بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 5 of 15 hadith
ہم سے مسدد نے بیان کیا کہا: بیچی بن سعید نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: عوف نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابو رجاء نے حضرت عمران سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلایا۔ کہا: ہم نبی ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے اور ہم رات کو چلے۔ جب رات کا آخری حصہ ہوا تو ہم ایسی نیند پڑ گئے کہ مسافر کے نزدیک اس سے زیادہ میٹھی اور کوئی نہ ہوگی۔ پھر ہمیں سورج کی گرمی ہی نے جگایا اور سب سے پہلے جو جاگا؛ فلاں تھا۔ پھر فلاں، پھر فلاں۔ ابو رجاء ان کا نام لیتے تھے مگر عوف بھول گئے۔ پھر حضرت عمر بن خطاب چوتھے تھے اور نبی ﷺ کو جب آپ سوتے نہ جگایا جاتا۔ یہاں تک کہ آپ خود ہی جاگتے۔ کیونکہ ہمیں پتہ نہ ہوتا کہ آپ کی نیند میں آپ کو کیا کچھ پیش آرہا ہے۔ جب حضرت عمر جاگے اور انہوں نے جو کچھ لوگوں پر گذرا تھا دیکھا؛ اور وہ دلیر آدمی تھے۔ انہوں نے اللہ اکبر کہا اور تکبیر کے ساتھ اپنی آواز بلند کی اور وہ اللهُ أَكْبَرُ کہتے رہے اور تکبیر کے ساتھ اپنی آواز بلند کرتے جاتے تھے۔ یہاں تک کہ نبی ﷺ اُن کی آواز سے جاگ پڑے۔ جب آپ جاگے تو لوگوں نے جو اُن کے ساتھ ہوا تھا اُس کی آپ کے پاس شکایت کی۔ آپ نے فرمایا: کوئی ضرر نہیں۔ لَا ضَيْرَ یا لَا يَضِيرُ۔ کوچ کرو اور آپ نے کوچ کیا۔ کچھ دُور نہیں گئے تھے کہ آپ اُترے اور وضو کا پانی منگوایا اور وضو کیا اور نماز کی منادی کی گئی اور آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ جب آپ اپنی نماز پڑھ کر پھرے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک شخص ہے جو الگ تھلگ بیٹھا ہے۔ اُس نے لوگوں کے ساتھ نماز نہیں پڑھی تھی۔ آپ نے فرمایا: اے فلاں! لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے کس بات نے روکا ہے؟ اُس نے کہا کہ مجھے جنابت ہوگئی ہے اور پانی نہیں۔ فرمایا: مٹی کو لو؛ وہ تمہیں کافی ہے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم چل پڑے اور لوگوں نے آپ کے پاس پیاس کی شکایت کی۔ آپ اُترے اور کسی شخص کو بلایا۔ ابورجاء اس کا نام لیتے تھے اور عوف بھول گئے۔ اور حضرت علی کو بلایا اور فرمایا کہ تم دونوں جاؤ اور پانی ڈھونڈ کر لاؤ۔ اس پر وہ دونوں چل پڑے اور ایک عورت کو اپنے ایک اونٹ پر (سوار) پانی کے دو مشکیزوں یا دو پکھالوں کے درمیان (بیٹھے ہوئے) دیکھا۔ اور انھوں نے اس سے پوچھا: پانی کہاں ہے؟ اس نے کہا: میں نے پانی کل اس وقت دیکھا تھا اور ہمارے آدمی پیچھے ہیں۔ ان دونوں نے اس سے کہا: چلو۔ اُس نے کہا: کہاں؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس۔ اس نے کہا: وہی جسے صابی کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: وہی ہے جو تمہاری مراد ہے۔ پس چلو۔ وہ اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئے اور آپ کو سارا واقعہ بتایا۔ حضرت عمران کہتے تھے کہ انہوں نے اس کو اُس کے اونٹ سے نیچے اُتارا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک برتن منگوایا اور اس میں اُن دو مشکیزوں یا پکھالوں کے دہانوں سے پانی ڈالا اور ان کے اوپر کے دہانے تسمہ سے بند کر دیے اور نیچے کے دہانے چھوڑ دئے اور لوگوں میں منادی کی گئی: پیو پلاؤ اور پانی لے لو۔ پس جس نے چاہا پیا، پلایا اور جس نے چاہا پانی لیا اور آخر یہ ہوا کہ آپ نے اُس شخص کو پانی کا برتن دیا جسے جنابت ہو گئی تھی اور فرمایا: جاؤ اور اسے اپنے اوپر ڈال لو اور وہ جو کچھ اس کے پانی کے ساتھ کیا جارہا تھا؛ کھڑی دیکھ رہی تھی اور اللہ تعالیٰ کی قسم ہے کہ اُن پکھالوں سے ہمیں معلوم ہوتا تھا کہ وہ اس وقت سے بھی زیادہ بھری ہوئی ہیں کہ جب آپ نے ان سے پانی لینا شروع کیا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے لیے کچھ اکٹھا کرو تو اس کے لیے کچھ خشک کھجور میں اور کچھ آٹا اور کچھ ستو اکٹھے کئے۔ یہاں تک کہ اس کے لیے بہت سی خوراک جمع کردی اور ایک کپڑے میں ڈال کر اس عورت کو اس کے اونٹ پر سوار کیا اور وہ کپڑا اُس کے سامنے رکھ دیا۔ آپ نے فرمایا: تم جانتی ہو کہ ہم نے تمہارے پانی سے کچھ بھی کم نہیں کیا ہے۔ لیکن اللہ ہی ہے جس نے ہمیں پلایا ہے۔ اس کے بعد وہ اپنے گھر والوں کے پاس آئی اور وہ اُن سے رکی رہی تھی۔ کہنے لگے: اے فلانی! تجھے کس چیز نے روکا تھا۔ کہنے لگی: عجیب بات ہوئی۔ مجھے دو آدمی ملے اور وہ مجھ کو اُس (شخص) کے پاس لے گئے جسے صابی کہا جاتا ہے اور اُس نے اللہ کی قسم ایسا ایسا کیا اور وہ اس اور اُس کے درمیان تمام لوگوں سے بڑھ کر جادو گر ہے اور اپنی درمیانی انگلی اور سبابه یعنی انگوٹھے کے پاس والی انگلی سے نیچے کو اشارہ کیا اور پھر ان دونوں کو اوپر کو اٹھایا اور اس کی مراد آسمان و زمین تھے۔ یا یہ کہ وہ یقینا اللہ کے سچے رسول ہیں۔ اس کے بعد مسلمان اس عورت کے ارد گرد مشرکوں پر حملہ کرتے اور جس قبیلہ سے وہ تھی اس کو نقصان نہ پہنچاتے۔ ایک دن اس نے اپنی قوم سے کہا: میں سمجھتی ہوں کہ یہ لوگ تم کو عمداً چھوڑتے ہیں۔ پس کیا تمہیں اسلام میں داخل ہونے کی خواہش ہے؟ اس پر انہوں نے اس کی بات مان لی اور وہ اسلام میں داخل ہو گئے۔ ابو عبد اللہ نے کہا: صبا کے معنی ہیں ایک دین سے نکل کر دوسرے دین میں چلا گیا اور ابوالعالیہ نے کہا: الصَّابِئِينَ اور ایک نسخہ کے مطابق الصَّابِؤُونَ کہا۔ اہل کتاب کا ایک فرقہ ہے جو زبور پڑھا کرتے تھے۔ { (سورہ یوسف آیت ۳۴ میں جو) اصبُ (آیا ہے اس کے معنی ہیں) جھک جاؤں گا۔}
ہم سے بشر بن خالد نے بیان کیا کہا : محمد غندر نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے شعبہ سے، شعبہ نے سلیمان سے، سلیمان نے ابو وائل سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے کہ حضرت ابو موسیٰ نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے کہا کہ جب پانی نہ پائے تو نماز نہ پڑھے؟ حضرت عبد اللہ نے کہا: ہاں اگر میں مہینہ بھر پانی نہ پاؤں تو نماز نہ پڑھوں کے } اگر میں انہیں اس کے متعلق اجازت دے دیتا تو نوبت یہاں تک پہنچتی کہ جب ان میں سے کوئی سردی محسوس کرتا تو وہ اسی طرح کر لیتا یعنی تیم کرتا اور نماز پڑھ لیتا۔ حضرت ابو موسیٰ کہتے تھے کہ میں نے کہا کہ حضرت عمار کی وہ بات کہاں جائے گی جو انہوں نے حضرت عمرؓ سے کی۔ انہوں نے جواب دیا کہ میں نہیں سمجھتا کہ حضرت عمار کی بات پر وہ مطمئن ہو گئے۔
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا کہا: میرے باپ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: اعمش نے ہمیں بتلایا۔ کہا: میں نے شفیق بن سلمہ سے سنا، کہتے تھے: میں حضرت عبداللہ اور حضرت ابو موسی کے پاس تھا تو حضرت ابو موسی نے ان سے کہا: عبد الرحمن کے باپ! بھلا بتائیں کہ جب جنبی ہو اور پانی نہ پائے تو وہ کیا کرے؟ حضرت عبداللہ نے کہا: نماز نہ پڑھے یہاں تک کہ پانی پالے۔ تو حضرت ابو موسی نے کہا: آپ حضرت عمار کی بات کو کیا کریں گے؟ جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تمہیں (تیم ہی) کافی تھا۔ انہوں نے کہا: کیا تم نے حضرت عمر کو نہیں دیکھا کہ وہ اس بات پر مطمئن نہیں ہوئے تھے۔ حضرت ابو موسیٰ نے کہا: حضرت عمار کی بات رہنے دو۔ اس آیت کو تم کیا کرو گے؟ تو حضرت عبداللہ کو کچھ نہ سوجھا کہ کیا جواب دیں تو انہوں نے کہا کہ اگر ہم ان کو اس کے متعلق اجازت دے دیں تو قریب ہے کہ جب کسی کو پانی ٹھنڈا لگے تو وہ اسے چھوڑ دے اور تیم کر لے۔اس پر میں نے شفیق سے کہا: تو پھر حضرت عبداللہ نے صرف اس وجہ سے نا پسند کیا ؟ کہا: ہاں۔
(تشریح)ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا: ابو معاویہ نے ہمیں بتلایا انہوں نے اعمش سے، اعمش نے شقیق سے روایت کی کہ میں حضرت عبداللہ اور حضرت ابوموسیٰ اشعری کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ حضرت ابوموسی نے ان سے کہا: اگر ایک شخص جنبی ہو اور وہ مہینہ بھر پانی نہ پائے تو کیا وہ تیمم نہیں کرے گا اور نماز نہیں پڑھے گا۔ پھر تم سورۂ مائدہ کی اس آیت کو کیا کرو گے (فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً) اور تم پانی نہ پاؤ تو پاکیزہ مٹی کا قصد کرو۔ اس پر حضرت عبداللہ نے کہا: اگر انہیں اس کی اجازت دی گئی تو قریب ہے کہ جب ان کو پانی ٹھنڈا لگے گا تو وہ مٹی کا ہی قصد کریں گے۔ میں نے کہا: تو آپ نے اس کو صرف اس لئے برا منایا ہے؟ جواب دیا: ہاں۔ اس پر حضرت ابو موسی نے کہا: کیا حضرت عمار کی بات آپ نے نہیں سنی جو انہوں نے حضرت عمر بن خطاب سے کہی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک کام کے لیے بھیجا اور میں جنبی ہو گیا اور مجھے پانی نہ ملا۔ اس لئے میں مٹی میں لوٹا جیسا کہ چار پایہ ہوتا ہے۔ پھر میں نے نبی ﷺ کے پاس اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: تمہارے لئے صرف یہی کافی تھا کہ تم اس طرح کرتے اور آپ نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر ایک بار مارے پھر انہیں جھاڑا۔ پھر دونوں ہاتھوں سے مسح کیا، اپنے بائیں ہاتھ سے اپنی ہتھیلی کی پشت پر یا اپنی تھیلی سے اپنے بائیں ہاتھ کی پشت پر۔ پھر ان دونوں سے اپنے منہ پر مسح کیا؟ تو حضرت عبداللہ نے کہا: کیا آپ نے حضرت عمرؓ کو نہیں دیکھا کہ وہ حضرت عمار کی بات سے مطمئن نہیں ہوئے تھے۔ اور یعلی نے اعمش سے، اعمش نے شقیق سے روایت کرتے ہوئے یہ بات زائد بیان کی ہے کہ میں حضرت عبد اللہ اور حضرت ابو موسی کے ساتھ تھا تو حضرت ابو موسیٰ نے کہا: کیا آپ نے حضرت عمار کو حضرت عمرؓ سے یہ کہتے ہوئے نہیں سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور آپ کو بھیجا تھا اور میں جنبی ہو گیا تھا تو میں مٹی میں لوٹا۔ پھر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ہم نے آپ کو یہ بات جتلائی تو آپ نے فرمایا تمہیں صرف اس طرح کافی تھا اور آپ نے اپنے منہ اور دونوں ہاتھوں کا مسح کیا۔
(تشریح)ہم سے عبدان نے بیان کیا کہا: عبداللہ نے ہمیں بتلایا۔ انہوں نے کہا: عوف نے ہمیں بتلایا کہ ابورجاء سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: حضرت عمران بن حصین خزاعی نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو الگ تھلگ بیٹھے دیکھا، اس نے جماعت کے ساتھ نماز نہیں پڑھی تو آپ نے کہا: اے فلاں! جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے سے تم کو کس بات نے روکا ہے؟ تو اس نے کہا: یا رسول اللہ! میں جنبی ہوں اور پانی نہیں۔ تو آپ نے فرمایا مٹی لو، وہ تمہاری ضرورت کو پورا کر دے گی۔
(تشریح)