بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 13 hadith
عبد اللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) مالک بن انس نے ہمیں بتایا ۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عبد لرحمن اعرج سے، اعرج نے حضرت عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کسی نماز میں دو رکعتیں پڑھا کر پھر کھڑے ہوگئے اور بیٹھے نہیں۔ لوگ بھی آپؐ کے ساتھ کھڑے ہوگئے ۔ جب آپؐ نے نماز ختم کی اور ہم آپؐ کے سلام کے منتظر تھے تو آپؐ نے سلام سے پہلے اللہ اکبر کہا اور بیٹھے بیٹھے دو سجدے کئے۔ پھر آپؐ نے سلام پھیرا۔
عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا ، (کہا:) مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحيٰ بن سعید (انصاری) سے، یحيٰ نے عبد الرحمن اعرج سے، عبدالرحمن نے حضرت عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ
ابوالولید نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حکم بن (عتیبہ) سے، حکم نے ابراہیم (نخعی) سے، ابراہیم نے علقمہ سے، علقمہ نے حضرت عبد اللہ (بن مسعود ) رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی پانچ رکعتیں پڑھیں تو آپؐ سے پوچھا گیا : کیا نماز میں زیادتی ہوئی ہے؟ آپؐ نے فرمایا: کیوں، کیا بات ہے؟ تو ایک نے کہا : آپؐ نے پانچ رکعتیں پڑھی ہیں۔ تب آپؐ نے سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کیے۔
آدم نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) شعبہ نے ہمیں بتایا ۔ انہوں نے سعد بن ابراہیم سے، سعد نے ابوسلمہ سے، ابو سلمہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ظہر یا عصر کی نماز پڑھائی اور سلام پھیرا تو ذوالیدین نے آپؐ سے کہا : یا رسول اللہ! کیا نماز کچھ کم ہوگئی ہے؟ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے پوچھا: کیا صحیح ہے جو یہ کہتا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ تب آپؐ نے دو رکعتیں اور پڑھیں۔ پھر آپؐ نے دو سجدے کئے۔ سعد کہتے تھے: اور میں نے حضرت عروہ بن زبیرؓ کو دیکھا کہ انہوں نے مغرب کی دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیرا اور باتیں بھی کیں۔ پھر جو (رکعت) باقی رہ گئی تھی۔ وہ پڑھی اور دو سجدے کئے اور کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کیاتھا۔
(تشریح)عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) مالک بن انس نے ہمیں بتایا۔ انہوں نےایوب بن ابی تمیمہ سختیانی سے، ایوب نے محمدبن سیرین سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتیں پڑھ کر نماز سے فارغ ہوگئے تو آپؐ سے ذو الیدین نے کہا: یا رسول اللہ ! نماز کم ہوگئی ہے یا آپؐ بھول گئے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ؟ کیا ذوالیدین سچ کہتا ہے؟ لوگوں نے جواب دیا: ہاں۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور دو رکعتیں اور پڑھائیں ۔ پھر آپؐ نے سلام پھیرا۔ پھر اللہ اکبر کہا اور سجدہ کیا جیسے آپؐ سجدہ کیا کرتے تھے یا اس سے لمبا ۔ پھر آپؐ نے سر اٹھایا۔ سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) حماد (بن یزید) نے ہمیں بتایا کہ سلمہ بن علقمہ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے محمد( بن سیرین ) سے پوچھا : کیا سہو کے دو سجدوں میں تشہد ہوتا ہے؟ تو انہوں نے کہا: اَز روئے حدیث حضرت ابوہریرہؓ تشہد نہیں ہوتا۔
(تشریح)حفص بن عمر نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) یزید بن ابراہیم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے محمد (بن سیرین) سے، محمد نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوپہر کی دو نمازوں میں سے ایک نماز میں دو رکعتیں پڑھیں۔ محمد بن (سیرین) کہتے تھے : اور میرا غالب گمان یہ ہے کہ وہ عصر کی نماز تھی۔ پھر آپؐ نے سلام پھیرا۔ اس کے بعدآپؐ ایک لکڑی پر ٹیک لگا کر کھڑے ہوئے جو مسجد کے سامنے تھی۔ آپؐ نے اس پر اپنا ہاتھ رکھا اور لوگوں میں حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے۔یہ دونوں آپؐ سے بات کرنے میں ہچکچاتے تھے اور لوگوں میں سے جلدباز مسجد سے نکل گئے اور انہوں نے کہا: کیا نماز کم ہوگئی ہے؟ اور ایک شخص نے؛ جسے رسول اللہ ﷺ ذوالیدین فرمایا کرتے تھے؛ کہا: کیا آپ بھول گئے ہیں یا نماز کم ہوگئی ہے؟ آپؐ نے فرمایا: نہ میں بھولا ہوں نہ نماز کم ہوئی ہے۔ تو اس نے کہا: نہیںبلکہ آپؐ بھول گئے ہیں۔ تب رسول اللہ ﷺ نے دو رکعتیں پڑھیں۔ پھر اس کے بعد سلام پھیرا ۔ پھر اللہ اکبر کہااور سجدہ کیا، جیسے آپؐ سجدہ کیا کرتے تھے یا اس سے لمبا۔ پھر آپؐ نے سر اُٹھایا اوراللہ اکبرکہا۔
