بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 3 of 13 hadith
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) یعقوب بن عبدالرحمن نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوحازم(سلمہ بن دینار) سے، ابوحازم نے حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر پہنچی کہ بنی عمرو بن عوف کے درمیان کچھ جھگڑا ہوا ہے۔ آپؐ اپنے ساتھ بعض صحابہؓ کو لے کر ان میں صلح کرانے کے لئے گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (وہاں) رک گئے اور نماز کا وقت آپہنچا۔ حضرت بلالؓ حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: ابوبکر! رسول اللہ ﷺ تو رک گئے اور نماز کا وقت بھی ہوگیا ہے۔ کیا آپ لوگوں کی امامت کریں گے؟ انہوں نے کہا: اچھا اگر تم چاہتے ہو۔ حضرت بلالؓ نے تکبیر اقامت کہی اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور لوگوں کے لئے اللہ اکبر کہا اور رسول اللہ ﷺ بھی صفوں میں سے چلتے ہوئے آگئے اور پہلی صف میں کھڑے ہوگئے اور لوگوں نے تالیاں بجانی شروع کردیں۔حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ نماز میں اِدھر اُدھر دھیان نہیں کرتے تھے۔ جب لوگوں نے بہت تالیاں بجائیں تو انہوں نے مڑ کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ موجود ہیں اور رسول اللہ ﷺنے انہیں اشارہ کیا کہ نماز پڑھائو۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور اللہ تعالیٰ کی حمد کی اور اُلٹے پائوں پیچھے ہٹے۔ یہاں تک کہ صف میں کھڑے ہوگئے اور رسول اللہ ﷺ آگے بڑھے اور آپؐ نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ جب آپؐ فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے۔ آپؐ نے فرمایا:لوگو ! تمہیں نماز میں کوئی امر پیش آئے تو تم تالیاں بجانے لگتے ہو ۔ تالی بجانا تو عورتوں کے لئے ہے۔ جسے نماز میں کوئی بات پیش آئے تو چاہیے کہ سبحان اللہ کہے۔ جس وقت سبحان اللہ کہے گا تو جو بھی سنے گا اس کی طرف متوجہ ہوگا۔ ابوبکرؓ ! جب میں نے تمہیں اشارہ کیا تھا تو تمہیں کس بات نے روکا کہ لوگوں کو نماز پڑھاتے ؟ حضرت ابوبکرؓ نے کہا: ابوقحافہ کے بیٹے کے لئے یہ زیبا نہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے ہو کر نماز پڑھائے۔
یحيٰ بن سلیمان نے ہم سے بیان کیا، کہا: (عبداللہ) بن وہب نے مجھ سے بیان کیا،( کہا:) (سفیان) ثوری نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ہشام سے، ہشام نے فاطمہ(بنت منذر) سے، فاطمہ نے حضرت اسمائؓ سے روایت کی کہ وہ کہتی تھیں: میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی اور وہ کھڑی نماز پڑھ رہی تھیں اور لوگ بھی کھڑے تھے۔ میں نے کہا: لوگوں کی کیا حالت ہے ؟ تو اُنہوں نے اپنے سر سے آسمان کی طرف اشارہ کیا۔ میں نے کہا: کیا کوئی نشان ہے ؟ تو انہوں نے سر سے اشارہ کیا۔ یعنی ہاں۔
اسماعیل (بن ابی اویس) نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ہشام سے، ہشام نے اپنے باپ(عروہ بن زبیر) سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نبی ﷺ کی زوجہ سے روایت کی کہ وہ کہتی تھیں: نبی ﷺ نے اپنے گھر میں بیٹھ کر نماز پڑھی اور آپؐ بیمار تھے اور کچھ لوگوں نے بھی آپؐ کے پیچھے کھڑے ہوکر نماز پڑھی۔ آپؐ نے انہیں اشارہ کیا کہ بیٹھ جائو۔ جب فارغ ہوئے تو فرمایا: امام تو اس لئے مقرر ہوا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔ اس لئے جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور جب وہ سر اُٹھائے تم بھی سر اُٹھائو۔