بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 15 hadith
احمد بن یونس نے ہم سے بیان کیا کہ ابو شہاب (عبد ربہ بن نافع) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے (عبداللہ) ابن عون سے، ابن عون نے مجاہد سے، مجاہد نے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے، عبدالرحمٰن نے حضرت کعب بن عجرہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں آپؐ کے یعنی نبی ﷺ کے پاس آیا۔ آپؐ نے فرمایا: نزدیک آؤ تو میں نزدیک ہوا۔ آپؐ نے پوچھا: کیا تمہیں تمہاری جوئیں تکلیف دیتی ہیں؟ میں نے کہا: ہاں۔ آپؐ نے فرمایا: فدیہ دینا ہوگا روزوں سے یا صدقہ سے یا قربانی سے۔ اور ابن عون نے مجھے ایوب سے روایت کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے کہا: روزے تین دن کے ہیں اور قربانی ایک بکری کی اور جن مسکینوں کو کھانا کھلایا جائے وہ چھ ہوں۔
(تشریح)علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زُہری سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے یہ حدیث زُہری کے منہ سے سنی۔ وہ حُمید بن عبدالرحمٰن سے، حُمید حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کرتے تھے۔ حضرت ابوہریرہؓ نے کہا: ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں ہلاک ہو گیا۔ آپؐ نے فرمایا: تمہیں کیا ہوا؟ کہنے لگا: میں رمضان میں اپنی بیوی سے جماع کر بیٹھا۔ آپؐ نے فرمایا: کیا تم ایک گردن آزاد کر سکتے ہو؟ اُس نے کہا: نہیں۔ آپؐ نے فرمایا: کیا تم دو مہینے لگاتار روزے رکھ سکتے ہو؟ اُس نے کہا: نہیں۔ آپؐ نے فرمایا: تو کیا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو؟ اُس نے کہا: نہیں۔ آپؐ نے فرمایا: بیٹھ جاؤ اور وہ بیٹھ گیا۔ اتنے میں نبی ﷺ کے پاس ایک بڑی زنبیل (ٹوکری) لائی گئی جس میں کھجوریں تھیں۔ اور عَرَق ایک بڑی ماپنے کی زنبیل ہوتی ہے۔ آپؐ نے فرمایا: اسے لو اور اس کو صدقہ میں دے دو۔ وہ کہنے لگا: کیا میں اُس کو دوں جو مجھ سے زیادہ محتاج ہو؟ یہ سن کر نبی ﷺ اتنا ہنسے کہ آپؐ کے دانت دکھائی دئیے۔ آپؐ نے فرمایا: اپنے بال بچوں کو یہ کھلاؤ۔
(تشریح)محمد بن محبوب نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالواحد (بن زیاد) نے ہمیں بتایا۔ معمر نے ہم سے بیان کیا۔ معمر نے زُہری سے، زُہری نے حُمَید بن عبدالرحمٰن سے، حُمَید نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا: میں ہلاک ہو گیا۔ آپؐ نے فرمایا: تجھے کیا ہوا؟ کہنے لگا: میں رمضان میں اپنی بیوی سے جماع کر بیٹھا۔ آپؐ نے فرمایا: کیا تم ایک گردن آزاد کر سکتے ہو؟ اُس نے کہا: نہیں۔ آپؐ نے فرمایا: کیا دو مہینے لگاتار روزے رکھ سکتے ہو؟ کہنے لگا: نہیں۔ آپؐ نے فرمایا: پھر کیا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو؟ اُس نے کہا: نہیں۔ (حضرت ابوہریرہؓ) کہتے تھے: اتنے میں ایک انصاری شخص ایک زنبیل لے کر آیا۔ اور زنبیل ایک پیمانہ ہے، اُس میں کھجوریں تھیں۔ آپؐ نے فرمایا: یہ لے جاؤ اور اسے صدقہ میں دے دو۔ وہ بولا: یا رسول اللہ! کیا اُس کو جو مجھ سے زیادہ محتاج ہو؟ اس ذات کی قسم ہے جس نے آپؐ کو سچائی کے ساتھ بھیجا۔ مدینہ کے دونوں کناروں کے درمیان کوئی بھی گھروالے ایسے نہیں جو ہم سے زیادہ محتاج ہوں۔ پھر آپؐ نے فرمایا: جاؤ اپنے گھر والوں کو یہ کھلاؤ۔
