اپنی اُس جگہ میں داخل ہوجاتے جس میں اِعتکاف بیٹھتے۔ یحيٰ نے کہا کہ حضرت عائشہؓ نے آپ ؐ سے اِعتکاف کی اِجازت مانگی تو آپؐ نے اُن کو اِجازت دی۔ چنانچہ انہوں نے وہاں ایک خیمہ لگایا۔ جب حضرت حفصہؓ نے یہ سنا تو انہوں نے بھی ایک خیمہ لگادیا اور جب حضرت زینبؓ نے یہ سنا تو انہوں نے بھی ایک اور خیمہ لگالیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگلی صبح ( نماز سے )فار غ ہو کر واپس لَوٹے تو آپؐ نے تین خیمے دیکھے۔ فرمایا: یہ کیسے ہیں؟ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو حقیقت حال بتائی گئی تو آپؐ نے فرمایا: کس بات نے ان کو اِس اَمر پر آمادہ کیا ہے؟ کیا یہ نیکی ہے؟ انہیں اُکھیڑ ڈالو۔ میں انہیں مناسب نہیںسمجھتا۔ چنانچہ وہ اُکھیڑے گئے۔ چنانچہ آپؐ اُس رمضان میں اعتکاف ہی نہ بیٹھے یہاں تک کہ شوال کے آخری دہاکے میں آپؐ معتکف ہوئے۔
(تشریح)اسماعیل بن عبداللہ (بن ابی اویس) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے اپنے بھائی (عبدالحمید) سے، اُن کے بھائی نے سلیمان سے، سلیمان نے عبیداللہ بن عمر سے، انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت عبداللہ بن عمرؓسے، حضرت عبداللہ نے حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! میں نے جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ مسجد ِحرام میں ایک رات اِعتکاف بیٹھوں گا۔ آپؐ نے فرمایا: اپنی نذر پوری کرو۔ چنانچہ وہ ایک رات معتکف ہوئے۔
(تشریح)عبید بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ ابواُسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبیداللہ سے، عبیداللہ نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمرؓ سے روایت کی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے زمانہ جاہلیت میں منت مانی تھی کہ وہ مسجد ِحرام میں اِعتکاف بیٹھیں گے۔ روای کہتا ہے کہ میرا خیال ہے کہ انہوں نے ایک رات کے لئے کہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے فرمایا: اپنی نذر پوری کریں۔