بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 27 hadith
پھر ایک صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سواری پر سوار ہوئے ۔ اسی روزسورج گرہن لگا۔آپؐ چاشت کے وقت لوٹ آئے اور( اپنی ازواج کے) حجروں سے ہوتے ہوئے گزرے۔ پھر کھڑے ہوکر نماز پڑھنے لگے اور لوگ بھی آپؐ کے پیچھے کھڑے ہوگئے اور بہت دیر تک کھڑے رہے پھر آپؐ نے ایک لمبا رکوع کیاپھر سر اٹھایا اور پھر دیر تک کھڑ ے رہے اور یہ قیام پہلے سے کم تھا اور پھر آپؐ نے ایک لمبا رکوع کیا اور یہ رکوع پہلے سے کم تھا۔ پھر سر اٹھایا اور سجدہ کیا۔ پھرکھڑے ہوئے اور دیر تک کھڑے رہے اور یہ پہلے قیام سے کم تھا اور پھر ایک لمبا رکوع کیا اور یہ پہلے رکوع سے کم تھا ۔پھر کھڑے ہوئے اور دیر تک کھڑے رہے اور یہ پہلے قیام سے کم تھا اور پھر ایک لمبا رکوع کیا اور یہ پہلے رکوع سے کم تھا۔ پھر سر اٹھایااور سجدہ کیا اور (نماز سے) فارغ ہوگئے۔ پھر جو کچھ اللہ نے کہلانا چاہا کہا۔ پھرآپؐ نے ان سے فرمایا: عذابِ قبر سے پناہ مانگا کریں۔
(تشریح)ربیع بن یحيٰ نے ہم سے بیان کیا، کہا: زائدہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام (بن عروہ) سے، ہشام نے فاطمہ (بنت منذر) سے، فاطمہ نے حضرت اسماءؓ سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن میں غلام آزاد کرنے کا حکم دیا۔
(تشریح)مسدد نے ہم سے بیان کیا، کہا: یحيٰ (قطان) نے ہمیںبتایا۔ انہوں نے اسماعیل (بن ابی خالد) سے روایت کی، کہا: قیس نے مجھے بتایا۔ حضرت ابومسعود ( عقبہ بن عمروانصاریؓ)سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سورج اورچاند کسی کی موت اور زندگی کی و جہ سے گرہن نہیں ہوا کرتے بلکہ وہ اللہ کے نشانوں میں سے دونشان ہیں سو جب تم انہیں گہناتے دیکھو تو نماز پڑھو۔
ابونعیم (فضل) نے ہم سے بیان کیا، کہا: شیبان (نحوی) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحيٰ (بن ابی کثیر) سے، یحيٰ نے ابو سلمہ سے، ابوسلمہ نے حضرت عبداللہؓ بن عمروسے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گرہن ہوا تو لوگوں کو یہ اطلاع دی گئی کہ نماز باجماعت ہوگی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی رکعت میںدورکوع کئے۔ پھر آپؐ کھڑے ہوئے اور ایک رکعت میں دورکوع کئے۔ پھرآپؐ بیٹھے اور سورج سے تاریکی دور ہوگئی تھی۔ (حضرت عبداللہ بن عمروؓ نے) کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں: میں نے کسی نماز میں اتنا لمبا سجدہ نہیں کیا جتنا اس نماز میں۔
(تشریح)عبداللہ بن مسلمہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے زید بن اسلم سے، زید نے عطاء بن یسار سے، عطاء نے حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازپڑھائی ۔ آپؐ اتنی دیر تک کھڑے رہے جتنی دیر میں سورۃ بقرہ پڑھی جاسکتی ہے۔پھرآپؐ نے لمبا رکوع کیا اور سر اٹھایا اور دیر تک کھڑے رہے اور یہ قیام پہلے سے کم تھا۔ پھر آپؐ نے لمبا رکوع کیااور یہ پہلے رکوع سے کم تھا۔ پھرآپؐ نے سجدہ کیا ۔پھر دیر تک کھڑے رہے۔ یہ قیام پہلے قیام سے کم تھا۔ پھر ایک لمبا رکوع کیا اوریہ رکوع پہلے سے کم تھا۔ پھرآپؐ نے سر اٹھایا اور دیر تک کھڑے رہے اور یہ قیام پہلے سے کم تھا۔ پھر ایک لمبا رکوع کیا اور یہ رکوع پہلے سے کم تھا۔ پھر آپؐ نے سجدہ کیا اور پھر (نماز سے) فارغ ہوئے اور سورج ظاہر ہوچکا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سورج اورچاند اللہ تعالیٰ کے نشانوں میں سے دونشان ہیں۔ کسی کی موت اور زندگی کی وجہ سے نہیں گہناتے ۔ سو جب تم گرہن دیکھو تو اللہ تعالیٰ کو یاد کرو۔ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ ! ہم نے آپ ؐ کو دیکھا کہ آپ ؐنے اپنی جگہ کھڑے کھڑے کوئی چیز پکڑی ہے پھر ہم نے دیکھا آپؐ پیچھے کو ہٹے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: میں نے جنت کو دیکھا تھا اور ایک خوشہ لینے کو ہاتھ بڑھایا اور اگر وہ لے لیتا تو جب تک دنیا قائم رہتی تم اس سے کھاتے رہتے اور مجھے آگ بھی دکھائی گئی ۔ میں نے کبھی کوئی نظارہ ایسا بھیانک نہیں دیکھا جیسے آج ۔ میں نے آگ والوں میں اکثر عورتیں دیکھیں۔ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ ! کس لئے ؟ آپؐ نے فرمایا: ان کے اپنے کفر کی وجہ سے ۔ آپؐ سے پوچھا گیا کہ اللہ تعالیٰ کا کفر کرتی ہیں؟ آپؐ نے فرمایا: خاوند کی ناشکری کرتی ہیں اور احسان فراموش ہوتی ہیں۔ اگر تو عمر بھر اُن میں سے کسی پر احسان کرے۔ پھر اگر وہ تجھ سے ویسی کوئی بات دیکھے تو وہ کہہ دے گی ۔ میں نے تجھ سے کبھی بھلائی نہیں دیکھی۔
(تشریح)عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنی بی بی فاطمہ بنت منذر سے، فاطمہ نے حضرت اسماء بنت ابی بکررضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ۔ وہ کہتی تھیں: جب سورج گرہن ہوا تو میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زو جہ کے پاس آئی ۔ میں نے کیا دیکھاکہ لوگ کھڑے نماز پڑھ رہے ہیں اورحضرت عائشہؓ بھی کھڑی نماز پڑھ رہی ہیں۔ میں نے کہا: لوگوں کو کیا ہوا ؟ انہوں نے اپنے ہاتھ سے آسمان کی طرف اشارہ کیا اور سبحان اللہ کہا۔ میں نے پوچھا: کیا کوئی نشان ہے؟ انہوں نے اشارہ کیا یعنی ہاں۔ کہتی تھیں: میں بھی کھڑی ہوگئی۔ یہاں تک کہ مجھ پر غشی طاری ہونے لگی۔ میں اپنے سر پر پانی ڈالنے لگی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو آپؐ نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء بیان کی۔ پھر فرمایا: کوئی بھی ایسی چیز نہیں کہ میں نے نہ دیکھی ہو مگر میں نے (آج) اپنے اس مقام میں دیکھ لی ہے۔ یہاں تک کہ جنت اور آگ کو بھی اور مجھے یہ وحی کی گئی ہے کہ قبروں میں تمہاری اسی طرح آزمائش کی جائے گی جیسا کہ دجال کے فتنہ کے ذریعہ سے یا اس کے قریب قریب؛ میںنہیںجانتی کہ حضرت اسماءؓ نے ان دونوں لفظوں میں سے کون سا لفظ کہا تھا۔ تم میںسے ایک کے پاس (فرشتہ) آئے گا اور کہے گا: اس شخص کی بابت تمہیں کیا علم ہے جو ماننے والا ہے؟ یا فرمایا: یقین کرنے والا۔ میں نہیں جانتی، حضرت اسماءؓ نے ان دونوں لفظوں میں سے کون سا لفظ کہا۔ تووہ کہے گا: محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ ہمارے پاس کھلے کھلے دلائل اور ہدایت کی باتیں لے کر آئے ۔ ہم نے ان کو مانا اور ایمان لے آئے اور ان کی پیروی کی۔ اسے کہا جائے گا: آرام سے سوجا۔ ہم تو جانتے ہی تھے کہ تُو تو یقین کرنے والا ہی ہے اورجو منافق ہوگا یا شک کرنے والا، میں نہیں جانتی، ان میں سے حضرت اسماءؓ نے کون سا لفظ کہا تھا تو وہ کہے گا : میں نہیں جانتا۔ لوگوں کو میں نے کچھ کہتے سنا ۔ میں نے بھی کہہ دیا۔
