بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 2 of 22 hadith
عبدان نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک)نے ہمیں خبردی۔معمر نے ہم سے بیان کیا۔ معمر نے زہری سے روایت کی کہ حضرت محمود بن ربیع ؓ نے مجھے بتایا۔ اُنہوں نے کہا: میں نے حضرت عتبان بن مالکؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح سویرے میرے پاس آئے تو ایک شخص نے کہا: مالک بن دُخشن کہاں ہے؟ تو ہم میں سے ایک نے کہا: وہ منافق ہے، اللہ اور اس کے رسول سے محبت نہیں رکھتا۔ (یہ سن کر) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیکھو! یہ بات مت کہو۔ وہ اللہ کی رضا مندی چاہتے ہوئے لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ کا اقرار کرتا ہے۔ اُس نے کہا:ہاں۔ آپؐ نے فرمایا کہ جو بندہ بھی قیامت کے دن اس بات کا اقرار کرتے ہوئے حاضر ہوگا تو اللہ ضرور اس پر آگ کو حرام قرار دے گا۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے حصین (بن عبدالرحمٰن سُلمی) سے، حصین نے فلاں شخص سے روایت کی۔ اُس نے کہا: ابوعبدالرحمٰن (عبداللہ بن ربیعہ) اور حبان بن عطیہ دونوں آپس میں جھگڑ پڑے تو ابو عبدالرحمٰن نے حبان سے کہا: میں وہ بات خوب جانتا ہوں جس نے تمہارے ساتھی کو خونریزی پر جرأت دلائی یعنی حضرت علیؓ کو۔ حبان نے کہا: کیا بات ہے؟ لَا أَبَا لَكَ(تیرا باپ نہ رہے) ابوعبدالرحمٰن نے کہا: وہی بات ہے جو میں نے اُن کو کہتے ہوئے سنی تھی۔ اُنہوں نے کہا: وہ کیا؟ (انہوں نے کہا) حضرت علیؓ کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے اور زبیرؓ اور ابومرثدؓ کو بلا بھیجا اور ہم سب شہسوار تھے۔ آپؐ نے فرمایا: جاؤ یہاں تک کہ جب روزہ حاج میں پہنچو، ابوسلمہ نے اسی طرح کہا (ابوعوانہ نے خاخ کے بدلے حاج کہا) تو وہاں ایک عورت ہوگی، اُس کے پاس حاطب بن ابی بلتعہؓ کا ایک خط ہے جو مشرکوں کے نام ہے تو تم وہ خط میرے پاس لے آؤ۔ ہم اپنے گھوڑوں پر سوار ہوکر روانہ ہوگئے اور جاکر اُس کو وہیں پایا جہاں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا۔ وہ اپنے اونٹ پر سوار جا رہی تھی اور حاطبؓ نے اہل مکہ کو لکھا تھا کہ رسول اللہ ﷺ اُن کی طرف آرہے ہیں۔ ہم نے کہا: وہ خط کہاں ہے جو تمہارے پاس ہے؟ وہ کہنے لگی: میرے پاس تو کوئی خط نہیں۔ ہم نے اس کے اونٹ کو مع اس کے بٹھایا اور اس کے اسباب میں تلاش کرنے لگے مگر ہمیں کوئی خط نہ ملا۔ میرے دونوں ساتھیوں نے کہا: ہم اس کے پاس کوئی خط نہیں دیکھتے۔ حضرت علیؓ کہتے تھے۔ میں نے کہا: ہم خوب جانتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے کبھی غلط نہیں کہا۔ اس کے بعد حضرت علیؓ نے قسم کھائی۔ اس ذات کی قسم ہے کہ جس کی قسم کھائی جاتی ہے، تمہیں وہ خط نکالنا ہوگا ورنہ میں تمہاری جامہ تلاشی لوں گا۔ یہ سن کر اُس نے اپنے نیفہ کی طرف ہاتھ جھکایا اور وہ ایک چادر باندھے ہوئے تھی اور وہ خط نکالا اور خط لے کر وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے۔ حضرت عمر ؓنے کہا: یا رسول اللہ ! اس نے تو اللہ اور اس کے رسول اور مؤمنوں سے خیانت کی ہے مجھے اجازت دیں کہ میں اس کی گردن اڑا دوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حاطب! اس پر تم کو کس بات نے آمادہ کیا ؟ حاطبؓ نے کہا: یا رسول اللہ ! مجھے کیا ہوا تھا کہ میں اللہ اور اس کے رسول کا مؤمن نہ رہتا مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ میں چاہتا تھا کہ ان لوگوں پر میرا بھی کوئی احسان ہوتا کہ جس کے ذریعہ سے میرے کنبہ اور میری جائیداد کی حفاظت کی جائے اور آپؐ کے ساتھیوں میں سے کوئی بھی ایسا نہیں کہ جس کی قوم سے وہاں ایسے لو گ نہ ہوں کہ جن کے ذریعہ سے اللہ اس کے کنبے اور جائیداد کی حفاظت کر رہا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: حاطبؓ نے سچ کہا ہے۔ اس کے متعلق بھلی بات ہی کہو۔ حضرت علیؓ کہتے تھے۔ حضرت عمرؓ نے دوبارہ وہی کہا: یا رسول اللہ ! اس نے تو اللہ اور اس کے رسول اور مؤمنوں سے خیانت کی ہے۔ مجھے اجازت دیں کہ اس کی گردن اُڑا دوں۔ آپؐ نے فرمایا: کیا وہ بدر والوں میں سے نہیں ہے؟ اور تمہیں کیا پتہ کہ شاید اللہ نے ان کو جھانک کر دیکھا ہو اور فرمایا ہو: جو تم چاہو کرو میں تمہارے لئے جنت لازم کرچکا ۔ یہ سن کر حضرت عمر ؓ کی آنکھیں ڈبڈباآئیں اور کہنے لگے: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔
(تشریح)