بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 274 hadith
حفص بن عمر نے ہم سے بیان کیا، کہا: شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت انسؓ سے روایت کی کہ نبی ﷺ اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما نماز اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ سے شروع کرتے تھے۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا ، کہا: عبدالواحد بن زیاد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: عمارہ بن قعقاع نے ہم سے بیان کیا ، کہا : ہم سے ابوزرعہ نے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: حضرت ابوہریرہؓ نے ہمیں بتایا ، کہا: رسول اللہ ﷺ تکبیر اور اقامت کے درمیان کچھ خاموش رہتے۔ (ابوزرعہ) کہتے تھے: میرا خیال ہے کہ انہوں نے کہا: تھوڑی دیر تک۔ تو میں نے کہا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ (آپؐ پر) قربان۔ تکبیر اور قرأت کے درمیان آپؐ جو خاموش رہتے ہیں آپؐ کیا پڑھتے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا: میں کہتا ہوں: الٰہی میرے اور میری خطائوں کے درمیان اتنی دوری ڈال دے جتنی دوری تو نے مشرق اور مغرب میں ڈالی ہے۔ الٰہی مجھے خطائوں سے ایسا پاک و صاف کردے۔ جیسے سفید کپڑا میل کچیل سے پاک و صاف کردیا جاتا ہے۔ الٰہی میری خطا ئیں پانی اور برف اور اولوں سے دھو ڈال۔
(تشریح)ابن ابی مریم نے ہم سے بیان کیا ، کہا: نافع بن عمر نے ہمیں بتایا ، کہا: ابومُلَیکہ کے بیٹے نے مجھے خبر دی۔ حضرت اسماء بنت ِابوبکرؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے سورج گرہن کی نماز پڑھی۔ آپؐ کھڑے ہوئے اور دیر تک کھڑے رہے۔ پھر آپؐ نے رکوع کیا اور دیر تک رکوع میں رہے۔ پھر آپؐ کھڑے ہوئے اور دیر تک کھڑے رہے۔ پھر آپؐ نے رکوع کیا اور دیر تک رکوع میں رہے۔ پھر آپؐ نے سر اٹھایا۔ اس کے بعد سجدہ کیا اور دیر تک سجدہ میں رہے۔ پھر آپؐ نے سر اٹھایا۔ اس کے بعد سجدہ کیا اور دیر تک سجدہ میں رہے۔ پھر آپؐ کھڑے ہوئے اور دیر تک کھڑے رہے۔ پھر رکوع کیا اور دیر تک رکوع میں رہے۔ پھر سر اٹھایا اور دیر تک کھڑے رہے۔ پھر رکوع کیا اور دیر تک رکوع میں رہے۔ پھر سر اٹھایا پھر سجدہ کیا اور دیر تک سجدہ میں رہے۔ پھر سر اٹھایا۔ پھر سجدہ کیا اور دیر تک سجدہ میں رہے۔ پھر (نماز سے) فارغ ہوئے اور فرمایا: جنت میرے اتنی قریب ہوگئی تھی کہ اگر میں جرأت کرتا تو اس کے خوشوں میں سے ایک خوشہ تمہیں لا دیتا اور آگ بھی میرے اتنے قریب کی گئی کہ میں پکار اٹھا کہ اے میرے رب! کیا میں بھی ان کے ساتھ ہی ہوں۔ اتنے میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک عورت ہے۔ (نافع کہتے تھے:) میرا خیال ہے کہ آپؐ نے فرمایا: اس کو بلی نوچ رہی تھی۔ میں نے پوچھا: اس عورت کی یہ حالت کیوں ہے؟ انہوں نے کہا: اس نے اس کو روکے رکھا تھا۔ یہاں تک وہ بھوکی مر گئی۔ نہ اسے کھلاتی نہ اسے چھوڑتی کہ وہ کھائے۔ نافع کہتے تھے: میرا خیال ہے۔ (ابن ابی ملیکہ نے) کہا: زمین کے کیڑے مکوڑے خَشِیْشِ (الْاَرْضِ) فرمایا یا خَشَاشِ الْاَرْضِ۔
(تشریح)موسیٰ نے ہم سے بیان کیا، کہا: عبدالواحد نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: اعمش نے ہمیں بتایا۔ اعمش نے عمارہ بن عمیر سے، عمارہ نے ابومعمر سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے حضرت خبابؓ سے دریافت کیا: کیا رسول اللہ ﷺ ظہر اور عصر میں قرآن مجید پڑھا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ ہم نے کہا: تم کس طرح یہ معلوم کرتے تھے؟ کہا: آپؐ کی ریش (مبارک) کے ہلنے سے۔