(تشریح)اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کو سواری پر سوار ہوئے (اس دن) سورج گرہن ہوا۔ آپؐ چاشت کے وقت لوٹے اور (اپنی ازواج کے) حجروں میں سے گذر ے۔ پھر کھڑے ہوکر نماز پڑھائی اور لوگ بھی آپؐ کے پیچھے کھڑے ہوگئے۔ آپؐ بڑی دیر تک کھڑے رہے۔ پھر ایک لمبا رکوع کیا۔ پھر آپؐ نے سر اٹھایا اور دیر تک کھڑے رہے اور یہ قیام پہلے قیام سے کم تھا۔ پھرآپؐ نے ایک لمبا رکوع کیا اور یہ رکوع پہلے رکوع سے کم تھا۔ پھرآپؐ نے سر اٹھایا اور پھر لمبا سجدہ کیا ۔ پھرکھڑے ہوئے اور دیر تک کھڑے رہے اور یہ قیام پہلے قیام سے کم تھا۔ پھر ایک لمبا رکوع کیا اور یہ رکوع پہلے رکوع سے کم تھا۔ پھر آپؐ کھڑے ہوئے ۔ دیر تک کھڑے رہے اور یہ پہلے قیام سے کم تھا۔پھر آپؐ نے ایک لمبا رکوع کیا اوروہ پہلے رکوع سے کم تھا۔ اور پھر سجدہ کیا اور یہ پہلے سجدہ سے کم تھا۔ پھر(نمازسے) فارغ ہوکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواللہ نے کہلانا چاہا، کہا۔ پھر آپؐ نے ان سے فرمایا کہ وہ عذابِ قبر سے پناہ مانگا کریں۔
(تشریح)عبداللہ بن محمد نے ہم سے بیان کیا، کہا: ہشام (بن یوسف) نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) معمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری اور ہشام بن عروہ سے، ان دونوں نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے۔ وہ کہتی تھیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گرہن ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور لوگوں کو نماز پڑھائی اور لمبی قرأت کی۔ پھرآپؐ نے رکوع کیا اور بہت لمبا رکوع کیا۔ پھر سر اٹھایا۔ پھر لمبی قرأت کی اور یہ آپؐ کی پہلی قرأت سے کم تھی۔ پھر رکوع کیا اور دیرتک رکوع میں رہے اور (یہ) آپ کے پہلے رکوع سے کم تھا۔ پھر آپؐ نے سر اٹھایا اور دو سجدے کئے ۔ پھرآپؐ اٹھے اور دوسری رکعت میں بھی آپؐ نے ایسا ہی کیا۔ پھرآپؐ کھڑے ہوئے اور فرمایا: سورج اور چاند کسی کی موت اور زندگی کی وجہ سے نہیں گہناتے بلکہ وہ اللہ کے نشانوں میں سے دو نشان ہیں۔ جو وہ اپنے بندوں کو دکھاتا ہے۔ سو جب تم گرہن دیکھو تو مضطرب ہوکر نماز کے لئے لپکو۔
(تشریح)محمد بن علاء نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہاکہ ابواسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے برُید بن عبداللہ سے، برید نے ابو بردہ سے، ابوبردہ نے حضرت ابوموسیٰ ؓسے روایت کی کہ انہوں نے کہا: سورج گرہن ہوا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم مضطرب ہوکر اٹھے۔ آپؐ ڈرے، کہیں وہ گھڑی نہ ہو۔ آپؐ مسجد میں آئے اور اتنے لمبے قیام اور رکوع اور سجدے کے ساتھ نماز پڑھی کہ میں نے کبھی ایسا آپؐ کو کرتے دیکھا تھااور فرمایا: یہ نشان جواللہ عزّوجل بھیجتا ہے، کسی کی موت اور زندگی کی وجہ سے نہیں ہوتے بلکہ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے سے اپنے بندوں کو خوف دلاتاہے۔ پس تم جب ایسا دیکھو تو (اللہ تعالیٰ کے) ذکر کرنے اور اس سے دعا مانگنے اور مغفرت چاہنے کے لئے مضطرب ہوکر لپکو۔
(تشریح)