بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 257 hadith
عیاش بن ولید نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالاعلیٰ نے ہمیں بتایا۔ سعید جُرَیری نے ہم سے بیان کیا۔ سعید نے ابوعثمان سے، ابوعثمان نے حضرت عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ حضرت ابوبکرؓ نے چند لوگوں کی ضیافت کی اور عبدالرحمٰنؓ سے کہا: اپنے مہمانوں کا خیال رکھنا کیونکہ میں نبی ﷺ کے پاس جارہا ہوں۔ میرے آنے سے پہلے پہلے ان کی مہمانی سے فارغ ہوجانا۔ عبدالرحمٰنؓ گئے اور ان کے پاس ماحضر لائے اور کہنے لگے: کھانا کھا لیں۔ انہوں نے کہا: صاحب خانہ کہاں ہیں؟ عبدالرحمٰنؓ نے کہا: آپ کھائیے۔ وہ بولے: ہم تو نہیں کھائیں گے جب تک کہ ہمارے صاحب خانہ نہ آجائیں۔ عبدالرحمٰنؓ نے کہا: آپ ہم سے جو آپ کی مہمانی ہے قبول کیجئے کیونکہ اگر وہ آئے اور آپ نے کھانا نہ کھایا تو ہمیں ان سے ڈانٹ پڑے گی۔ انہوں نے نہ مانا اور میں سمجھا کہ حضرت ابوبکرؓ مجھ پر ناراض ہوں گے۔ جب وہ آئے تو میں اُن سے ایک طرف ہوگیا۔ انہوں نے کہا: تم نے کیا کیا؟ تو گھر والوں نے انہیں بتایا۔ حضرت ابوبکرؓ نے پکارا: عبدالرحمٰنؓ! میں خاموش ہو رہا۔ پھر انہوں نے کہا: عبدالرحمٰنؓ! پھر میں خاموش رہا۔ پھر کہنے لگے: ارے بیوقوف! میں تمہیں قسم دیتا ہوں اگر تم میری آواز سن رہے ہو تو ضرور ہی آجاؤ۔ میں سن کر باہر آیا۔ میں نے کہا: اپنے مہمانوں سے پوچھئے۔ وہ کہنے لگے: حضرت عبدالرحمٰنؓ نے سچ کہا ہے۔ وہ ہمارے پاس کھانا لائے تھے۔ حضرت ابوبکرؓ نے کہا: اچھا تم نے میرا انتظار کیا، اللہ کی قسم میں آج رات کھانا نہیں کھاؤں گا اور دوسروں نے کہا: اللہ کی قسم ہم بھی کھانا نہیں کھائیں گے جب تک کہ آپؓ نہ کھائیں۔ حضرت ابوبکرؓ کہنے لگے: میں نے کبھی ایسی بُری رات نہیں دیکھی۔ تم پر افسوس! تم کیسے ہو؟ تم ہم سے جو تمہاری مہمانی ہے قبول کیوں نہیں کرتے؟ اپنا کھانا لاؤ۔ چنانچہ ان کے پاس آیا تو انہوں نے اپنا ہاتھ رکھا اور کہا: بسم اللہ، پہلی حالت شیطان کی تھی، اور حضرت ابوبکرؓ نے کھایا اور مہمانوں نے بھی کھایا۔
محمد بن مثنیٰ نے مجھ سے بیان کیا کہ ابن ابی عدی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سلیمان (بن طرخان) سے، سلیمان نے ابوعثمان سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کہتے تھے کہ حضرت ابوبکرؓ اپنے ایک مہمان کو یا (کہا) اپنے مہمانوں کو لائے اور شام کے وقت نبی ﷺ کے پاس چلے گئے۔ پھر جب وہ آئے تو میری ماں کہنے لگیں: آج رات آپؓ اپنے مہمان یا (کہا) مہمانوں سے رُکے رہے۔ کہنے لگے: کیا آپؓ نے انہیں کھانا نہیں کھلایا؟ وہ بولیں: ہم نے اس کے سامنے یا (کہا) اُن کے سامنے پیش کیا تھا انہوں نے انکار کیا یا (کہا) اس نے انکار کیا۔ یہ سن کر حضرت ابوبکرؓ ناراض ہوئے اور بُرا بھلا کہا اور قسم کھائی کہ وہ کھانا نہیں کھائیں گے۔ میں یہ سن کر چھپ گیا اور انہوں نے پکارا: ارے بیوقوف۔ پھر اُس عورت نے بھی قسم کھائی کہ وہ کھانا نہیں کھائے گی جب تک کہ ابوبکرؓ نہ کھائیں گے اور اس مہمان نے یا (کہا) مہمانوں نے بھی قسم کھائی کہ وہ کھانا نہیں کھائے گا یا نہیں کھائیں گے جب تک کہ ابوبکرؓ نہ کھائیں گے۔ یہ دیکھ کر حضرت ابوبکرؓ کہنے لگے: یہ حالت تو ایسی معلوم ہوتی ہے گویا شیطان سے ہے۔ یہ کہہ کر انہوں نے کھانا منگوایا۔ خود بھی کھایا اور انہوں نے بھی کھایا۔ وہ جس لقمہ کو بھی اٹھاتے تھے ضرور ہی اس کے نیچے سے اس سے بھی زیادہ بڑھتا جاتا تھا۔ حضرت ابوبکرؓ نے (اپنی زوجہ سے) کہا: بنی فراس کی بہن! یہ کیا ہے؟ وہ بولیں: میری آنکھ کی ٹھنڈک کی قسم کہ یہ کھانا تو اب اس سے بھی زیادہ ہے کہ جو ہمارے کھانے سے پہلے تھا۔ ان مہمانوں نے کھایا اور حضرت ابوبکرؓ نے کچھ کھانا نبی ﷺ کو بھی بھیجا۔ اور (حضرت عبدالرحمٰنؓ نے) ذکر کیا کہ آپؐ نے بھی اس سے کھایا۔
