بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 127 hadith
اور حضرت حفصہؓ نے نبی ﷺ سے اسے بیان کیا تو آپؐ نے فرمایا: عبداللہؓ اچھا آدمی ہے، اگر وہ رات کو تہجد پڑھے۔ سالم کہتے تھے: تو پھر حضرت عبداللہؓ رات کو بہت کم سوتے تھے۔
یحيٰ بن سلیمان نے ہم سے بیان کیا کہ (عبداللہ) بن وہب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یونس سے، یونس نے زہری سے، زہری نے سالم سے، سالم نے حضرت (عبداللہ) بن عمرؓ سے، حضرت ابن عمرؓ نے اپنی بہن حضرت حفصہؓ سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے ان سے فرمایا کہ عبداللہؓ نیک آدمی ہے۔
(تشریح)یحيٰ بن سلیمان نے ہم سے بیان کیا کہ (عبداللہ) بن وہب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یونس سے، یونس نے زہری سے، زہری نے سالم سے، سالم نے حضرت (عبداللہ) بن عمرؓ سے، حضرت ابن عمرؓ نے اپنی بہن حضرت حفصہؓ سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے ان سے فرمایا کہ عبداللہؓ نیک آدمی ہے۔
(تشریح)مالک بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ اسرائیل نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مغیرہ سے، مغیرہ نے ابراہیم (نخعی) سے، ابراہیم نے علقمہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں شام (کے ملک میں) آیا اور میں نے دو رکعتیں پڑھیں۔ پھر میں نے کہا: اے اللہ! میرے لئے کوئی نیک ہم نشین مہیا کر، پھر میں لوگوں کے پاس آیا۔ ان کے پاس جا بیٹھا۔ اتنے میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بوڑھا شخص آیا اور میرے پہلو میں بیٹھ گیا۔ میں نے کہا: یہ کون ہیں؟ لوگوں نے کہا: حضرت ابودرداءؓ۔ میں نے (ان سے) کہا: میں نے اللہ سے یہ دعا کی تھی کہ میرے لئے کوئی نیک ہم نشین میسر کرے تو اس نے میرے لئے آپ کو بھیج دیا۔ انہوں نے پوچھا: تم کن لوگوں میں سے ہو؟ میں نے کہا: اہل کوفہ سے۔ انہوں نے کہا: کیا تمہارے پاس امّ عبد کے بیٹے (حضرت عبداللہ بن مسعودؓ) نہیں ہیں جو آنحضرت ﷺ کے کفش (جوتے) اور تکیہ اور وضو کا برتن اپنے پاس رکھتے تھے؟ اور کیا تم میں وہ (حضرت عمار بن یاسرؓ) نہیں ہیں جن کو اللہ نے شیطان سے پناہ دی؟ جیسا کہ نبی ﷺ نے اپنی زبان سے فرمایا۔ (اور کہا:) کیا تم میں نبی ﷺ کا وہ رازدار نہیں ہے کہ جس راز کو اُن کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا۔ پھر حضرت ابودرداءؓ نے پوچھا: عبداللہؓ (بن مسعود) سورۃ اللیل کس طرح پڑھتے ہیں؟ میں نے ان کے سامنے یہ سورۃ یوں پڑھی: وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى وَالذَّکَرِ وَالْأُ نْثٰی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے بخدا مجھے یہ سورۃ منہ در منہ اسی طرح پڑھائی۔
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مغیرہ سے، مغیرہ نے ابراہیم (نخعی) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: علقمہ شام کی طرف گئے۔ جب مسجد میں داخل ہوئے تو انہوں نے دعا کی: اے اللہ! میرے لئے کوئی اچھا ہم نشین میسر فرما۔ پھر حضرت ابوالدرداءؓ کے پاس جا کر بیٹھے اور حضرت ابوالدرداءؓ نے کہا: تم کن لوگوں میں سے ہو؟ انہوں نے کہا: اہل کوفہ سے۔ حضرت ابودرداءؓ نے پوچھا: کیا تم میں یا کہا: کیا تم میں سے وہ رازدار نہیں کہ اس کے سوا اس راز کو کوئی نہیں جانتا یعنی حذیفہؓ۔ علقمہ کہتے تھے: میں نے کہا: کیوں نہیں، ضرور ہیں۔ حضرت ابودرداءؓ نے کہا: کیا تم میں یا کہا: کیا تم میں سے وہ شخص نہیں جس کو اللہ نے پناہ دی یعنی شیطان سے جیسا کہ اللہ کے نبی ﷺ نے اپنی زبان سے فرمایا یعنی عمارؓ۔ میں نے کہا: کیوں نہیں، ضرور ہیں۔ حضرت ابوالدرداءؓ نے کہا: کیا تم میں یا کہا: تم میں سے وہ شخص نہیں ہیں جو مسواک اور تکیہ یا کہا راز رکھا کرتے تھے؟ انہوں (علقمہ) نے کہا: کیوں نہیں، ضرور ہیں۔ حضرت ابودرداءؓ نے پوچھا: سورۃ وَاللَّیْلِ اِذَا یَغْشٰی وَالنَّھَارِ اِذَا تَجَلَّی کو عبداللہ (بن مسعودؓ) کیسے پڑھتے تھے؟ میں نے کہا: وَالذَّکَرِ وَالْأُنْثٰی پڑھا کرتے تھے۔ انہوں نے کہا: یہ لوگ اب تک میرے پیچھے پڑے رہے کہ قریب تھا کہ وہ مجھے اس بات سے پھسلا دیتے جو میں نے نبی ﷺ سے سنی تھی۔
(تشریح)عمر و بن علی (فلاس) نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالاعلیٰ (بصری سامی) نے ہمیں بتایا۔ خالد (حذاء) نے ابوقلابہ سے روایت کرتے ہوئے ہم سے بیان کیا، کہا: حضرت انس بن مالکؓ نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر ایک امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اے میری امت! ہمارے امین ابوعبیدہ بن جراح ؓ ہیں۔
مسلم بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابواسحاق سے، ابواسحاق نے صلہ (بن زفر) سے، صلہ نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے نجران والوں سے فرمایا: میں ضرور بھیجوں گا یعنی تمہارے پاس ایک امین جو سراسر امین ہوگا۔ یہ سن کر آپؐ کے صحابہ گردنیں اٹھا کر دیکھنے لگے اور آپؐ نے حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔
(تشریح)صدقہ (بن فضل) نے ہم سے بیان کیا کہ ابن عیینہ نے ہمیں بتایا کہ ابوموسیٰ نے حسن (بصری) سے روایت کرتے ہوئے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے حضرت ابوبکرہؓ سے سنا۔ (وہ کہتے تھے:) میں نے نبی ﷺ سے منبر پر سنا اور حسنؓ آپؐ کے پہلو میں تھے۔ کبھی آپؐ لوگوں کی طرف دیکھتے کبھی حسنؓ کی طرف۔ آپؐ نے فرمایا: میرا یہ بیٹا سردار ہوگا اور امید ہے کہ اللہ اس کی وجہ سے مسلمانوں کے دو گروہوں میں صلح کرا دے گا۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ معتمر نے ہمیں بتایا، کہا: میں نے اپنے باپ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: ابوعثمان نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے، حضرت اسامہؓ نے نبیﷺ سے روایت کی کہ آپؐ انہیں اور حضرت حسنؓ کو لیتے اور فرماتے: اے اللہ! میں ان دونوں سے محبت رکھتا ہوں اس لئے تو بھی ان سے محبت رکھ یا کچھ اسی طرح فرماتے۔
محمد بن حسین بن ابراہیم نے مجھ سے بیان کیا، کہا: حسین بن محمد نے مجھے بتایا کہ جریر نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے محمد (بن سیرین) سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ عبید اللہ بن زیاد کے پاس حضرت حسین بن علی (رضی اللہ عنہما) کا سر لایا گیا جو ایک طشت میں رکھا گیا تو وہ چھڑی سے ان کے منہ پر ٹھکرانے لگا اور ان کی خوبصورتی کے متعلق کچھ کہا۔ حضرت انسؓ نے کہا: وہ سب لوگوں میں رسول اللہ ﷺ سے بہت مشابہت رکھتے تھے اور ان کے بالوں میں وسمے کا خضاب لگا تھا۔