بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 85 hadith
ابو نعیم نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے علقمہ بن مرثد سے، علقمہ نے ابو عبدالرحمٰن سلمی سے، ابو عبدالرحمٰن نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے فرمایا: تم میں سے افضل وہ ہے جو قرآن سیکھے اور اسے سکھائے۔
عمرو بن عون نے ہم سے بیان کیا کہ حماد (بن زید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابو حازم سے، ابو حازم نے سہل بن سعد سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ایک عورت نبی ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ اس نے اپنے آپ کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لئے وقف کر دیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: مجھے اب عورتوں کی حاجت نہیں۔ ایک شخص بولا: مجھ سے اس کی شادی کردیں۔ آپؐ نے فرمایا: اس کو کپڑا دو۔ اس نے کہا: میرے پاس تو نہیں۔ آپؐ نے فرمایا: اس کو دو، گو لوہے کی انگوٹھی ہی۔ پھر اس نے آپؐ سے (یہی) عذر کیا۔ آپؐ نے فرمایا: تمہیں کچھ قرآن یاد ہے؟ اس نے کہا: فلاں فلاں (سورة مجھے یاد ہے) آپؐ نے فرمایا: میں نے تمہارا اس سے نکاح انہی (سورتوں) کے عوض میں کر دیا جو تمہیں قرآن سے یاد ہیں۔
(تشریح)قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ یعقوب بن عبدالرحمٰن نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابو حازم (سلمہ بن دینار) سے، ابو حازم نے سہل بن سعد سے روایت کی کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی: یا رسول اللہ! میں اس لئے آئی ہوں کہ اپنے تئیں آپؐ کو ہبہ کر دوں۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کو نظر اٹھا کر دیکھا اور نظر کو نیچے کر لیا اور پھر اپنا سر جھکا لیا۔ جب عورت نے دیکھا کہ آپؐ نے اس کے متعلق کچھ فیصلہ نہیں کیا تو بیٹھ گئی۔ آپؐ کے صحابہ میں سے ایک شخص اٹھا۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ! اگر آپؐ کو اس (عورت) کی حاجت نہیں تو مجھ سے اس کا نکاح کر دیجئے۔ آپؐ نے اس سے فرمایا: کیا تمہارے پاس کچھ ہے۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ! بخدا کچھ نہیں۔ آپؐ نے فرمایا: اپنے رشتہ داروں کے پاس جاؤ اور دیکھو کیا تمہیں کچھ مل سکتا ہے۔ وہ گیا اور پھر لوٹ آیا اور کہنے لگا: نہیں، یا رسول اللہ! بخدا مجھے کچھ نہیں ملا۔ آپؐ نے فرمایا: دیکھو، خواہ لوہے کی انگوٹھی ہی سہی۔ وہ گیا اور پھر لوٹ آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! بخدا کچھ نہیں، لوہے کی انگوٹھی بھی نہیں مگر یہ میرا تہہ بند ہے۔ سہل کہتے تھے: اس کے پاس اوپر اوڑھنے کی چادر بھی نہ تھی۔ (وہ کہنے لگا:) یہ تہہ بند اس کو آدھا دئیے دیتا ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہارے تہہ بند سے وہ کیا کرے گی۔ اگر تم نے وہ پہنا تو اس عورت پر اس میں سے کچھ نہ رہے گا اور اگر اس نے پہنا تو تم پر کچھ نہ رہے گا۔ یہ سن کر وہ شخص بیٹھ گیا اور دیر تک بیٹھا رہا۔ پھر وہ اٹھ کر چل دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کو پیٹھ موڑے ہوئے جاتے دیکھا۔ آپؐ نے اس کو بلانے کا حکم دیا اور اسے بلایا گیا۔ جب وہ آیا تو آپؐ نے پوچھا: تمہیں کتنا قرآن یاد ہے۔ اس نے کہا: مجھے فلاں فلاں سورت یاد ہے۔ اس نے ان کو شمار کیا۔ آپؐ نے پوچھا: کیا تم ان سورتوں کو زبانی پڑھتے ہو۔ اس نے کہا: ہاں۔ آپؐ نے فرمایا: جاؤ میں نے یہ عورت تمہارے قبضے میں کر دی ان (سورتوں) کے عوض میں جو تمہیں قرآن سے یاد ہیں۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قرآن یاد کرنے والے کی مثال تو اونٹوں کے مالک کی سی ہے جس کے اونٹ رسی سے بندھے ہوں، اگر ان کو دیکھتا بھالتا رہے گا تو انہیں روک رکھے گا اور اگر انہیں یونہی چھوڑ دے گا تو وہ چلے جائیں گے۔
