بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 35 hadith
ابونعیم (فضل بن دکین) نے ہم سے بیان کیا، کہا: سفیان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبداللہ بن ابی بکر سے، عبداللہ نے عباد بن تمیم سے، عباد نے اپنے چچا (حضرت عبداللہ بن زیدؓ) سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم بارش کے لئے دعا مانگنے نکلے اور آپؐ نے (دعا مانگتے ہوئے) اپنی چادر اُلٹائی۔
(تشریح)عمرو بن علی نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابوقتیبہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: عبدالرحمن بن عبد اللہ بن دینا ر نے ہمیں بتایا ۔ ان کے باپ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عمرؓ کو ابو طالب کا یہ شعر پڑھتے ہوئے سنا: ا ور وہ خوبرو جس کے منہ کے طفیل مینہ برسایا جاتا ہے جو یتیموں کی پنا ہ اور بیوائوں کی ڈھارس ہے
اور عمر بن حمزہ کہتے تھے: سالم نے ہمیں بتایا کہ ان کے باپ سے مروی ہے کہ بسااوقات میں کہنے والے کا یہ قول یاد کرتا اور میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ کو دیکھتا ۔ جبکہ آپؐ برسات کے لئے دعاکرتے۔ آپؐ (منبرسے) نہ اترتے تا وقتیکہ پرنالے زور سے بہنے نہ لگ جاتے۔ اور وہ خوبرو جس کے منہ کے طفیل مینہ برسایا جاتا ہے جو یتیموں کی پنا ہ اور بیوائوں کی ڈھارس ہے اور یہ ابوطالب کا شعر ہے ۔
اسحق نے ہم سے بیان کیا، کہا: وہب (بن جریر) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے محمد بن ابوبکر سے، محمد بن ابوبکر نے عباد بن تمیم سے، عباد نے حضرت عبداللہ بن زیدؓ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بارش کے لئے دعا مانگی اوراپنی چادر اُلٹائی۔
قتیبہ نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) مغیرہ بن عبدالرحمن نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوزناد سے، ابوزناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب آخری رکوع سے سر اُٹھاتے تو یوں کہتے: یا اللہ! عیاشؓ بن ابی ربیعہ کو نجات دے۔ یا اللہ! سلمہؓ بن ہشام کو نجات دے۔ یا اللہ! ولیدؓ بن ولید کو نجات دے۔ اے اللہ! ناتواں مسلمانوں کو چھڑوادے۔ اے اللہ! مضر کو سختی سے لتاڑ۔ ان کے سالوں کو حضرت یوسف ؑ کے سالوں کی طرح کردے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ قبیلہ غفار کی مغفرت کرے اور قبیلہ اسلم کو اللہ سلامتی میں رکھے۔ ابوزناد کے بیٹے نے اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے کہا: یہ ساری دعائیں صبح کی نماز میں کی تھیں۔ {حمیدی نے ہم سے بیان کیا، کہا: ہمیں سفیان (ثوری) نے بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابوالضحیٰ سے، ابوالضحیٰ نے مسروق سے، مسروق نے حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) سے۔٭}
