بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 20 hadith
عبدان نے ہم سے بیان کیا کہ میرے باپ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے شعبہ سے روایت کی کہ ابواسحاق نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے حضرت براء بن عازبؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: جنگ احزاب کے دن نبی ﷺ ہمارے ساتھ مٹی ڈھو رہے تھے اور میں نے آپؐ کو دیکھا کہ مٹی نے آپؐ کے پیٹ کی سفیدی کو ڈھانپ لیا تھا۔ آپؐ فرماتے تھے: اگر تو نہ ہوتا تو ہم کبھی راہ راست نہ پاتے اور نہ صدقہ دیتے اور نہ نمازیں پڑھتے۔ اس لئے تو ہم پر سکینت نازل فرما۔ اِنہوں نے، کبھی راوی نے یوں کہا: اِنہی لوگوں نے ہم پر تعدی کی ہے۔ جب کبھی انہوں نے فساد کرنا چاہا ہے ہم نے اس کا انکار کیا، ہم نے اس کا انکار کیا۔ آپؐ ان الفاظ پر اپنی آواز کو بلند کرتے۔
(تشریح)یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے جعفر بن ربیعہ سے، جعفر نے عبدالرحمٰن سے روایت کی۔ (انہوں نے کہا:) میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ میں اپنی اُمت کو مشقت میں ڈال دوں گا تو میں اُنہیں مسواک کرنے کا ضرور حکم دیتا۔
عبداللہ بن محمد نے مجھ سے بیان کیا کہ معاویہ بن عمرو نے ہمیں بتایا کہ ابواسحاق نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے موسیٰ بن عقبہ سے، موسیٰ نے سالم ابونضر سے جو حضرت عمر بن عبیداللہؓ کے آزاد کردہ غلام اور ان کے کاتب تھے، روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ ؓنے اُن کو خط لکھا اور میں نے اسے پڑھا تو اس میں یہ مضمون تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دشمن سے مقابلہ کرنے کی آرزو مت کرو اور اللہ سے عافیت مانگتے رہو۔
(تشریح)علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ ابوزناد نے ہم سےبیان کیا۔ انہوں نے قاسم بن محمد سے روایت کی۔ انہوں نے کہا:حضرت ابن عباسؓ نے آپس میں دو لعان کرنے والوں کا ذکر کیا تو عبداللہ بن شداد نے پوچھا: کیا یہ عورت وہی تھی جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بغیر ثبوت کے اگر میں کسی عورت کو سنگسار کرنے والا ہوتا؟ حضرت ابن عباسؓ نے کہا: نہیں۔ وہ تو ایسی عورت تھی جو علانیہ ارتکاب کرتی تھی۔
علی (مدینی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے عمرو (بن دینار) سے روایت کی کہ عطاء (بن ابی رباح) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے عشاء میں دیر کردی۔ اس پر حضرت عمرؓ نکلے اور اُنہوں نے کہا: یا رسول اللہ! نماز پڑھا دیں۔ عورتیں اور بچے سوگئے ہیں۔ آپؐ باہر آئے اور آپؐ کا سر پانی سے ٹپک رہا تھا ۔ آپؐ فرمارہے تھے: اگر مجھے یہ خیال نہ ہوتا کہ اپنی اُمت کو یا فرمایا: لوگوں کو مشقت میں ڈال دوں گا تو میں اُن کو اِس وقت نماز پڑھنے کا حکم دیتا۔ سفیان (بن عیینہ) نے بھی یوں کہا: اپنی امت کو۔ اور ابن جریج نے عطاء سے، عطاء نے حضرت ابن عباسؓ سے یہ الفاظ نقل کئے : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نماز میں دیر کر دی تو حضرت عمرؓ آئے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ! عورتیں اور بچے سو گئے ہیں۔ آپؐ باہر آئے اور اپنے سر کی ایک جانب سے پانی پونجھ رہے تھے، فرما رہے تھے: یہی اصل وقت ہے۔ اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ میں اپنی اُمت کو مشقت میں ڈال دوں گا…۔ اور عمرو (بن دینار) نے کہا: ہم سے عطاء نے بیان کیا۔ اس سند میں حضرت ابن عباسؓ کا نام نہیں، لیکن عمرو (بن دینار) نے یوں کہا کہ آپؐ کا سر پانی سے ٹپک رہا تھا۔ اور ابن جریج نے کہا: آپؐ اپنے سر کی ایک جانب سے پانی پونجھ رہے تھے۔ اور عمرو نے کہا: اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ میں اپنی اُمت کو مشقت میں ڈال دوں گا۔ اور ابن جریج نے کہا: یہی تو اصل وقت ہے اگر یہ بات نہ ہوتی کہ میں اپنی اُمت کو مشقت میں ڈال دوں گا۔ اور ابراہیم بن منذر نے کہا: معن (بن عیسیٰ) نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن مسلم نے مجھے بتایا۔ انہوں نے عمرو (بن دینار) سے، عمرو نے عطاء سے، عطاء نے حضرت ابن عباسؓ سے،انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔
