بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 136 hadith
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے زُہری سے روایت کرتے ہوئے ہمیں خبر دی، کہا: ہم سے ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے بیان کیا۔ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔ کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آگ نے اپنے ربّ سے شکایت کی۔ کہنے لگی: اے میرے ربّ! میرا ایک حصہ دوسرے کو کھا گیا ہے۔ اس کے ربّ نے اس کو دو سانس لینے کی اجازت دی۔ ایک سانس سردی میں اور ایک سانس گرمی میں۔ سو یہ وہی نہایت شدت کی گرمی ہے جو تم گرمی میں محسوس کرتے ہو اور نہایت شدت کی سردی ہے جو تم سرما میں محسوس کرتے ہو۔
عبداللہ بن محمد نے ہمیں بتایا۔ ابوعامر (عبدالملک عقدی) نے ہم سے بیان کیا کہ ہمام نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوجمرہ ضبعی سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں مکہ میں حضرت ابن عباسؓ کے پاس بیٹھا کرتا تھا۔ مجھے بخار نے آ پکڑا۔ انہوں نے کہا: زمزم کے پانی سے ٹھنڈا کرکے اسے اپنے سے دور کرو، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بخار بھی جہنم کی ایک بھاپ ہے۔ اسے پانی سے ٹھنڈا کرو۔ یا فرمایا: زمزم کے پانی سے، ہمام نے یہ شک کیا ہے (کہ کیا الفاظ تھے۔)
عمرو بن عباس نے مجھے بتایا۔ عبدالرحمن (بن مہدی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ (سعید بن مسروق ثوری) سے، ان کے باپ نے عبایہ بن رفاعہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ حضرت رافع بن خدیجؓ نے مجھے بتایا، کہا: میں نے نبی ﷺ سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: بخار جہنم کا ایک اُبال ہے۔ اس کو پانی سے ٹھنڈا کر کے تم اپنے سے اتار دو۔
مالک بن اسماعیل نے ہمیں بتایا۔ زُہیر نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام (بن عروہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے، حضرت عائشہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: بخار جہنم کی بھاپ ہے۔ اس کو پانی سے ٹھنڈا کرو۔
مسدد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحيٰ (بن سعید قطان) سے، یحيٰ نے عبیداللہ (عمری) سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نافع نے مجھے بتایا۔ انہوں نے (حضرت عبداللہ) بن عمر رضی اللہ عنہما سے، حضرت عبداللہ نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: بخار جہنم کی بھاپ ہے۔ پانی سے اس کو تم ٹھنڈا کرو۔
اسماعیل بن ابی اویس نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ابوالزناد سے، ابوالزناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہاری آگ جہنم کی آگ کے ستر حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔ کہا گیا: یا رسول اللہ! یہی ایک حصہ کافی تھا۔ آپؐ نے فرمایا: دنیا کی آگوں سے وہ اُنہتر حصے بڑھ کر ہوگی۔ ہر ایک حصہ اس آگ کی گرمی کے برابر (گرم) ہوگا۔
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو (بن دینار) سے روایت کی کہ انہوں نے عطاء سے سنا۔ وہ صفوان بن یعلیٰ سے نقل کرتے تھے۔ صفوان اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے بتاتے تھے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو منبر پر سورئہ زخرف کی آیت یوں تلاوت کرتے سنا: وَنَادَوْا یَا مٰلِکُ۔
