بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 13 hadith
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے خالد بن یزید سے، خالد نے سعید بن ابی ہلال سے، سعید نے ہلال بن اُسامہ سے روایت کی کہ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اُنہیں خبر دی۔ ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں یہ دعا کرتے تھے: اے اللہ ! عیاش بن ابی ربیعہؓ اور سلمہ بن ہشامؓ اور ولید بن ولیدؓ کو نجات دے۔ اے اللہ ! ان مومنوں کو نجات دے جو کمزور سمجھے جاتے ہیں ۔ اے اللہ! مضر کو سختی سے لتاڑ اور اُن پر ایسے (قحط کے) سال بھیج جو یوسف کے سے سال ہوں۔
(تشریح)سعید بن سلیمان (واسطی) نے ہم سے بیان کیا کہ عباد (بن عوام) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے اسماعیل(بن ابی خالد) سے روایت کی کہ میں نے قیس (بن ابی حازم) سےسنا۔(قیس نے کہا:) میں نے حضرت سعید بن زیدؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں نے اپنے تئیں ایسی حالت میں بھی دیکھا ہے کہ حضرت عمر ؓنے مسلمان ہونے کی وجہ سے مجھے باندھ دیا تھا اور جو تم نے حضرت عثمانؓ سے کیا، اگر اس سے اُحد گر پڑے تو بجا تھا کہ وہ گر پڑتا۔
محمد بن عبداللہ بن حوشب طائفی نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوہاب نے ہمیں بتایا۔ ایوب نے ہم سےبیان کیا۔ ایوب نے ابوقلابہ سے، ابوقلابہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ۔ اُنہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین باتیں ہیں کہ جس شخص میں وہ ہوں وہ ایمان کی حلاوت پاتا ہے ۔ یہ کہ اللہ اور اس کا رسول اُس کو اُن تمام چیزوں سے زیادہ پیارے ہوں جو اُن کے سوا ہیں اور یہ کہ وہ کسی آدمی سے مَحبت رکھے تو صرف اللہ ہی کے لئے اُس سے مَحبت رکھے اور یہ کہ وہ کفر میں لوٹنے کو ایسے ہی ناپسند کرے جیسے آگ میں ڈالے جانے کو ناپسند کرتا ہے۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (قطان) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے اسماعیل سے روایت کی کہ قیس (بن ابی حازم) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے حضرت خباب بن ارتؓ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکوہ کیا اور آپؐ اس وقت کعبہ کے سایہ میں اپنی ایک چادر پر تکیہ لگائے بیٹھے تھے۔ ہم نے کہا: کیا آپؐ ہمارے لئے نصرت کی دعا نہیں فرمائیں گے؟ آپؐ نے فرمایا: تم سے پہلے ایسے لوگ بھی ہوچکے ہیں کہ ایک آدمی کو پکڑا جاتا اور پھر ا س کے لئے زمین میں گڑھا کھود دیا جاتا اور اس میں گاڑ دیا جاتا ۔ پھر آرا لا کر اس کے سر پر رکھا جاتا اور ا س کو دو ٹکڑے کر دیا جاتا اور لوہے کی کنگھیاں اس کے گوشت اور ہڈی تک چلائی جاتیں مگر یہ بات اس کو اپنے دین سے نہ روکتی۔ اللہ کی قسم! یہ سلسلہ ضرور پورا ہو کر رہے گا یہاں تک کہ یہ حالت ہوگی کہ سوار صنعاء سے چل کر حضر موت پہنچے گا، کسی سے نہیں ڈرے گا مگر اللہ سے اور اپنی بکریوں کے متعلق بھیڑیے سے مگر بات یہ ہے کہ تم جلدی کرتے ہو۔
(تشریح)عبدالعزیز بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سعید مقبری سے، سعید نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: ایک بار ہم مسجد میں تھے کہ رسول اللہﷺ ہمارے پاس باہر آئے۔ آپؐ نے فرمایا: یہود کے پاس چلو اور ہم آپؐ کے ساتھ گئے۔ جب ہم تورات پڑھانے کے مدرسے میں پہنچے تو نبی ﷺ کھڑے ہوگئے اور اُنہیں بلند آواز سے پکار کر کہا: اے یہودیوں کی جماعت! اسلام کو قبول کرو تم سلامتی میں رہو گے۔ اُنہوں نے کہا: ابوالقاسم! آپؐ نے ہمیں یہ حکم پہنچا دیا۔ آپؐ نے فرمایا: یہی میں چاہتا ہوں۔ پھر آپؐ نے دوسری بار فرمایا تو اُنہوں نے کہا: ابو القاسم! آپؐ نے یہ حکم پہنچا دیا۔ پھر آپؐ نے تیسری بار یہی کہا اور فرمایا: تم جان لو کہ یہ زمین اللہ اور اس کے رسول کی ہے اور میں تمہیں یہاں سے نکالنا چاہتا ہوں۔ اس لئے تم میں سے جو اپنے مال کے عوض میں کوئی قیمت پاسکتا ہو تو اُس کو بیچ دے ورنہ تم یہ سمجھ لو کہ یہ زمین اللہ اور اس کے رسول کی ہے۔