(تشریح)عبداللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زُہری سے، زہری نے حمید سے، حمید نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں ہلاک ہوگیا۔ آپؐ نے فرمایا: تمہیں کیا ہوا؟ بولا۔ رمضان میں مَیں اپنی بیوی سے جماع کر بیٹھا۔ آپؐ نے فرمایا: کیا تم اتنی طاقت رکھتے ہو کہ ایک گردن کو آزاد کرو؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپؐ نے فرمایا: تو کیا دو مہینے لگاتار روزے رکھ سکتے ہو؟ اُس نے کہا: نہیں۔ آپؐ نے فرمایا: تو کیا پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو؟ کہنے لگا: میں اتنی طاقت نہیں رکھتا۔ اتنے میں نبی ﷺ کے پاس ایک زنبیل لائی گئی جس میں کھجوریں تھیں۔ آپؐ نے فرمایا: اسے لے لو اور اسے صدقہ میں دے دو۔ اس نے پوچھا: کیا اُس کو جو ہم سے زیادہ محتاج ہو؟ مدینہ کے دونوں کناروں کے درمیان ہم سے زیادہ محتاج کوئی نہیں۔ پھر آپؐ نے فرمایا: اسے لے لو اور اپنے گھر والوں کو یہ کھلاؤ۔
عثمان بن ابی شیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ قاسم بن مالک مزنی نے ہمیں بتایا۔ جُعَید بن عبدالرحمٰن نے ہم سے بیان کیا۔ جعید نے حضرت سائب بن یزیدؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ کے زمانہ میں صاع ایک مُدّ اور تہائی مد ہوا کرتا تھا، وہی تمہارا مُد جو آج کل ہے۔ پھر عمر بن عبدالعزیز کے زمانہ میں اس صاع کو بڑھا دیا گیا۔
منذر بن ولید جارودی نے ہم سے بیان کیا کہ ابو قتیبہ نے ہمیں بتایا اور یہ سَلم (شعیری) ہی ہیں۔ مالک نے ہم سے بیان کیا۔ مالک نے نافع سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت ابن عمرؓ رمضان کی زکوٰة نبی ﷺ کے مُد سے ماپ کر دیا کرتے تھے، وہی مد جو پہلے ہوا کرتا تھا اور نیز قسم کے کفارہ میں بھی نبی ﷺ کے مد سے ماپ کر دیا کرتے تھے۔ ابو قتیبہ نے (اسی سند سے) کہا: مالک نے ہمیں بتایا کہ ہمارا مُدّ تمہارے مد سے بڑا ہے اور ہم تو نبی ﷺ کے ہی مد میں برکت سمجھتے ہیں اور مالک نے مجھ سے کہا: اگر تمہارے پاس کوئی امیر آئے اور وہ نبی ﷺ کے مد سے چھوٹا مد مقرر کرے تو تم کس مد سے ماپ کرتے؟ میں نے کہا: ہم تو نبی ﷺ کے مد سے ماپ کر دیتے۔ تو انہوں نے کہا: تو پھر کیا ہم نہ سمجھیں کہ اصل معاملہ نبی ﷺ کے مد پر ہی دارومدار رکھتا ہے۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے، اسحاق نے حضرت انس بن مالکؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ! ان کے ماپ اور صاع اور مد میں برکت دیجیو۔
(تشریح)محمد بن عبدالرحیم نے ہم سے بیان کیا کہ داؤد بن رشید نے ہمیں بتایا۔ ولید بن مسلم نے ہم سے بیان کیا۔ ولید نے ابو غسان محمد بن مطرف سے، ابو غسان نے زید بن اسلم سے، زید نے علی بن حسین سے، علی نے سعید بن مرجانہ سے، سعید نے حضرت ابو ہریرہؓ سے، حضرت ابو ہریرہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: جس نے مسلمان گردن کو آزاد کیا اللہ اُس کے ہر ایک عضو کے بدلے میں اُس کا ایک ایک عضو آگ سے آزاد کر دے گا یہاں تک کہ اس کی شرمگاہ کو بھی اس کی شرمگاہ کے بدلہ میں (آگ سے رہائی دے گا۔)
(تشریح)ابو نعمان نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو (بن دینار) سے، عمرو نے حضرت جابرؓ سے روایت کی کہ انصار میں سے ایک شخص نے (کہا) میری موت کے بعد میرا غلام آزاد ہو گا اور اس کے پاس اُس کے سوا اور کوئی جائیداد نہ تھی۔ نبی ﷺ کو یہ خبر پہنچی۔ آپؐ نے فرمایا: مجھ سے یہ غلام کون خریدے گا؟ تو نعیم بن نحام نے اُسے آٹھ سو درہم میں خرید لیا۔ (عمرو بن دینار کہتے تھے) میں نے حضرت جابر بن عبداللہؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: یہ ایک قبطی غلام تھا جو پہلے ہی سال مر گیا۔
(تشریح)سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حکم (بن عتیبہ) سے، حکم نے ابراہیم (نخعی) سے، ابراہیم نے اسوَد (بن یزید) سے، اسوَد نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی کہ انہوں نے بریرہؓ کو خریدنا چاہا تو اُس کے مالکوں نے ان کے سامنے حق وراثت کی شرط پیش کی۔ حضرت عائشہؓ نے نبی ﷺ سے اس کا ذکر کیا۔ آپؐ نے فرمایا: اسے خرید لو کیونکہ حق وراثت تو اسی کا ہوتا ہے جو آزاد کرے۔
(تشریح)