بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 15 hadith
عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا۔ مالک نے ہمیں خبردی کہ نافع سے مروی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب فتنہ کے ایام میں عمرہ کرنے کی غرض سے مکہ روانہ ہونے لگے تو انہوں نے کہا: اگر بیت اللہ سے میں روکا گیا تو میں ویسے ہی کروں گا؛ جیسے ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا تھا۔ تو انہوں نے عمرہ کا لبیک پکار کر احرام باندھا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے سال عمرہ کا احرام باندھاتھا۔
موسیٰ بن اسماعیل نے مجھ سے بیان کیا کہ جویریہ نے ہمیں بتایا۔ نافع سے مروی ہے کہ حضرت عبداللہؓ کے بیٹوں میں سے بعض نے ان سے کہا: اگر آپؓ اس سال ٹھہرے رہیں ( توبہتر ہے۔)
محمود (بن غیلان) نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالرزاق نے ہمیں بتایا۔ معمر نے ہمیں خبردی۔ انہوں نے زُہری سے، زہری نے عروہ سے، انہوں نے حضرت مسور ص سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر منڈوانے سے پہلے قربانی کی اور اپنے صحابہ کو اسی کا حکم دیا۔
عبداللہ بن محمد بن اسماء نے ہم سے بیان کیا کہ جویریہ نے ہمیں بتایا۔ نافع سے مروی ہے کہ عبیداللہ بن عبداللہ اور سالم بن عبداللہ نے ان کو خبر دی۔ ان دونوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ان ایام میں بات کی جب لشکر نے (حضرت عبداللہ) بن زبیرؓ پر چڑھائی کی تھی؛ ان دونوں نے (اپنے باپ سے) کہا: آپؓ کو اس سے کوئی نقصان نہیں کہ اس سال حج نہ کریں اور ہم ڈرتے ہیں کہ آپؓ کے اور بیت اللہ کے درمیان روک پیداکردی جائیگی۔ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم نکلے تو کفار قریش نے بیت اللہ جانے سے روک دیا تھا۔ نبی ﷺ نے اپنی قربانی ذبح کردی اور اپنا سر منڈوا لیا اورمیں تمہیں گواہ ٹھہراتا ہوں کہ میں نے عمرہ اپنے پر واجب کر لیا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو میں چلا جائوں گا اور اگر مجھے بیت اللہ تک جانے دیا گیا تو میں طواف کرلوںگا اور اگر میرے اور بیت اللہ کے درمیان روک ڈالی گئی تو میں ویسے ہی کروں گا جیسے نبی ﷺ نے کیا تھا اور میں اس وقت آپؓ کے ساتھ ہی تھا۔ ذوالحلیفہ سے آپؓ نے عمرہ کا احرام باندھا پھر تھوڑی دیر چلے۔ پھر فرمایا: (حج اور عمرہ) دونوں کی بات ایک ہی ہے۔ میں تمہیں گواہ ٹھہراتا ہو کہ میں نے اپنے عمرہ کے ساتھ حج بھی واجب کرلیا ہے اور آپؓ ان دونوں سے آزاد نہیں ہوئے یہاں تک کہ قربانی کا دن آگیا اور (حضرت عبداللہ بن عمرؓ) قربانی لے گئے تھے۔ کہتے تھے کہ اس وقت تک (محرم) احرام سے آزاد نہیں ہوتا؛ جب تک کہ ایک طواف (طوافِ زیارت) نہ کرلے؛ جس دن کہ مکہ میں داخل ہو۔
احمد بن محمد نے ہم سے بیان کیا۔ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبر دی۔ (کہا:) یونس نے ہمیں خبردی کہ زہری سے مروی ہے۔انہوں نے کہا کہ سالم نے مجھے خبردی، کہا: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریق تمہارے لیے کافی نہیں؟ اگر تم میں سے کوئی حج سے روکا جائے تو بیت اللہ اور صفا و مروہ کا طواف کرلے۔ پھر وہ ہر شئے سے آزاد ہوجائے ۔ یہاں تک کہ آئندہ سال حج کرلے اور قربانی دے یا روزہ رکھے اگر قربانی کی طاقت نہ ہو۔اور عبد اللہ (بن مبارک) سے مروی ہے کہ ہمیں معمر نے خبر دی کہ زُہری سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ سالم نے حضرت ابن عمرؓ سے اسی طرح روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا۔
(تشریح)محمد بن عبدالرحیم نے ہم سے بیان کیا کہ ابوبدر شجاع بن ولید نے ہمیں خبردی۔ عمر بن محمد عمری سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا اور نافع نے بھی بیان کیا کہ عبداللہ اور سالم نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بات کی (کہ اس سال حج نہ کریں) تو انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم بحالت عمرہ نکلے تو کفارِ قریش بیت اللہ کے درمیان روک بن گئے تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اونٹ ذبح کئے اور اپنا سر منڈوایا۔
(تشریح)اسماعیل (بن ابی اویس) نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے مجھے بتایا۔ نافع سے مروی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب فتنہ کے ایام میں عمرہ کرنے کی غرض سے مکہ کوروانہ ہونے لگے تو انہوں نے کہا: اگر بیت اللہ سے میں روک دیا گیا تو ہم ویسا ہی کریں گے جیسا کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کی معیت میں کیا تھا۔ پھر انہوں نے عمرہ کا احرام باندھا کہ نبی ﷺ نے حدیبیہ کے سال عمرہ کا احرام باندھا تھا۔ پھر حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے اپنی بات پر غور کیا تو کہا: ان دونوں (حج اور عمرہ) کی ایک ہی بات ہے تو اپنے ساتھیوں سے متوجہ ہوئے اور کہا: ان دونوں کی ایک ہی بات ہے۔ میں تمہیں گواہ ٹھہراتا ہوں کہ میں نے عمرہ کے ساتھ حج واجب کرلیا ہے۔ پھر ان دونوں کے لئے ایک ہی طواف کیا اور سمجھے کہ یہ ان کے لئے کافی ہے اور وہ قربانی لے گئے تھے۔
(تشریح)عبداللہ بن یوسف(تنیسی) نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں خبردی۔ انہوں نے حمید بن قیس سے، حمید نے مجاہد سے، مجاہد نے عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے، انہوں نے حضرت کعب بن عجرہ ص سے، حضرت کعبؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: شاید تیری جوئووں نے تجھے تکلیف دی ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں یارسول اللہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا سر منڈوالو اور تین دن روزے رکھو یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلائو یا ایک بکری قربانی دو۔
(تشریح)ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ سیف (بن سلیمان مکی) نے ہمیں بتایا، کہا: مجاہد نے مجھ سے بیان کیا، کہا: میں نے عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے سنا کہ حضرت کعب بن عجرہؓ نے انہیں بتایا،کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ میں میرے پاس ٹھہرے اور حالت یہ تھی کہ میرا سر جوئووں سے ٹپک رہا تھا تو آپؐ نے فرمایا: تیری جوئیں تجھے تکلیف دے رہی ہیں؟ میں نے کہا: ہاں۔ فرمایا: اپنا سر منڈوا لو۔ یا فرمایا: منڈوا لو۔ حضرت کعبؓ نے کہا: میرے متعلق ہی یہ آیت نازل ہوئی۔ یعنی جو تم میں سے بیمارہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو… نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین روزے رکھو۔ یا ایک فرق(تین صاع) چھ (محتاجوں) میں بطور صدقہ تقسیم کردو۔ یا قربانی دو جو میسر ہو۔
(تشریح)