علی (بن عبداللہ مدینی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا انہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابو وائل سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: حضرت اسامہ (بن زیدؓ) سے کہا گیا: اگر آپؓ فلاں کے پاس آئیں اور اس سے گفتگو کریں (تو اچھا ہو) انہوں نے کہا کہ تم سمجھتے ہو کہ میں تمہیں سنا کر ہی اس سے بات کروں گا میں پوشیدگی میں اس سے گفتگو کروں گا بغیر اس کے کہ ایسا دروازہ کھولوں جس کو پہلے میں ہی کھولنے والا بنوں اور میں ایک بات کے بعد جو میں نے رسول اللہﷺ سے سنی کسی آدمی سے متعلق بھی یہ نہیں کہوں گا کہ وہ تمام لوگوں سے بہتر ہے خواہ میرا اَمیر ہی ہو لوگوں نے پوچھا: آپؐ نے آنحضرتﷺ کو کیا فرماتے سنا؟ انہوں نے کہا: میں نے آپؐ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ قیامت کے روز ایک شخص لایا جائے گا اور وہ آگ میں ڈالا جائے گا تو اس کی انتڑیاں جلد سے باہر نکل کر آگ میں ڈھلک پڑیں گی اور وہ چکر کھائے گا جیسے گدھا اپنی چکی کے ارد گرد چکر کھاتا ہے یہ دیکھ کر دوزخی اس کے پاس اکٹھے ہو جائیں گے اور کہیں گے: ارے فلاں! تیری یہ کیا حالت ہے؟ کیا تو ہمیں بھلائی کا حکم نہیں کرتا تھا اور برائی سے نہیں روکتا تھا؟ وہ کہے گا: میں تمہیں بھلائی کا حکم کرتا تھا اور خود بھلائی نہیں کرتا تھا اور برائی سے تمہیں روکتا تھا اور خود برائی کرتا تھا اس حدیث کو غندر نے بھی شعبہ سے اور شعبہ نے اعمش سے روایت کیا ہے۔
(تشریح)ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ عیسیٰ (بن یونس) نے ہمیں بتایا ہشام (بن عروة) سے مروی ہے انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ وہ کہتی تھیں: نبی ﷺ پر جادو کیا گیا لیث (بن سعد) نے بھی کہا: ہشام نے مجھے لکھا کہ انہوں نے اپنے باپ سے سنا اور اسے یاد رکھا کہ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ وہ کہتی تھیں: نبی ﷺ پر جادو کیا گیا آپؐ (ان ایام میں) بعض وقت خیال فرماتے تھے کہ آپؐ نے فلاں کام کرلیا ہے حالانکہ آپؐ نے وہ نہ کیا ہوتا آخر آپؐ نے ایک دن دعا پر دعا کی پھر آپؐ نے فرمایا کہ تمہیں معلوم ہے کہ اللہ نے مجھے وہ تدبیر بتادی ہے جس میں میری شفا ہے دو شخص میرے پاس آئے، ان میں سے ایک میرے سرہانے بیٹھ گیا اور دوسرا میرے پاؤں کی طرف ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: اس شخص کو کیا تکلیف ہے؟ اس نے جواب دیا: یہ بیمار ہے اس نے پوچھا: کس نے (بزعمِ خویش) اسے بیمار کیا ہے؟ دوسرے نے کہا: لبید بن اعصم (یہودی) نے اس نے پوچھا: کس چیز سے؟ اس نے جواب دیا: ایک کنگھی میں سر کے بالوں کی گرہیں لگا کر اور نر کھجور کے خشک خوشے میں لپیٹ کر اس نے پوچھا: یہ کہاں ہے؟ جواب دیا زَروان کے کنوئیں میں چنانچہ نبی ﷺ اس کنوئیں پر گئے اور پھر واپس آئے اور حضرت عائشہؓ سے جب آپؐ لوٹے، فرمایا: اس کنوئیں پر کھجور کے درخت ایسے گھنے تھے جیسے پھنئیر تھوہر میں نے پوچھا: کیا آپؐ نے کنگھی وغیرہ کو نکال لیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا: نہیں مجھے تو اللہ نے شفا دے دی ہے اور میں یہ خدشہ بھانپ گیا مبادا یہ بات لوگوں میں شر برپا کر دے پھر اس کے بعد وہ کنواں (مٹی ڈال کر) دبا دیا گیا۔
اسماعیل بن ابی اویس نے ہم سے بیان کیا، کہا: میرے بھائی نے مجھے بتایا انہوں نے سلیمان بن بلال سے، سلیمان نے یحيٰ بن سعید سے، یحيٰ نے سعید بن مسیب سے، سعید نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: شیطان تم میں سے ایک کے سر کی گدی پر جس وقت وہ سو جاتا ہے تین گرہیں لگاتا ہے اور ہر گرہ پر جہاں وہ ہوتی ہے یہ پھونکتا ہے اور کہتا ہے تمہارے لئے رات ابھی بہت باقی ہے، سو جاؤ اگر وہ جاگ پڑے اور اللہ کی تحمید و تسبیح کرے تو ایک گرہ کھل جائے گی اور اگر وہ وضو کرے تو دوسری گرہ کھل جائے گی اور اگر اس نے اس کے بعد نماز پڑھ لی تو اس کی ساری گرہیں کھل جائیں گی اور وہ تازہ مزاج ہشاش بشاش ہو کر صبح اُٹھے گا ورنہ بد مزاج سُست رہے گا