بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 7 of 127 hadith
آدم (بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ دوسری سند (امام بخاریؒ کہتے ہیں) کہ ہم سے عمرو (بن مرزوق) نے بیان کیا۔ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو بن مرہ سے، عمرو نے مرہ سے، مرہ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مردوں سے بہت سے اور عورتوں سے کوئی کامل نہ ہوئی مگر مریم عمران کی بیٹی اور آسیہ فرعون کی بیوی اور عائشہؓ کی فضیلت باقی عورتوں پر ایسی ہے جیسے ثرید کی فضیلت باقی تمام کھانوں پر۔
عبدالعزیز بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: محمد بن جعفر نے مجھے بتایا کہ عبداللہ بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: عائشہؓ کی فضیلت باقی تمام عورتوں پر ایسی ہے جیسی ثرید کی فضیلت باقی تمام کھانوں پر۔
محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا۔ عبدالوہاب بن عبدالمجید نے ہمیں بتایا۔ ابن عون نے ہم سے کہا: انہوں نے قاسم بن محمد سے روایت کی کہ حضرت عائشہؓ بیمار ہوئیں تو حضرت ابن عباسؓ ان کے پاس آئے اور کہا: اے امّ المؤمنین! آپ تو ایسی جگہ جائیں گی جہاں آپ کے سچے پیش رَو موجود ہیں یعنی رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکرؓ۔
محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ غندر نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے حکم سے روایت کرتے ہوئے ہم سے بیان کیا کہ میں نے ابووائل سے سنا۔ انہوں نے کہا: جب حضرت علیؓ نے حضرت عمارؓ اور حضرت حسنؓ کو کوفہ کی طرف بھیجا تا لوگوں کو لڑائی کے لئے جمع کریں۔ حضرت عمارؓ لوگوں سے مخاطب ہوئے اور کہا: میں خوب جانتا ہوں کہ حضرت عائشہؓ آنحضرت ﷺ کی زوجہ ہیں، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ مگر بات یہ ہے کہ اللہ نے تمہاری آزمائش کی ہے کہ حضرت علیؓ کی پیروی کرو گے یا حضرت عائشہؓ کی۔
عبید بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ ابو اسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت اسماءؓ سے ایک ہار مستعار لیا اور وہ گم ہوگیا تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ میں سے کچھ لوگوں کو اس کی تلاش میں بھیجا اور انہیں نماز کا وقت آ گیا تو بغیر وضو کے ہی انہوں نے نماز پڑھ لی۔ جب وہ نبی ﷺ کے پاس آئے تو انہوں نے آپؐ سے اس کی شکایت کی اور تیمم کا حکم نازل ہوا۔ حضرت اُسید بن حضیرؓ کہنے لگے: (عائشہؓ !) اللہ آپ کو جزائے خیر دے، آپ پر بخدا جو بھی مصیبت کبھی نازل ہوئی تو ضرور ہی اللہ نے آپ کے لیے اس سے نکلنے کی راہ پیدا کردی اور مسلمانوں کے لئے اس میں برکت ڈالی۔
عبید بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ ابواسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام سے، ہشام نے اپنے باپ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ جب بیمار ہوئے تو اپنی بیماری میں اپنی ازواج کے پاس باری باری جانے لگے اور پوچھتے کہ کل میں کہاں ہوں گا؟ {کل میں کہاں ہوں گا؟} کیونکہ آپؐ کو حضرت عائشہؓ کے گھر جانے کی خواہش تھی۔ حضرت عائشہؓ کہتی تھیں: جب میرا دن ہوا تو پھر آپؐ کو تسلی ہوئی۔
عبداللہ بن عبدالوہاب نے ہم سے بیان کیا کہ حماد نے ہمیں بتایا کہ ہشام نے اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے ہم سے بیان کیا، کہا: لوگ حضرت عائشہؓ کی باری کا دن اپنے ہدئیے پیش کرنے کے لئے زیادہ مناسب سمجھ کر انتظار کرتے رہتے تھے۔ حضرت عائشہؓ کہتی تھیں: یہ دیکھ کر میری سوکنیں امّ سلمہؓ کے ہاں اکٹھی ہوئیں اور کہنے لگیں: امّ سلمہ! لوگ بخدا عائشہؓ کی باری کے دن اپنے ہدئیے پیش کرنے کو زیادہ مناسب سمجھ کر انتظار کرتے رہتے ہیں اور ہم بھی اچھی بات کو اسی طرح چاہتی ہیں جس طرح عائشہؓ چاہتی ہیں۔ اس لئے رسول اللہ ﷺ سے کہیں کہ لوگ آپؐ کو جہاں بھی آپؐ ہوں یا جہاں بھی آپؐ باری پر جائیں آپؐ کو ہدیہ بھیجا کریں۔ امّ سلمہؓ نے نبی ﷺ سے یہ ذکر کیا۔ وہ کہتی تھیں: آپؐ نے مجھ سے منہ پھیر لیا۔ جب آپؐ دوبارہ میرے پاس آئے تو میں نے (دوبارہ) آپؐ سے یہ ذکر کیا۔ آپؐ نے پھر منہ پھیر لیا۔ جب آپؐ تیسری دفعہ آئے تو میں نے آپؐ سے ذکر کیا۔ آپؐ نے فرمایا: ام سلمہؓ! عائشہؓ کی وجہ سے مجھے مت ستاؤ۔ کیونکہ اللہ کی قسم مجھ پر کبھی وحی نازل نہیں ہوئی جب میں عائشہؓ کے سوا تم میں سے کسی کے لحاف میں ہوتا ہوں۔
(تشریح)