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حماد نے ہمیں بتایا جو زید کے بیٹے ہیں۔ حماد نے یحيٰ بن سعید سے، یحيٰ نے بُشَیر بن یسار سے جو انصار کے غلام تھے، بُشَیر نے حضرت رافع بن خدیجؓ اور حضرت سہل بن ابی حثمہؓ سے روایت کی کہ ان دونوں نے ان سے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ بن سہلؓ اور حضرت محیّصہ بن مسعودؓ خیبر میں گئے اور نخلستان میں الگ ہوگئے تو حضرت عبداللہ بن سہلؓ وہاں مار ڈالے گئے۔ حضرت عبدالرحمٰن بن سہلؓ اور حویّصہ اور محیّصہ جو حضرت مسعودؓ کے بیٹے تھے نبی ﷺ کے پاس آئے اور وہ تینوں اپنے ساتھی کے متعلق بات کرنے لگے تو حضرت عبدالرحمٰنؓ نے شروع کیا اور وہ ان تینوں میں چھوٹے تھے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: جو بڑا ہے اس کو بڑا رہنے دو۔ یحيٰ (بن سعید) نے یوں کہا: جو بڑا ہے اس کو پہلے بات کرنے دو۔ انہوں نے اپنے ساتھی کے متعلق بات کی تو نبی ﷺ نے (سن کر) فرمایا: کیا تم میں سے پچاس آدمیوں کے قسم کھانے پر تم اپنے مقتول یا فرمایا: اپنے ساتھی کی دیت لینے کے مستحق ہو جاؤ گے؟ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! یہ ایسا امر ہے کہ ہم نے اس کو دیکھا نہیں۔ آپؐ نے فرمایا: پھر یہود اپنے میں سے پچاس کے قسم کھانے پر تمہارے سامنے بری ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! وہ کافر لوگ ہیں۔ آخر رسول اللہ ﷺ نے اپنی طرف سے (حضرت عبداللہ بن سہلؓ کے) وارثوں کو دیت دی۔ حضرت سہلؓ کہتے تھے: ان اونٹوں میں سے مجھے بھی ایک اونٹنی ملی اور وہ ان کے تھان میں جا گھسی اور اس نے مجھے ایک لات ماری۔ لیث نے کہا: مجھے یحيٰ نے بُشَیر سے، بُشَیر نے حضرت سہلؓ سے روایت کرتے ہوئے بتایا۔ یحيٰ کہتے تھے: میں سمجھتا ہوں کہ بُشَیر نے یوں کہا: حضرت رافع بن خدیجؓ کے ساتھ۔ اور ابن عیینہ نے (یوں) کہا کہ ہم سے یحيٰ نے بُشَیر سے روایت کرتے ہوئے بتایا۔ بُشَیر نے اکیلے حضرت سہلؓ سے ہی روایت کی۔
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حماد نے ہمیں بتایا جو زید کے بیٹے ہیں۔ حماد نے یحيٰ بن سعید سے، یحيٰ نے بُشَیر بن یسار سے جو انصار کے غلام تھے، بُشَیر نے حضرت رافع بن خدیجؓ اور حضرت سہل بن ابی حثمہؓ سے روایت کی کہ ان دونوں نے ان سے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ بن سہلؓ اور حضرت محیّصہ بن مسعودؓ خیبر میں گئے اور نخلستان میں الگ ہوگئے تو حضرت عبداللہ بن سہلؓ وہاں مار ڈالے گئے۔ حضرت عبدالرحمٰن بن سہلؓ اور حویّصہ اور محیّصہ جو حضرت مسعودؓ کے بیٹے تھے نبی ﷺ کے پاس آئے اور وہ تینوں اپنے ساتھی کے متعلق بات کرنے لگے تو حضرت عبدالرحمٰنؓ نے شروع کیا اور وہ ان تینوں میں چھوٹے تھے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: جو بڑا ہے اس کو بڑا رہنے دو۔ یحيٰ (بن سعید) نے یوں کہا: جو بڑا ہے اس کو پہلے بات کرنے دو۔ انہوں نے اپنے ساتھی کے متعلق بات کی تو نبی ﷺ نے (سن کر) فرمایا: کیا تم میں سے پچاس آدمیوں کے قسم کھانے پر تم اپنے مقتول یا فرمایا: اپنے ساتھی کی دیت لینے کے مستحق ہو جاؤ گے؟ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! یہ ایسا امر ہے کہ ہم نے اس کو دیکھا نہیں۔ آپؐ نے فرمایا: پھر یہود اپنے میں سے پچاس کے قسم کھانے پر تمہارے سامنے بری ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! وہ کافر لوگ ہیں۔ آخر رسول اللہ ﷺ نے اپنی طرف سے (حضرت عبداللہ بن سہلؓ کے) وارثوں کو دیت دی۔ حضرت سہلؓ کہتے تھے: ان اونٹوں میں سے مجھے بھی ایک اونٹنی ملی اور وہ ان کے تھان میں جا گھسی اور اس نے مجھے ایک لات ماری۔ لیث نے کہا: مجھے يحيٰ نے بُشَیر سے، بُشَیر نے حضرت سہلؓ سے روایت کرتے ہوئے بتایا۔ يحيٰ کہتے تھے: میں سمجھتا ہوں کہ بُشَیر نے یوں کہا: حضرت رافع بن خدیجؓ کے ساتھ۔ اور ابن عیینہ نے (یوں) کہا کہ ہم سے يحيٰ نے بُشَیر سے روایت کرتے ہوئے بتایا۔ بُشَیر نے اکیلے حضرت سہلؓ سے ہی روایت کی۔
مسدّد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (بن سعید قطان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبیداللہ (عمری) سے روایت کی کہ نافع نے مجھے بتایا۔ نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایسا درخت بتاؤ جس کی مثال مسلمان کی مثال ہے۔ وہ اپنا پھل اپنے ربّ کے حکم سے ہر وقت دیتا ہے اور اس کے پتے نہیں گرتے۔ میرے دل میں آیا کہ وہ کھجور ہے مگر میں نے بُرا جانا کہ میں بات کروں اور وہاں حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ بھی ہیں۔ جب وہ نہ بولے نبی ﷺ نے فرمایا: وہ کھجور ہے۔ جب میں اپنے باپ کے ساتھ باہر نكلا تو میں نے کہا: ابا! میرے دل میں آیا تھا کہ وہ کھجور ہے۔ انہوں نے کہا: تمہیں یہ کہنے سے کس نے روکا؟ اگر تم نے کہہ دیا ہوتا تو یہ مجھے ایسی ایسی بات سے زیادہ پسند تھا۔ (حضرت ابن عمرؓ نے) کہا: مجھے صرف اسی بات نے روکا کہ میں نے آپؓ کو اور حضرت ابوبکرؓ کو بات کرتے نہیں دیکھا اس لئے میں نے بُرا جانا۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زُہری سے روایت کی۔ زُہری نے کہا: مجھے ابوبکر بن عبدالرحمٰن نے خبر دی کہ مروان بن حکم نے انہیں بتایا کہ عبدالرحمٰن بن اسود بن عبد یغوث نے اُن سے بیان کیا۔ حضرت اُبَيّ بن کعبؓ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بعض شعروں میں بھی حکمت ہے۔
(تشریح)ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسود بن قیس سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت جندب (بن عبداللہ بجلیؓ) سے سنا۔ وہ کہتے تھے: ایک بار نبی ﷺ چلے جا رہے تھے کہ آپؐ کو ایک پتھر لگا جس سے آپؐ نے ٹھوکر کھائی اور آپؐ کی انگلی زخمی ہو گئی۔ آپؐ نے فرمایا: تو ایک انگلی ہی ہے نا جو زخمی ہوئی، اور اللہ ہی کی راہ میں ہے وہ تکلیف جو تجھے پہنچی ہے۔
محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ (عبدالرحمٰن) ابن مہدی نے ہمیں بتایا۔ سفیان نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے عبدالملک سے روایت کی۔ ابوسلمہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے فرمایا: نہایت ہی سچی بات جو کسی شاعر نے کہی ہے وہ لبید کی یہ بات ہے: سنو ہر شے اللہ کے سوا بے حقیقت ہے۔ اور امیّہ بن ابی الصلت قریب تھا کہ وہ مسلمان ہو جائے۔