(تشریح)یحيٰ بن قزعہ نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے، عبدالرحمٰن نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے عبدالرحمٰن اور مجمع سے جو دونوں یزید بن جاریہ انصاری کے بیٹے تھے، اُن دونوں نے حضرت خنساء بنت خِذام انصاریہؓ سے روایت کی کہ اُن کے باپ نے اُن کا نکاح کردیا اور وہ بیوہ تھیں تو اُنہوں نے اس نکاح کو ناپسند کیا۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں تو آپؐ نے اُن کے نکاح کو باطل قرار دیا۔
محمد بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ابن جریج سے، ابن جریج نے ابن ابی ملیکہ سے، اُنہوں نے ابوعمرو سے جو ذکوان ہیں۔ ابوعمرو نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ آپؓ بیان فرماتی ہیں: میں نے کہا: یا رسول اللہ ! کیا عورتوں سے اُن کے نکاح کے متعلق مشورہ لیا جائے ؟ آپؐ نے فرمایا: ہاں۔ میں نے کہا: کنواری سے اجازت لی جائے تو وہ شرماتی ہے اور خاموش رہتی ہے۔ آپؐ نے فرمایا: اس کی خاموشی ہی اس کی اجازت ہے۔
(تشریح)ابونعمان نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔اُنہوں نے عمرو بن دینار سے، عمرو نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک انصاری شخص نے کہا کہ اُس کے مرنے کے بعد اس کا غلام آزاد ہو گا۔ اور اس کے پاس اس کے سوا کوئی جائیداد نہ تھی۔ یہ خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچی۔ آپؐ نے فرمایا: مجھ سے یہ غلام کون خریدے گا؟ تو نعیم بن نحامؓ نے اس کو آٹھ سو درہم میں خرید لیا۔ (عمرو بن دینار) کہتے تھے: اور میں نے حضرت جابرؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: وہ ایک قبطی غلام تھا جو پہلے سال ہی مرگیا۔
(تشریح)حسین بن منصور نے ہم سے بیان کیا کہ اسباط بن محمد نے ہمیں بتایا۔سلیمان بن فیروز شیبانی نے ہم سے بیان کیا۔ سلیمان نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی۔ اور شیبانی نے یہ بھی کہاکہ عطاء ابوالحسن سُوائی نے بھی مجھ سے بیان کیا اور میں سمجھتا ہوں کہ اُنہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہی روایت کرتے ہوئے اس کو بیان کیا۔ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا يَحِلُّ لَكُمْ (یعنی اے ایماندارو! تمہارے لیے (یہ)جائز نہیں کہ تم زبردستی عورتوں کے وارث بن جاؤ) اُنہوں نے کہا: لوگوں کی یہ عادت تھی کہ جب کوئی مرد مر جاتا تو اُس کے رشتہ دار اُس کی بیوی کے حقدار ہوتے۔ اگر اُن میں سے کوئی چاہتا تو اُس سے خود نکاح کرلیتا اور اگر وہ چاہتے تو کسی اور سے اُس کا نکاح کر دیتے اور اگر چاہتے تو اس کا نکاح نہ کرتے۔ غرض وہ اُس عورت پر اُس کے رشتہ داروں کی نسبت سے زیادہ حق رکھتے۔ اس لئے یہ آیت اس رواج کے متعلق نازل ہوئی۔
اور لیث نے کہا: نافع نے مجھ سے بیان کیا کہ صفیہ بنت ابی عبید نے اُن کو بتایا کہ حکومت کے غلاموں میں سے ایک غلام نے غنیمت کے پانچویں حصے کی ایک لونڈی سے جماع کیا اور اُس نے اُس کو مجبور کرکے اس کی بکارت زائل کی تو حضرت عمرؓ نے اُس شخص کو مقررہ کوڑے لگائے اور اُس کو جلا وطن کر دیا اور اُس لونڈی کو کوڑے نہیں لگائے کیونکہ اُسے مجبور کیا گیا تھا۔ اُس کنواری لونڈی کے متعلق جس کی کوئی آزاد شخص بکارت زائل کر دے، امام زُہری نے کہا: حاکم کنواری لونڈی کی قیمت کا اندازہ لگا کر رقم کی ادائیگی کرائے نیز اس شخص کو کوڑے لگوائے جائیں اور اَئمہ کے فیصلہ کے مطابق بیوہ لونڈی کے متعلق یہ حکم نہیں کہ اس سے زیادتی کرنے والے شخص پر تاوان ڈالا جائے گا بلکہ صرف کوڑوں کی شرعی حد لگائی جائے گی۔