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا، کہا: لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے ، ابن شہاب نے اعرج سے، اعرج نے حضرت عبداللہ بن بحینہ اسدیؓ سے جو بنی عبد المطلب کے حلیف تھے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز میں کھڑے ہوگئے جبکہ آپؐ کو بیٹھنا چاہیے تھا۔جب آپؐ نماز پوری کرچکے تو آپؐ نے سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کئے۔ ہر سجدہ میں اللہ اکبر کہتے اور آپؐ بیٹھے ہوئے تھے اور لوگوں نے بھی آپؐ کے ساتھ یہ دو سجدے کئے۔ اس بیٹھنے کے بدلے جو آپؐ بھول گئے تھے۔ لیث کی طرح ابن جریج نے بھی ابن شہاب سے اللہ اکبر کہنے کے متعلق روایت کی ہے۔
(تشریح)معاذ بن فضالہ نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) ہشام بن ابی عبد اللہ دستوائی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحيٰ بن کثیر سے، یحيٰ نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نماز کے لئے پکارا جاتا ہے تو شیطان پیٹھ پھیر کرگوز مارتا ہواچلا جاتا ہے تا کہ وہ اذان نہ سنے۔ جب اذان ختم ہوتی ہے تو وہ آجاتا ہے۔ پھر جب تکبیر اقامت پر صفیں درست کی جاتی ہیں تو پیٹھ موڑ کر چل دیتا ہے ۔ پھر جب نمازی قبلہ رخ ہوکرنماز شروع کرتا ہے تو وہ آجاتا ہے تا آدمی اور اس کے نفس کے درمیان وسوسے ڈالے ۔ کہتا ہے: یہ بات یاد کر وہ یاد کر اور اسے وہ وہ باتیں یاد دِلاتا ہے جو وہ کبھی یا د کرنے کو نہیں تھا۔ آخر آدمی کی یہ حالت ہوجاتی ہے کہ نہیں جانتا کتنی رکعتیں پڑھی ہیں؟ اگر تم میں سے کسی کو پتہ نہ رہے کہ کتنی رکعتیں پڑھی ہیں، تین یا چار؟ تو وہ بیٹھے بیٹھے سجدے کرلے۔
(تشریح)عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے، ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جب کوئی کھڑا ہو کر نماز پڑھنے لگے تو شیطان آتا ہے اور اس کے لئے نماز مشتبہ کردیتا ہے، یہاں تک کہ اسے پتہ نہیں رہتا کہ کتنی رکعتیں پڑھیں؟ پس جب تم میں سے کسی کو ایسا اتفاق ہو تو چاہیے کہ وہ بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرے۔
یحيٰ بن سلیمان نے ہم سے بیان کیا، کہا: (عبداللہ) بن وہب نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: عمرو(بن حارث) نے بکیر سے، بکیر نے کریب سے روایت کرتے ہوئے بتایا کہ حضرت ابن عباس، حضرت مسوربن مخرمہ اور حضرت عبدالرحمن بن ازہر رضی اللہ عنہم نے ان کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا اور کہا: ہم سب کی طرف سے ان کو سلام کہیں اور ان سے عصر کی نماز کے بعد دو رکعتوں کی بابت پوچھیں اور ان سے کہیں: ہمیں بتایا گیا ہے کہ آپ پڑھا کرتی ہیں۔ حالانکہ ہمیں یہ حدیث پہنچی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے روکا تھا اور حضرت ابن عباسؓ نے کہا کہ میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما کے ساتھ ہوکر لوگوں کو مار مار کر اِن سے روکا کرتا تھا۔ کریب نے کہا: میں حضرت عائشہؓ کے پاس گیا اور میں نے انہیں وہ پیغام پہنچایا جس کے لئے مجھے بھیجا تھا۔ تو انہوں نے کہا: حضرت ام سلمہؓ سے پوچھو: میں ان (لوگوں) کے پاس واپس گیا اورحضرت عائشہؓ نے جو کہا تھا۔ میں نے انہیں بتایا تو انہوں نے اسی پیغام کے ساتھ مجھے حضرت ام سلمہؓ کی طرف لوٹایا؛ جس کے ساتھ مجھے حضرت عائشہؓ کی طرف بھیجاتھا۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہانے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے منع کرتے ہوئے سنا تھا۔ پھر میں نے آپؐ کو دیکھا کہ جب آپؐ نے عصر کی نماز پڑھ لی تو آپؐ نے یہ دو رکعتیں بھی پڑھیں۔ پھرآپؐ میرے ہاں آئے، تو اس وقت انصار میں سے بنی حرام قبیلہ کی کچھ عورتیں میرے پاس تھیں۔ میں نے آپؐ کے پاس ایک لڑکی کو بھیجا اور کہا: تم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے ہو کر آپؐ سے کہنا: ام سلمہؓ آپ سے پوچھتی ہے: یا رسول اللہ ! میں نے آپؐ کو ان دو رکعتوں سے منع کرتے ہوئے سنا تھا اور اب میں دیکھتی ہوں کہ آپؐ یہ پڑھ رہے ہیں۔ اگر آپؐ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا تو پیچھے ہٹ جانا۔ لڑکی نے جاکر ایسا ہی کیا تو آپ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا اور وہ پیچھے ہٹ گئی۔ جب آپؐ نماز سے فارغ ہوئے تو آپؐ نے فرمایا: ابوامیہ کی بیٹی ! تو نے نماز عصر کے بعد کی دو رکعتوں کی بابت پوچھا ہے اور بات یہ ہے کہ عبدالقیس کے کچھ لوگ میرے پاس آئے تھے۔ انہوں نے مجھے مشغول رکھا۔ دو رکعتیں نہیں پڑھنے دیں جو کہ ظہر کے بعد ہوتی ہیں سو یہ وہی دو رکعتیں ہیں۔
(تشریح)