بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 20 hadith
سعید بن عُفَیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے مجھے بتایا۔ عبدالرحمٰن بن خالد نے مجھ سے بیان کیا۔ عبدالرحمٰن نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے ابوسلمہ اور سعید بن مسیب سے روایت کی کہ حضرت ابوہریرہؓ نے کہا:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر یہ بات نہ ہوتی کہ کچھ لوگ بُرا مناتے ہیں کہ میرے چلے جانے کے بعد وہ پیچھے رہ جائیں گے اور میں کوئی سواری بھی نہیں پاتا جس پر میں اُن کو سوار کروں تو میں کبھی پیچھے نہ رہوں۔ میری تو یہ خواہش ہے کہ میں اللہ کی راہ میں مارا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر مارا جاؤں، پھرزندہ کیا جاؤں، پھر مارا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر مارا جاؤں۔
حسن بن ربیع نے ہم سے بیان کیا کہ ابوالاحوص نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے عاصم (بن سلیمان) سے، عاصم نے نضر بن انس سے روایت کی ۔ اُنہوں نے کہا: حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے تھے: اگر میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے نہ سنا ہوتا کہ تم موت کی آرزو نہ کرو تو ضرور میں آرزو کرتا۔
محمد (بن سلام) نے ہم سے بیان کیا کہ عبدہ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے (اسماعیل) بن ابی خالد سے، انہوں نے قیس سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: ہم حضرت خباب بن ارَتّؓ کے پاس اُن کی عیادت کرنے کو آئے اور اُنہوں نے سات داغ لگائے ہوئے تھے۔ کہنے لگے: اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موت کی دعا کرنے سے منع نہ کیا ہوتا تو میں ضرور اس کی دعا کرتا۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ابوزناد سے، ابوزناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، مجھے یہ خواہش ہے کہ میں اللہ کی راہ میں قتال کروں اور مارا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں اور مارا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں اور مارا جاؤں۔ (راوی نے کہا:) میں اللہ کی قسم کھا کر شہادت دیتا ہوں کہ حضرت ابوہریرہؓ ان کلمات کو تین بار کہتے تھے۔
(تشریح)حسن بن عمر نے ہم سے بیان کیا کہ یزید (بن زُرَیع بصری) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے حبیب (بن ابی قریبہ) سے، حبیب نے عطاء (بن ابی رباح) سے، عطاء نے حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے اور ہم نے حج کے لئے لبیک کہا اور مکہ میں ذی الحجہ کی چار راتیں گزرنے پر ہم پہنچے تو نبی ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم بیت اللہ کا اور صفا مروہ کا طواف کریں اور اس (حج کی نیت) کو عمرہ بنا لیں اور ہم احرام کھول دیں سوائے ان لوگوں کے جن کے ساتھ قربانی کا جانور ہو۔ حضرت جابرؓ کہتے تھے اور ہم میں سے کسی کے ساتھ بھی قربانی کا جانور نہ تھا سوائے نبی ﷺ اور طلحہ ؓکے اور حضرت علیؓ یمن سے آئے اور ان کے ساتھ بھی قربانی کا جانور تھا اور وہ کہنے لگے: میں نے اسی نیت سے لبیک کہا ہے جس نیت سے رسول اللہ ﷺنے لبیک کہا ہے۔ لوگ کہنے لگے: کیا ہم منٰی اس حال میں جائیں گے کہ ہم جنابت سے فارغ ہوئے ہوں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر مجھے اپنے متعلق وہ بات پہلے معلوم ہوتی جو بعد میں معلوم ہوئی تو میں قربانی (کے جانور) نہ لاتا اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ میرے ساتھ قربانی کے جانور ہیں تو میں بھی احرام کھول دیتا۔ حضرت جابرؓ کہتے تھے: اور سراقہ (بن مالکؓ) آپؐ سے اس وقت ملے جب آپؐ جمرہ عقبہ پر پتھر پھینک رہے تھے، اُنہوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا یہ ہمارے لئے خاص کر ہے؟ آپؐ نے فرمایا: نہیں۔ یہ ہمیشہ کے لئے ہے۔ حضرت جابرؓ کہتے تھے: اور حضرت عائشہؓ مکہ میں ایسی حالت میں پہنچیں کہ وہ حائضہ تھیں تو نبی ﷺ نے اُن کو حکم دیا کہ وہ حج کے تمام فرائض ادا کریں مگر طواف نہ کریں اور نہ نماز پڑھیں جب تک کہ پاک نہ ہولیں۔ جب انہوں نے بطحاء میں پڑاؤ کیا تو حضرت عائشہؓ نے کہا: یا رسول اللہ! کیا آپؐ لوگ حج اور عمرہ کرکے جائیں اور میں صرف حج کرکے جاؤں؟ حضرت جابرؓ کہتے تھے کہ پھر آپؐ نے عبدالرحمٰن بن ابی بکر صدیقؓ کو حکم دیا کہ وہ حضرت عائشہؓ کے ساتھ تنعیم کو چلے جائیں
(تشریح)ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا کہ سلیمان بن بلال نے ہمیں بتایا کہ یحيٰ بن سعید نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے سنا۔ انہوں نے کہا: حضرت عائشہؓ فرماتی تھیں: ایک رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نیند نہ آئی تو آپؐ نے فرمایا: کاش میرے ساتھیوں میں سے کوئی اچھا آدمی آج رات میرا پہرہ دے۔ اتنے میں ہم نے ہتھیار کی آواز سنی۔ آپؐ نے پوچھا: یہ کون ہے؟ جواب آیا: یا رسول اللہ! سعد ہوں، میں آپؐ کا پہرہ دینے کے لئے آیا ہوں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے اور ہم نے آپؐ کے خراٹے کی آواز سنی۔ ابوعبداللہ (امام بخاریؒ) نے کہا: اور حضرت عائشہؓ فرماتی تھیں کہ بلالؓ نے یہ شعر پڑھا : اے کاش کہ مجھے معلوم ہو آیا میں وادی میں کوئی رات بسر کروں گا اور میرے آس پاس اِذخر اور جلیل گھاس ہوگی۔ پھر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بتایا۔
(تشریح)عثمان بن ابی شیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ جریر (بن عبدالحمید) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابوصالح سے، ابوصالح نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپس میں رشک نہ ہو مگر صرف دو آدمیوں کے متعلق۔ ایک وہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کا علم دیا ہو اور وہ اُس کو رات اور دن پڑھتا ہو تو کوئی کہے کہ کاش اگر مجھے بھی ویسے ہی دیا جائے جو اسے دیا گیا ہے تو میں بھی ضرور ایسا ہی کروں گا جیسا یہ کرتا ہے اور ایک وہ شخص جس کو اللہ نے مال دیا ہو اور وہ اُس کو برمحل خرچ کررہا ہو اور کوئی کہے: کاش اگر مجھے بھی ایسا ہی دیا جائے جیسا اسے دیا گیا ہے تو میں بھی ایسا ہی کروں جیسے وہ کرتا ہے۔ ہم سے قتیبہ نے بیان کیا کہ جریر نے بھی ہمیں بتایا۔
(تشریح)عبداللہ بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام بن یوسف نے ہمیں بتایا۔ معمر نے ہمیں خبر دی۔ اُنہوں نے زُہری سے، زُہری نے ابوعبید سے روایت کی۔ اُن کا نام سعد بن عبید ہے جو عبدالرحمٰن بن ازہرکے غلام تھے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی موت کی آرزو نہ کرے۔ اگر وہ نیک ہے تو ہوسکتا ہے کہ وہ اور نیکیاں کرے اور اگر وہ بُرا ہے تو ہو سکتا ہے کہ وہ نیک عمل کر کے اللہ کی ناراضگی کو دور کرے۔
(تشریح)