عیاش بن ولید نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالاعلیٰ نے ہمیں بتایا۔ حُمَید نے ہم سے بیان کیا۔ حُمَید نے ثابت سے، ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مہینے کے آخر میں بغیر افطار کے لگاتار روزے رکھے اور لوگوں میں سے بھی کچھ آدمیوں نے بغیر افطار لگاتار روزے رکھنے شروع کئے۔ یہ خبر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی۔ آپؐ نے فرمایا: اگر یہ مہینہ لمبا ہوتا تو میں لگاتار بغیر افطار کے اتنے روزے رکھتا کہ یہ تکلف کرنے والے اپنے تکلف کو چھوڑ دیتے۔ میں تمہاری طرح نہیں ہوں۔ میں تو ایسا ہوں کہ میرا ربّ مجھے کھلاتا پلاتا رہتا ہے۔ (حُمَید کی طرح) سلیمان بن مغیرہ نے بھی اس کو روایت کیا۔ سلیمان نے ثابت سے، ثابت نے حضرت انسؓ سے، حضرت انسؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا۔ شعیب نے ہمیں بتایا۔ شعیب نے زہری سے روایت کی۔ اور لیث نے کہا: عبدالرحمٰن بن خالد نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے روایت کی۔ سعید بن مسیب نے انہیں بتایا کہ حضرت ابوہریرہؓ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بغیر افطار کے پے در پے روزے رکھنے سے منع فرمایا۔ لوگوں نے کہا: آپؐ تو رکھتے ہیں؟ فرمایا: تم میں سے کون میری طرح ہے۔ میں تو رات ایسی حالت میں گزارتا ہوں کہ میرا ربّ مجھے کھلاتا پلاتا ہے۔ جب وہ باز نہ آئے تو آپؐ نے ان کے ساتھ بغیر افطار کے ایک دن روزہ رکھا ۔ پھر ایک دن اور پھر لوگوں نے ہلال دیکھا تو آپؐ نے فرمایا: اگر چاند نکلنے میں دیر کر دیتا تو میں تمہارے ساتھ اور رکھتا۔ گویا آپؐ اُن کو تنبیہ کررہے تھے۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ ابوالاحوص نے ہمیں بتایا۔ اشعث نے ہم سےبیان کیا۔ انہوں نے اسوَد بن یزید سے، اسوَد نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی۔ وہ فرماتی تھیں: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دیوار حطیم کے متعلق پوچھا: آیا یہ بھی بیت اللہ ہے؟ آپؐ نے فرمایا: ہاں۔ میں نے پوچھا: پھر اُن کو کیا روک تھی کہ انہوں نے اس کو بیت اللہ میں شامل نہ کیا؟ آپؐ نے فرمایا: تمہاری قوم کے پاس خرچ کم ہوگیا تھا۔ میں نے کہا: تو پھر اس کا دروازہ کیوں اُونچا ہے؟ آپؐ نے فرمایا: تمہاری قوم نے یہ اس لئے اونچا کیا ہے تا وہ جس کو چاہیں اندر داخل کریں اور جس کو چاہیں روک دیں۔ اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ تمہاری قوم زمانہ جاہلیت سے قریب العہد ہے اور میں ڈرتا ہوں کہیں اُن کے دل بُرا نہ منائیں تو میں دیوار حطیم کو بیت اللہ میں شامل کردوں اور اس کے دروازے کو زمین سے لگا دوں (تو میں ضرور ایسا کردیتا۔)
موسیٰ (بن اسماعیل) نے ہم سے بیان کیا کہ وُہَیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو بن یحيٰ سے، عمرو نے عباد بن تمیم سے، عباد نے حضرت عبداللہ بن زیدؓ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: اگر ہجرت نہ کی ہوتی تو میں ضرور انصار میں سے ایک شخص ہوتا اور اگر لوگ ایک وادی میں داخل ہوں یا (فرمایا:) پہاڑی راستہ میں چلیں تو میں ضرور انصار کی ہی وادی اور اُن کے ہی راستے میں چلتا۔ (عباد کی طرح) ابوالتیاح نے اس حدیث کو حضرت انسؓ سے روایت کیا۔ انہوں نے نبی ﷺ سے۔ انہوں نے بھی پہاڑی راستہ کا ذکر کیا ہے۔
(تشریح)