اور عثمان بن ابی شیبہ نے بھی ہم سے بیان کیا، کہا: جریر (بن عبدالحمید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصورسے، منصور نے ابوالضحیٰ سے، ابوالضحیٰ نے مسروق سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ہم حضرت عبد اللہ (بن مسعودؓ) کے پاس تھے۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دیکھا کہ لوگ روگردانی کررہے ہیں تو آپؐ نے فرمایا: اے اللہ! سات سالہ قحط۔ جیسا حضرت یوسف ؑکے وقت میں سات سالہ قحط ڈالا تھا، (ان پر ڈال) سو اُن پر ایسا قحط پڑا، جس نے ہر ایک چیز کو فنا کر دیا۔ یہاں تک کہ آخر انہوں نے کھال اور مردار اور بدبودار لاشیں بھی کھائیں اور ان میں سے کوئی جو آسمان کی طرف نظرکرتا تو بھوک کے مارے اسے دھواں ہی نظر آتا۔ ابوسفیان آپؐ کے پاس آئے اور انہوں نے کہا: محمد! آپؐ تو اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری اور صلہ رحمی کا حکم کرتے ہیں اور یہ دیکھو آپ کی قوم ہلاک ہو گئی ہے۔ اللہ سے ان کے لیے دعا کریں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا: {پس انتظار کر اُس دن کا جب آسمان ایک واضح دھواں لائے گا۔ ضرور تم (انہی باتوں کا) اعادہ کرنے والے ہو۔} جس دن ہم بڑی گرفت کریں گے۔ پس یہ بڑی گرفت بدر کے دن ہوئی۔ چنانچہ دھوئیں کا عذاب اور سخت گرفت اور لزاماً والی پیشگوئی اور روم کی پیشگوئی یہ سب باتیں ہو چکیں۔
(تشریح)حسن بن محمد نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) محمد بن عبداللہ (بن مثنیٰ) انصاری نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: مجھے میرے باپ عبداللہ بن مثنیٰ نے بتایا۔ انہوں نے ثمامہ بن عبداللہ بن انس سے، ثمامہ نے حضرت انسؓ (بن مالک) سے روایت کی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ (کے زمانہ میں) جب لوگوں میں قحط پڑتا توحضرت عباس بن عبدالمطلب (رضی اللہ عنہ) کے وسیلہ سے بارش کی دعا کرتے اور کہتے: اے اللہ ! ہم تجھ تک اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کے وسیلہ سے پہنچا کرتے تھے اور تو ہمیں پانی پلاتا تھا۔ اب ہم اپنے نبیؐ کے چچا کے وسیلہ سے تجھ تک پہنچتے ہیں۔ ہمارے لئے مینہ برسااور ہمیں پانی پلا۔ راوی کہتا تھا : ان کے لئے برسایا جاتا تھا۔
(تشریح)علی بن عبداللہ (مدنی) نے ہم سے بیان کیا، کہا: سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا کہ عبداللہ بن ابی بکر نے کہا کہ انہوں نے عباد بن تمیم سے سنا۔ وہ اپنے باپ کو اپنے چچا حضرت عبداللہ بن زیدؓ سے روایت کرتے ہوئے بتا رہے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عیدگاہ کی طرف گئے اور بارش کے لئے دعا کی اور آپؐ نے قبلہ کی طرف منہ کیا اوراپنی چادر الٹائی اور دورکعتیں پڑھیں۔ ابوعبداللہ نے کہا: (سفیان) بن عیینہ کہتے تھے: (حضرت عبداللہ بن زیدؓ) وہی ہیں جنہوں نے (خواب میں) اذان دیکھی تھی لیکن یہ ان کی غلطی ہے کیونکہ یہ عبداللہ بن زید بن عاصم مازنی ہیں۔ یعنی قبیلۂ مازنِ انصار۔
(تشریح)محمد (بن سلام بیکندی) نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابو ضمرہ انس بن عیاض نے ہم سے بیان کیا، کہا: شریک بن عبداللہ بن ابی نمر نے ہمیں بتایا کہ انہوں نے حضرت انس بن مالکؓ سے سنا کہ وہ ذکر کر رہے تھے کہ ایک شخص جمعہ کے دن مسجد نبوی کے اس دروازے سے داخل ہوا جو منبر کے سامنے تھا اور اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ پڑھ رہے تھے۔ وہ کھڑے کھڑے رسول اللہ ﷺ کی طرف متوجہ ہوا اور کہا: یا رسول اللہ! مال مویشی مرگئے اور راستے بند ہو گئے اس لیے آپؐ اللہ سے دعا کریں کہ ہم پر مینہ برسائے۔ (حضرت انسؓ) کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ اٹھا کر کہا: اے اللہ !