بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 274 hadith
معلّٰی بن اسد نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبداللہ بن طائوس سے، عبداللہ نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے: نبی ﷺ نے فرمایا: مجھے حکم ہوا ہے کہ میں سات ہڈیوں پر سجدہ کروں۔ پیشانی پر اور ہاتھ سے اشارہ کیا اپنے ناک پر اور دونوں گھٹنوں پر اور دونوں پائوں کی انگلیوں پر اور نہ ہم کپڑے سمیٹیں نہ بال۔
(تشریح)(حضرت مالکؓ بن حویرث نے) کہا: ہم نبی ﷺ
موسیٰ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمام نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحيٰ سے، یحيٰ نے ابوسلمہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں حضرت ابوسعید خدریؓ کے پاس گیا اور میں نے کہا: کیا نخلستان کی طرف نہ چلیں؟ آپس میں باتیں کریں گے۔ اس پر وہ نکلے۔ (ابوسلمہ) کہتے ہیں کہ میں نے کہا: آپؓ نے نبی ﷺ سے لیلۃ القدر کے متعلق جو سنا ہے مجھے بتائیں۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ رمضان کے پہلے دہاکے میں اعتکاف بیٹھے اور ہم بھی آپؐ کے ساتھ اعتکاف بیٹھے۔ آپؐ کے پاس جبرائیل آئے اور انہوں نے کہا: جو چیز آپؐ چاہتے ہیں وہ آگے ہے۔ پھر آپؐ درمیانی دہاکے میں اعتکاف بیٹھے اور ہم بھی آپؐ کے ساتھ اعتکاف بیٹھے۔ جبرائیلؑ آپؐ کے پاس آئے اور انہوں نے کہا: جو چیز آپؐ چاہتے ہیں وہ آگے ہے۔ چنانچہ نبی ﷺ رمضان کی بیسویں کی صبح کو کھڑے ہوئے اور ہمیں مخاطب کیا اور فرمایا: جو شخص نبی ﷺ کے ساتھ اعتکاف بیٹھا تھا وہ پھر اعتکاف میں بیٹھے۔ کیونکہ مجھے لیلۃ القدر دکھائی گئی ہے اور میں اسے بھول گیا ہوں اور وہ آخری دہا کے کی طاق راتوں میں ہے اور میں نے دیکھا جیسے میں کیچڑ اور پانی میں سجدہ کر رہا ہوں اور مسجد کی چھت کھجور کی ڈالیوں کی تھی اور ہم آسمان پر کچھ بھی نہ دیکھتے تھے۔ اتنے میں ایک پتلا سا بادل آیا اور ہم پر برسا۔ نبی ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی۔ یہاں تک کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی پیشانی اور بینی پر کیچڑ اور پانی کا نشان بھی دیکھ لیا اور آپؐ کا خواب سچا ہوا۔
محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا انہوں نے کہا کہ سفیان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابو حازم سے، ابو حازم نے سہل بن سعد سے روایت کی، کہا: لوگ نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے اور وہ اپنے تہ بندوں کے چھوٹے ہونے کی وجہ سے ان کو اپنی گردنوں پر باندھتے اور عورتوں سے کہہ دیا گیا تھا کہ تم اپنے سر اس وقت تک نہ اٹھائو جب تک مرد سیدھے ہو کر نہ بیٹھ جائیں۔
(تشریح)ابو نعمان نے ہم سے بیان کیا انہوں نے کہا کہ حماد جوا بنِ زید ہیں، نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو بن دینار سے، ابن دینار نے طائوس سے، طائوس نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے کہ نبی ﷺ کو حکم ہوا کہ سات ہڈیوں پر سجدہ کریں اور نہ اپنے کپڑے سمیٹیں اور نہ بال۔
(تشریح)موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا، کہا کہ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو سے، عمرو نے طائوس سے، طائوس نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے نبی ﷺ سے۔ آپؐ نے فرمایا: مجھے حکم ہوا ہے کہ سات (ہڈیوں) پر سجدہ کروں اور نہ بالوں کو سمیٹوں اور نہ کپڑے کو۔
(تشریح)مسدد نے ہم سے بیان کیا، کہا: یحيٰ نے ہمیں بتایا۔ سفیان سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: منصور نے مجھے بتایا۔ انہوں نے مسلم سے، مسلم نے مسروق سے، مسروق نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ وہ کہتی تھیں: نبی ﷺ رکوع اور سجدہ میں اکثر یہ کہا کرتے تھے: سُبْحٰنَکَ اللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ اللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ: پاک ذات ہے تیری اے اللہ ! جو ہمارا رب ہے اور تو اپنی خوبیوں کے ساتھ ہے۔ اے اللہ! تو میری مغفرت فرما۔ آپؐ اس دعا کو قرآن مجید سے استنباط فرماتے تھے۔
(تشریح)ابو نعمان نے ہم سے بیان کیا، کہا: حماد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب سے، ایوب نے ابو قلابہ سے روایت کی کہ حضرت مالکؓ بن حویرث نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ کیا میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کی نماز نہ بتائوں؟ (ابو قلابہ) نے کہا: اس وقت نمازِ فریضہ کا وقت نہ تھا۔ چنانچہ وہ کھڑے ہوئے اور پھر انہوں نے رکوع کیا اور پھر اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہا: پھر انہوں نے سر اُٹھایا اور کچھ دیر کھڑے رہے۔ پھر سجدہ کیا۔ پھر انہوں نے سر اُٹھایا اور تھوڑی دیر ٹھہرے۔ غرض انہوں نے ہمارے اس شیخ عمرو بن سلمہ کی نماز کی طرح نماز پڑھی۔ ایوب نے کہا عمرو بن سلمہ ایسی بات کیا کرتے تھے جو میں نے لوگوں کو کرتے نہیں دیکھا۔ وہ تیسری یا چوتھی رکعت میں بیٹھا کرتے تھے۔
محمد بن عبدالرحیم نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابواحمد محمد بن عبداللہ زبیری نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: مسعر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حکم سے، حکم نے عبدالرحمن بن ابولیلیٰ سے، عبدالرحمن نے حضرت براءؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی ﷺ کا سجدہ اور آپؐ کا رکوع اور آپؐ کا دو سجدوں کے درمیان بیٹھنا تقریباً برابر ہی ہوتا۔
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا، کہا: حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ثابت سے، ثابت نے حضرت انسؓ (بن مالک) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں تو پوری کوشش کرتا ہوں کہ تمہیں اسی طرح نماز پڑھائوں جس طرح میں نے نبی ﷺ کو ہمیں نماز پڑھاتے دیکھا تھا۔ ثابت کہتے تھے کہ حضرت انسؓ (بن مالک) ایک ایسی بات کیا کرتے تھے جو میں تمہیں کرتے نہیں دیکھتا۔ جب وہ رکوع سے سر اٹھاتے تو وہ اتنی دیر کھڑے رہتے کہ کہنے والا کہتا کہ وہ بھول گئے ہیں۔ اسی طرح دو سجدوں کے درمیان بھی اتنی دیر بیٹھتے کہ کہنے والا کہتا کہ بھول گئے ہیں۔
(تشریح)