محمد بن عرعرہ نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور سے، منصور نے ابو وائل سے، ابو وائل نے حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے فرمایا: بہت ہی بری بات ہے ان میں سے ایک کے لئے کہ وہ کہے: میں فلاں فلاں آیت بھول گیا۔ بلکہ یوں کہے: مجھے بھول گئی۔ اور قرآن کو یاد کرتے رہو کیونکہ وہ آدمیوں کے سینوں سے اونٹوں سے بھی زیادہ جلد نکل بھاگتا ہے۔ عثمان (بن ابی شیبہ) نے ہم سے بیان کیا کہ جریر (بن عبدالحمید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور (بن معتمر) سے ایسا ہی بتایا۔ محمد بن عرعرہ کی طرح بشر (بن محمد) نے بھی اس حدیث کو بیان کیا۔ انہوں نے (عبداللہ) بن مبارک سے، انہوں نے شعبہ سے روایت کی۔ نیز محمد بن عرعرہ کی طرح ابن جریج نے بھی (اس حدیث کو) بیان کیا۔ انہوں نے عبدہ سے، عبدہ نے شقیق (بن سلمہ) سے روایت کیا۔ (شقیق نے کہا:) میں نے حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) سے سنا۔ (حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے کہا:) میں نے نبی ﷺ سے سنا۔
محمد بن علاء نے ہم سے بیان کیا کہ ابواُسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے برید (بن عبداللہ) سے، برید نے ابوبردہ سے، ابوبردہ نے حضرت ابوموسیٰؓ سے، حضرت ابوموسیٰؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: قرآن کو ہمیشہ پڑھتے رہو۔ اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ وہ ان اونٹوں سے بھی زیادہ نکل بھاگتا ہے جو رسیوں میں بندھے ہوئے ہوں۔
حجاج بن منہال نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: مجھے ابو ایاس نے خبر دی۔ انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت عبداللہ بن مغفلؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فتح مکہ کے دن دیکھا اور اس وقت آپؐ اپنی اونٹنی پر سوار سورة الفتح پڑھ رہے تھے۔
(تشریح)موسیٰ بن اسماعیل نے مجھ سے بیان کیا کہ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوبشر سے، ابوبشر نے سعید بن جبیر سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: جس کو تم مفصل کہتے ہو وہی محکم ہے۔ (سعید بن جبیر نے) کہا: حضرت ابن عباسؓ فرماتے تھے: رسول ﷺ فوت ہوئے اور میں اس وقت دس برس کا تھا اور میں محکم پڑھ چکا تھا۔
یعقوب بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ ہشیم نے ہمیں بتایا۔ (انہوں نے کہا:) ابو بشر نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ (انہوں نے کہا:) میں نے محکم رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ہی یاد کرلی تھی۔ میں نے ان (سعید بن جبیر) سے پوچھا: یہ محکم کیا ہے؟ انہوں نے کہا: مفصل۔
ربیع بن یحيٰ نے ہم سے بیان کیا کہ ہم سے زائدہ (بن قدامہ) نے بیان کیا۔ ہشام نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ فرماتی تھیں: نبی ﷺ نے ایک شخص کو مسجد میں قرآن پڑھتے سنا۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ اس پر رحم کرے اس نے مجھے فلاں سورة کی فلاں فلاں آیت یاد کرادی۔ محمد بن عبید بن میمون نے ہم سے بیان کیا کہ عیسیٰ (بن یونس) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام (بن عروہ) سے روایت کی۔ اور (اس میں یوں ہے:) آپؐ نے فرمایا: ان کو میں فلاں سورة میں نہیں پڑھا کرتا تھا۔ عیسیٰ بن یونس کی طرح علی بن مسہر اور عبدہ نے بھی ہشام سے یہی روایت کی۔