ہمیں پانی پلا۔ اے اللہ! ہمیں پانی پلا۔ اے اللہ !ہمیں پانی پلا۔ حضرت انسؓ کہتے تھے : اللہ کی قسم ہم آسمان میں نہ بادل دیکھتے تھے نہ بادل کا کوئی ٹکڑا اور نہ کوئی اور چیزاور نہ ہمارے اور سلع پہاڑ کے درمیان کوئی گھر یا مکان تھا( کہ آسمان اوٹ میں ہو) کہتے تھے: اتنے میں اس پہاڑ کے پیچھے سے ایک بدلی نمودار ہوئی، ڈھا ل کے برابر تھی۔ جب وہ آسمان کے وسط میں آئی تو پھیل گئی۔ پھر برسنے لگی ۔ کہتے تھے: اللہ کی قسم! ہم نے ہفتہ بھر سورج نہ دیکھا۔ پھر آئندہ جمعہ کو ایک شخص اسی دروازہ سے مسجد میں آیا اور اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے خطبہ پڑھ رہے تھے۔ وہ کھڑے کھڑے آپؐ کی طرف متوجہ ہوا اور کہا :یا رسول اللہ! مال مویشی مر گئے اور راستے بند ہو گئے۔ اللہ سے دعا کیجئے کہ بارش روک لے۔ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر کہا: یا اللہ ! ہمارے ارد گرد بارش ہو اور ہم پر نہ ہو۔ یا اللہ ! ٹیلوں اور پہاڑوں اور ٹیکروں اور وادیوں اور درخت اگنے کے مقامات پر بارش ہو۔ (حضرت انسؓ کہتے تھے ) اتنے میں بارش بند ہو گئی ۔ اور ہم نکلے، دھوپ میں چلنے پھرنے لگے۔ شریک کہتے تھے کہ میں نے حضرت انسؓ سے پوچھا: کیا یہ پہلا شخص ہی تھا؟ انہوں نے کہا: میں نہیں جانتا۔
(تشریح)قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا،کہا: اسماعیل بن جعفر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے شریک سے، شریک نے حضرت انس بن مالکؓ سے روایت کی کہ ایک شخص جمعہ کے دن اس دروازے سے مسجد میں داخل ہوا جو دارالقضاء کی طرف تھا۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے خطبہ فرمارہے تھے۔ وہ شخص کھڑے کھڑے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف متوجہ ہوا اور کہا: یا رسول اللہ! مال مویشی ہلاک ہوگئے اورراستے بند ہوگئے ۔ آپؐ اللہ سے دعا کریں کہ ہم پر مینہ برسائے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ اٹھا کر کہا: اے اللہ ! ہم پر بارش برسا۔ اے اللہ ! ہم پر بارش برسا۔ اے اللہ ! ہم پر بارش برسا۔ حضرت انسؓ کہتے تھے: اللہ کی قسم ہم آسمان میں نہ ابر دیکھتے تھے نہ ابر کا ٹکڑا اور سلع پہاڑ اور ہمارے درمیان نہ کوئی گھر تھا ،نہ مکان ۔ کہتے تھے: اتنے میں پہاڑ کے پیچھے سے ایک بدلی ڈھال کے برابر نمودار ہوئی۔ جب وہ آسمان کے درمیان آئی تو پھیل گئی اور برسنے لگی۔ بخدا ہم نے سورج ہفتہ ٭بھر نہیں دیکھا۔ پھر جمعہ کے دن اسی دروازہ سے ایک شخص داخل ہوا اور اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے خطبہ فرمارہے تھے۔ اس نے کھڑے کھڑے آپؐ کی طرف منہ کیا اور کہا: یا رسول اللہ! مال مویشی تباہ ہوگئے اور راستے کٹ گئے۔ آپؐ اللہ سے دعا کریں کہ بارش ہم سے روک لے۔ حضرت انس ؓنے کہا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر کہا: اے اللہ ! ہمارے گردا گرد ہو اور ہم پر نہ ہو۔ اے اللہ ! ٹیلوں اور ٹیکریوں اور وادیوں کے نشیبوں میں اور درخت اگنے کی جگہوں میں برسے۔ حضرت انسؓ کہتے تھے : اتنے میں بادل پھٹ گیا اور ہم نکلے، دھوپ میں چلنے پھرنے لگے۔ شریک کہتے تھے: میں نے حضرت انس بن مالکؓ سے پوچھا : کیا یہ پہلا ہی شخص تھا؟ انہوں نے جواب دیا ۔ میں نہیں جانتا۔
(تشریح)