بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 46 hadith
ابوالولید نے ہم سے بیان کیاکہ شعبہ نے ہمیں بتایا، کہا: عمروبن دینار نے مجھے خبردی۔ میں نے جابر بن زید سے سنا۔ (انہوں نے کہا:) میںنے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا۔ انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرفات میں سنا۔ آپؐ لوگوں سے مخاطب ہوئے۔ (فرمایا:) جس کے پاس جوتا نہ ہو، چاہیے کہ وہ موزے پہن لے اور جس کے پاس تہ بند نہ ہو، وہ پاجامہ پہن لے۔ یہ بات آپؐ نے محرم کی نسبت فرمائی۔
آدم(بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ عمروبن دینار نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے جابر بن زید سے، جابر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عرفات میں ہم سے مخاطب ہوئے اور آپؐ نے فرمایا: جس کے پاس تہہ بند نہ ہو؛ چاہیے کہ وہ پاجامہ پہن لے ۔ جس کے پاس جوتا نہ ہو؛ چاہیے کہ وہ موزے پہن لے۔
عبیداللہ (بن موسیٰ) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے اسرائیل سے، اسرائیل نے ابواسحق سے، ابواسحق نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ذیقعدہ میں عمرہ کیا تو اہل مکہ نے آپؐ کو داخل ہونے کی اجازت دینے سے انکار کردیا؛ جب تک کہ آپؐ یہ شرط نہ کرلیں کہ وہ مکہ مکرمہ میں برہنہ ہتھیار لے کر داخل نہیں ہوں گے۔
(تشریح)عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں خبردی۔ انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (مکہ میں) فتح کے سال داخل ہوئے اور آپؐ کے سر پر خَود تھا۔ جب آپؐ نے اسے اتارا تو ایک شخص آیا اور کہنے لگا کہ ابن خطل کعبہ کے پردوں سے لٹکا ہوا ہے تو آپؐ نے فرمایا: اسے قتل کردو۔
اور ایک شخص نے ایک شخص کا ہاتھ دانت سے کاٹا۔ اس نے جھٹکا دے کر اس کا سامنے کا دانت نکال دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے باطل قرار دیا۔ (یعنی اس کا کوئی قصاص نہیں دلایا۔)
(تشریح)احمد بن یونس نے ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔ ابن شہاب نے ہم سے بیان کیا کہ انہوں نے سالم سے، سالم نے حضرتعبد اللہ (بن عمر) رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ محرم کونسے کپڑے پہنے؟ تو آپؐ نے فرمایا: نہ قمیص پہنے اور نہ دستار باندھے۔ نہ پاجامہ پہنے، نہ بارانی اور نہ ایسا کپڑا جس میں زعفران ہو اور نہ وہ جس میں ورس ہو اور اگر جوتے نہ ہوں تو چاہیے کہ موزے پہن لے اور ان کو اتنا کاٹ لے کہ دونوں ٹخنوں سے نیچے ہو جائیں۔
مسلم نے ہم سے بیان کیا۔ وہیب نے ہمیں بتایا۔ (عبداللہ) بن طائوس نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ والوں کے لئے ذوالحلیفہ کو میقات مقرر کیا اور نجد والوں کے لئے قرن المنازل کو اور یمن والوں کے لئے یلملم کو۔یہ میقات ان کے لئے ہیں اور ہر اُس آنے والے کے لئے جس کا گذر وہاں سے ہو۔ یعنی وہ حج و عمرہ کا ارادہ کریں اور جو اِن مقامات کے ورے ہوں، اُن کے لئے جہاں سے وہ چلیں۔ حتیٰ کہ مکہ والے مکہ سے (احرام باندھیں)۔
ابوالولید نے ہم سے بیان کیاکہ ہمام نے ہمیں بتایا۔ عطاء نے ہم سے بیان کیا، کہا: صفوان بن یعلی نے مجھے بتایا۔ ان کے باپ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا کہ ایک شخص آپؐ کے پاس آیا جو جبہ پہنے تھا اور اس پر زرد یا اسی طرح کا نشان تھا۔ حضرت عمرؓ مجھ سے کہا کرتے تھے: کیا تم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی حالت میں دیکھنا چاہتے ہو۔ جب آپؐ پر وحی نازل ہو رہی ہو۔ آپؐ پر وحی نازل ہوئی۔ پھر آپؐ سے وحی کی حالت جاتی رہی اور آپؐ نے فرمایا: اپنے عمرہ میں وہ کر جو تو اپنے حج میں کرتا ہے۔
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو بن دینار سے، عمرو نے سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔انہوں نے کہا: اسی اثناء میں کہ ایک شخص نبی ﷺ کے ساتھ عرفات میں بحالت وقوف تھا کہ وہ اپنی اونٹنی سے گرا۔اس نے اس کی گردن توڑ دی یا کہا کہ (وہیں) اسے مارڈالا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اور دو کپڑوں میں کفنائو۔ یا فرمایا: اس کے دو کپڑوں میں (کفن دو) اور اسے خوشبو نہ لگائو اور نہ اس کا سر ڈھانپو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن لبیک کہتے ہوئے اُٹھائے گا۔
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حماد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب سے، ایوب نے سعید بن جبیر سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: اسی اثناء میں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک شخص عرفات میں بحالت وقوف تھا کہ اپنی اونٹنی سے گرپڑا تو اس نے اس کی گردن توڑ دی۔ وَقَصَتْہُ کہا یا اَوْقَصَتْہُ کہا۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پانی اور بیری کے پتوں سے اسے نہلائو اور دوکپڑوں سے اسے کفنائو۔ اسے خوشبو نہ لگائو اور اس کا سر نہ ڈھانپو۔ اسے خوشبو نہ لگائوکیونکہ اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن لبیک کہتے ہوئے اٹھائے گا۔
(تشریح)