حجاج نے ہم سے بیان کیا ،( کہا :) شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: ابو اسحق نے ہمیں بتایا۔ کہتے تھے: میں نے عبداللہ بن یزید کو خطبہ پڑھتے سنا۔ انہوں نے کہا کہ حضرت براءؓ نے ہم سے بیان کیا اور وہ غلط نہ کہتے تھے کہ وہ جب نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے اور آپؐ رکوع سے سر اٹھاتے تو وہ کھڑے رہتے۔ یہاں تک کہ دیکھ لیتے کہ آپؐ سجدہ میں گئے ہیں۔
اسماعیل نے ہم سے بیان کیا ، کہا : مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے زید بن اسلم سے، زید نے عطاء بن یسار سے، عطاء نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں سورج گرہن ہوا اور آپؐ نے نماز پڑھائی۔ صحابہ نے کہا: یا رسول اللہ ! ہم نے آپؐ کو دیکھا کہ آپؐ نے اپنی جگہ کھڑے کھڑے کسی چیز کو لینے کے لئے ہاتھ بڑھایا ہے۔ پھر ہم نے آپؐ کو دیکھا کہ آپؐ پیچھے ہٹے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: مجھے جنت دکھائی گئی تھی۔ اور میں اس میں سے ایک خوشہ لینے کو بڑھا تھا اور اگر وہ لے لیتا تو تم جب تک دنیا رہتی اس میں سے کھاتے رہتے۔
محمد بن سنان نے ہم سے بیان کیا ، کہا : فلیح نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: ہلال بن علی نے ہمیں بتایا کہ حضرت انسؓ بن مالک سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی۔ پھر آپؐ منبر پر کھڑے ہوئے اور آپؐ نے مسجد کے قبلہ کی جانب دونوں ہاتھوں سے اشارہ کیا اور فرمایا: میں نے ابھی جبکہ تمہیں نماز پڑھائی جنت و دوزخ دیکھیں جو اس دیوار پر متمثل تھیں۔ میں نے خیر و شر میں آج کے دن کی طرح کوئی دن نہیں دیکھا۔ تین بار آپؐ نے ایسا فرمایا۔
(تشریح)علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: یحيٰ بن سعید نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابن ابی عروبہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ قتادہ نے ہم سے بیان کیا کہ حضرت انسؓ بن مالک نے انہیں بتایا۔ وہ کہتے تھے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ان لوگوں کو کیا ہوا ہے جو نماز میں اپنی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں؟ آپؐ نے اس کے متعلق سخت ارشاد فرمایا: یہاں تک فرمایا کہ انہیں اس سے باز رہنا ہوگا۔ ورنہ ان کی بینائیاں اُچک لی جائیں گی۔
(تشریح)مسدد نے ہم سے بیان کیا ، کہا : ابوالاحوص نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ اشعث بن سُلیم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے مسروق سے، مسروق نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے نماز میں ادھر ادھر دیکھنے کے متعلق پوچھا تو آپؐ نے فرمایا: یہ شیطان کی ایک جھپٹ ہے جو بندے کی نماز پر مارتا ہے اور اس میں سے کچھ لے لیتا ہے۔
(تشریح)قتیبہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: سفیان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے ایک دھاری دار سیاہ لوئی میں نماز پڑھی۔ اس پر بیل بوٹے تھے۔ آپؐ نے فرمایا: اس کے نقش و نگار نے میری توجہ ہٹا دی۔ یہ ابوجہمؓ کے پاس لے جاؤ اور اس کی سادہ لوئی مجھے لا دو۔
(تشریح)