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ حاتم بن اسماعیل نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یزید بن ابی عبید سے، یزید نے حضرت سلمہ بن اَکوَعؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خیبر کی طرف نکلے۔ ہم رات کو چلے تو لوگوں میں سے ایک شخص نے عامر بن اکوَعؓ سے کہا: کیا آپؓ ہمیں اپنے شعروں سے کچھ نہیں سنائیں گے؟ (حضرت سلمہؓ) کہتے تھے: عامرؓ شاعر آدمی تھے۔ وہ نیچے اُترے اور لگے لوگوں کو حدی پڑھ کر سنانے۔ یہ شعر پڑھتے تھے: اے اللہ! اگر تو نہ ہوتا تو ہم بھی کبھی ہدایت نہ پاتے اور نہ صدقہ دیتے اور نہ نماز پڑھتے۔ ہمارے گناہوں پر پردہ پوشی فرماتے ہوئے ہم سے درگزر فرما، ہم تیرے قربان ہوں جب تک ہم باقی رہیں اور اگر ہماری مڈبھیڑ ہو تو قدموں کو مضبوط رکھیو اور ہمارے دلوں میں سکینت ڈال۔ ہمیں جب جنگ کے لئے للکارا گیا ہے تو ہم بھی اب آگئے ہیں اور وہ تو ان للکاروں سے ہم پر چڑھ آئے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے سن کر فرمایا: یہ اونٹوں کو چلانے والا کون ہے؟ لوگوں نے کہا: عامر بن اکوَعؓ۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ اس پر رحم کرے۔ لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے نبی! وہ تو اَب شہید ہو چکے۔ کاش آپؐ ہمیں ان سے فائدہ اُٹھانے دیتے۔ انہوں نے کہا: ہم خیبر میں پہنچے اور ہم نے ان کا اتنی دیر تک محاصرہ کئے رکھا کہ ہمیں سخت بھوک لگی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے خیبر کو ان (مسلمانوں) کے لئے فتح کروا دیا۔ جب لوگ اس دن کی شام کو آئے کہ جس دن ان کے لئے وہ فتح کیا گیا تھا تو انہوں نے بہت سی آگیں جلائیں۔ رسول اللہ ﷺ نے دیکھ کر فرمایا: یہ آگیں کیا ہیں؟ کیا چیز پکانے کے لئے جلا رہے ہو؟ لوگوں نے کہا: گوشت پکانے کے لئے۔ آپؐ نے فرمایا: کس کا گوشت؟ انہوں نے کہا: پالتو گدھوں کا گوشت۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ان ہانڈیوں کو اُنڈیل دو اور انہیں توڑ دو۔ ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ! ہم انہیں انڈیل دیتے ہیں اور انہیں دھو لیتے ہیں۔ فرمایا: یا یہی سہی۔ جب لوگ صف آراء ہوئے تو عامرؓ کی تلوار کچھ چھوٹی تھی۔ انہوں نے اس سے یہودی پر وار کیا کہ اس کو مار دیں تو کیا ہوا کہ ان کی تلوار کی نوک جو لَوٹی تو عامرؓ کے گھٹنے میں لگی جس سے وہ فوت ہو گئے۔ جب لوگ لَوٹے تو حضرت سلمہؓ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے مجھے ڈھیلا، رنگ بدلا ہوا دیکھا آپؐ نے مجھے فرمایا: تمہیں کیا ہوا؟ میں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپؐ پر قربان! لوگ کہتے ہیں کہ عامرؓ کے سب اعمال اکارت گئے۔ آپؐ نے فرمایا: کس نے یہ کہا؟ میں نے کہا: فلاں اور فلاں اور فلاں شخص اور اُسَید بن حُضَیر انصاریؓ نے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جھوٹ بولا جس نے یہ کہا۔ اس کو تو دُہرا اجر ملے گا۔ اور آپؐ نے اپنی دونوں انگلیوں کو اکٹھا کیا۔ کیونکہ وہ تو عابد بھی تھا اور مجاہد بھی۔ کم ہی کوئی عرب ہے جو اس زمین میں اس جیسا پیدا ہوا ہو۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ اسماعیل نے ہمیں بتایا۔ ایوب نے ہم سے بیان کیا۔ ایوب نے ابوقلابہ سے، ابوقلابہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ حضرت انسؓ نے کہا: نبی ﷺ اپنی ازواج میں سے کسی کے پاس آئے اور ان کے ساتھ حضرت اُم سُلَیمؓ بھی تھیں۔ آپؐ نے فرمایا: افسوس اے انجشہ! ان شیشوں کو آہستہ آہستہ لے چلو۔ ابوقلابہ نے کہا: نبی ﷺ نے ایک ایسا فقرہ کہا اگر تم میں سے کوئی کہے تو تم اس کے لئے اسے معیوب گردانو۔ (یعنی آپؐ کا یہ قول: شیشوں کو آہستہ آہستہ لے چلو۔)