بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 136 hadith
علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابو حازم سے، ابو حازم نے حضرت سہل بن سعد ساعدی ؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جنت میں ایک کوڑا رکھنے کی جگہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہے۔
اور جنت میں تم میں سے ایک کی کمان برابر جگہ ان تمام چیزوں سے بہتر ہوگی جن پر سورج چڑھتا ہے یا ڈوبتا ہے۔
رَوح بن عبدالمومن نے ہمیں بتایا۔ یزید بن زُرَیع نے ہم سے بیان کیا کہ سعید (بن ابی عروبہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قتادہ سے روایت کی کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا۔ آپؐ نے فرمایا: جنت میں ایک ایسا درخت ہے کہ جس کے سایہ میں سوار سو سال تک بھی چلتا رہے، وہ اسے طَے نہیں کرے گا۔
محمد بن سنان نے ہم سے بیان کیا کہ فلیح بن سلیمان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہلال بن علی سے، ہلال نے عبدالرحمن بن ابی عمرہ سے، عبدالرحمن نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: جنت میں ایک ایسا درخت ہے کہ جس کے سایہ میں سوار سو سال تک بھی چلتا رہے (وہ اسے طَے نہیں کرے گا) اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھو: پھیلے ہوئے سایوں میں۔
ابراہیم بن منذر نے ہمیں بتایا۔ محمد بن فلیح نے ہم سے بیان کیا کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہلال (بن علی) سے، ہلال نے عبدالرحمن بن ابی عمرہ سے، عبدالرحمن نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ پہلا گروہ جو جنت میں داخل ہوگا وہ چودھویں رات کے چاند کی طرح ہوگا اور وہ لوگ جو اُن کے پیچھے آئیں گے وہ آسمان کے خوبصورت سے خوبصورت چمک دار ستارے کی مانند روشن ہوں گے۔ ان کے دل ایسے ہوں گے جیسے ایک آدمی کا دل۔ ان کے درمیان نہ کاوش کپٹ ہوگی، نہ انہیں ایک دوسرے سے حسد۔ ہر آدمی کی دو خوبصورت بڑی بڑی آنکھوں والی بیویاں ہوں گی۔ ان کی پنڈلیوں کا گودا ہڈی اور گوشت کے پیچھے سے دکھائی دے گا۔
حجاج بن منہال نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: عدی بن ثابت نے مجھے بتایا، کہا: میں نے حضرت براء (بن عازب) رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ نبی ﷺ سے روایت کرتے تھے۔ انہوں نے کہا: جب ابراہیم فوت ہوئے تو آپؐ نے فرمایا: جنت میں اس کے لئے ایک دودھ پلانے والی مقرر ہے۔
عبدالعزیز بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک بن انس نے مجھے بتایا۔ انہوں نے صفوان بن سلیم سے، صفوان نے عطاء بن یسار سے، عطاء نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوسعیدؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: جنت والے بالا خانوں میں رہنے والوں کو اپنے اوپر اسی طرح دیکھیں گے کہ جس طرح وہ اس چمک دار ستارے کو دیکھتے ہیں جو مشرق یا مغرب کی طرف افق پر پیچھے رہ گیا ہو۔ کیونکہ ان کے درمیان بھی درجوں میں تفاوت ہوگی۔ صحابہ نے کہا: یا رسول اللہ! وہ تو انبیاء کے مقام ہوں گے۔ کیا ان کے سوا اور کوئی وہاں نہیں پہنچے گا؟ آپؐ نے فرمایا: کیوں نہیں بلکہ اسی ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے وہ لوگ بھی ہوں گے جو اللہ پر ایمان لائے اور جنہوں نے رسولوں کی تصدیق کی۔
(تشریح)سعید بن ابی مریم نے ہمیں بتایا کہ محمد بن مطرف نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابو حازم نے مجھے بتایا انہوں نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے، حضرت سہلؓ نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: جنت میں آٹھ دروازے ہیں اس میں ایک ایسا دروازہ ہے جس کا نام ریان (یعنی سیراب) ہے اس میں سے صرف روزہ رکھنے والے ہی داخل ہونگے
(تشریح)ابوالولید نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مہاجر ابوالحسن سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے زید بن وہب سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے سنا۔ کہتے تھے: نبی ﷺ کسی سفر میں تھے۔ آپؐ نے (حضرت بلالؓ سے) فرمایا: ٹھنڈا ہونے دو۔ تھوڑی دیر بعد پھر فرمایا: ٹھنڈا ہونے دو۔ یہاں تک کہ سایہ ڈھلنے لگا۔ یعنی ٹیلوں کا سایہ۔ پھر اس کے (تھوڑی دیر) بعد فرمایا: نماز کو ٹھنڈے وقت پڑھو۔ کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی ایک بھاپ ہے۔
محمد بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے ذکوان سے، ذکوان نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے فرمایا: نماز کو ٹھنڈے وقت پڑھا کرو۔ کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی ایک بھاپ ہے۔