بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 261 hadith
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے روایت کی کہ عروہ نے کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا اور ان سے کہا: بتلائیے اللہ تعالیٰ جو فرماتا ہے: صفا اور مروہ جو شعائر اللہ میں سے ہیں۔ پس جس نے بیت اللہ کا حج کیا یا عمرہ کیا اس پر کوئی گناہ نہیں کہ ان دونوں کا طواف کرے۔ اللہ کی قسم! (اس سے تو یہ معلوم ہوتا ہے) کہ کسی پر گناہ نہیں کہ وہ صفا اور مروہ کا طواف نہ کرے۔ انہوں نے کہا: میرے بھانجے! کیا ہی بُری بات تم نے کہی ہے۔ یہ آیت اگر جیسا کہ تم نے تاویل کی ہے انہی معنوں میں ہوتی تو یوں ہوتی: لَا جُنَاحَ عَلَیْہِ اَنْ لَّا یَتَطَوَّفَ بِھِمَا کہ اس پر کوئی گناہ نہیں کہ ان دونوں کا طواف نہ کرے۔ لیکن یہ آیت انصار کی نسبت اتری تھی۔ وہ اسلام قبول کرنے سے پہلے منات بت کے لئے احرام باندھتے۔ جس کی وہ مشلل کے پاس پوجا کیا کرتے تھے۔ پس جب حج یا عمرہ کا احرام باندھتے تو صفا اور مروہ میں طواف کرنا گناہ سمجھتے۔ جب انہوں نے اسلام قبول کیا تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس سے متعلق دریافت کیا، کہا: یا رسول اللہ! ہم گناہ سمجھا کرتے تھے کہ صفا اور مروہ کا طواف کریں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ وحی نازل کی: اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ … حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں: رسول اللہ ﷺ ان دونوں کے درمیان طواف کو جاری کرچکے ہیں۔ اس لئے کسی کو نہ چاہیے کہ ان کے درمیان طواف چھوڑے۔ پھر میں نے ابوبکر بن عبدالرحمن سے یہ واقعہ بیان کیا تو انہوں نے کہا: یہ تو وہ علم کی بات ہے جس کو کہ میں نے بھی نہیں سنا تھا۔ میں نے تو اہل علم میں سے کئی آدمیوں سے سنا۔ وہ ذکر کرتے تھے کہ لوگ سوا ان کے؛ جن کا ذکر حضرت عائشہؓ نے کیا ہے یعنی جو مناۃ کے لئے احرام باندھتے تھے؛ سب کے سب صفا اور مروہ کا طواف کیا کرتے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کے طواف کا ذکر کیا اور قرآن میں صفا ومروہ کا ذکر نہیں ہوا تو لوگ کہنے لگے: یا رسول اللہ! ہم صفا و مروہ کا طواف کیا کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کے طواف کا حکم نازل کیا ہے مگر صفا کا ذکر نہیں کیا تو کیا ہم پر کچھ ہوگا اگر ہم صفا و مروہ میں طواف کریں؟ تب اللہ تعالیٰ نے وحی نازل کی: اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ … ابو بکر نے کہا: پس میں سمجھتا ہوں کہ یہ آیت دونوں فریقوں کی نسبت نازل ہوئی۔ ان کے متعلق بھی جو جاہلیت میں صفا و مروہ کا طواف کرنا گناہ سمجھتے تھے اور ان لوگوں سے متعلق بھی جو طواف کرتے تھے۔ پھر اسلام میں ان کا طواف گناہ سمجھنے لگے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کے طواف کا حکم دیا اور صفا کا ذکر نہیں کیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کے طواف کا ذکر فرما کر صفا و مروہ کے طواف کا بھی ذکر کردیا۔
(تشریح)اور ہم نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے کہا: اپنی بیوی کے پاس نہ جائے جب تک کہ صفا و مروہ کا طواف نہ کرے۔
محمد بن عبید بن میمون نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) عیسیٰ بن یونس نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبیداللہ بن عمر سے، عبیداللہ نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ جب پہلا طواف کرتے تو آپؐ تین بار دوڑ کر چلتے اور چار بار حسب معمول چلتے اور جب صفا و مروہ کے درمیان چکر لگاتے تو نالہ کی نشیب میں دوڑتے۔ (عبید اللہ کہتے تھے:) میں نے نافع سے پوچھا کہ حضرت عبداللہ (بن عمرؓ) جب رکن یمانی کے پاس پہنچتے تو کیا وہ حسب معمول چلتے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ سوا اس کے کہ حجرِ اسود کے پاس ہجوم کی وجہ سے انہیں رکاوٹ ہوتی کیونکہ جب تک وہ اس کو نہ چھو لیتے اسے نہ چھوڑتے۔
علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا، کہا: سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو بن دینار سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ہم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اس شخص کی نسبت دریافت کیا جو عمرہ میں بیت اللہ کا طواف کرے اور صفا و مروہ کے درمیان طواف نہ کرے؛ کیا وہ اپنی بیوی سے مباشرت کر سکتا ہے؟ انہوں نے کہا: نبی ا (مکہ میں) آئے۔ آپؐ نے بیت اللہ کا سات بار طواف کیا اور مقامِ ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز پڑھی اور صفا و مروہ کے درمیان ساتھ پھیرے کئے اور رسول اللہ ﷺ میں تمہارے لئے عمدہ نمونہ ہے۔
مکی بن ابراہیم نے ہمیں بتایا۔ ابن جریج سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: عمرو بن دینار نے مجھے بتایا، کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا۔ کہتے تھے: نبی ﷺ مکہ میں آئے اور آپؐ نے بیت اللہ کا طواف کیا۔ پھر دو رکعت نماز پڑھی۔ پھر صفا اور مروہ کے درمیان دوڑے۔ پھر (حضرت عبداللہؓ نے) یہ آیت پڑھی: لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ۔
احمد بن محمد (مروزی) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔ (انہوں نے کہا:) عاصم (احول) نے ہمیں بتایا، کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپؓ صفا و مروہ کے درمیان دوڑنا برا سمجھتے تھے ؟ تو انہوں نے کہا: ہاں۔ کیونکہ یہ جاہلیت کی رسوم میں سے (ایک رسم) تھی۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: صفا و مروہ شعائر اللہ میں سے ہیں اس لئے جو بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے اس پر کوئی گناہ نہیں کہ ان دونوں کا بھی طواف کرے۔
علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو (بن دینار) سے، عمرو نے عطاء (بن ابی رباح) سے، عطاء نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ بیت اللہ اور صفا و مروہ میں جو دوڑے تھے وہ تو صرف اس لئے کہ مشرکین کو اپنی قوت دکھائیں۔ حمیدی نے اتنا اور بڑھایا، (کہا:) سفیان (بن عیینہ) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) عمرو (بن دینار) نے ہم سے بیان کیا کہ میں نے عطاء کو حضرت ابن عباسؓ سے اس طرح روایت کرتے سنا۔
(تشریح)عبداللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبدالرحمن بن قاسم سے، عبدالرحمن نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں: میں مکہ میں پہنچی اور میں حائضہ تھی۔ نہ میں نے بیت اللہ کا طواف کیا اور نہ صفا و مروہ کے درمیان سعی کی۔ کہتی تھیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس اس کا شکوہ کیا تو آپؐ نے فرمایا: جیسے حاجی کرتے ہیں تم بھی کرو مگر بیت اللہ کا طواف نہ کرنا جب تک کہ تم فارغ ہو کر غسل نہ کرلو۔
محمد بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) عبداللہ (ثقفی) نے ہم سے بیان کیا اور مجھ سے خلیفہ (بن خیاط) نے بھی کہا کہ عبدالوہاب (ثقفی) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) حبیب معلم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عطاء سے، عطاء نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی ﷺ اور آپؐ کے صحابہ نے حج کا احرام باندھا اور سوائے نبی ﷺ اور حضرت طلحہؓ کے ان میں سے کسی کے ساتھ بھی قربانی کا جانور نہ تھا اور حضرت علیؓ یمن سے (مکہ میں) پہنچے اور ان کے ساتھ قربانی کا جانور تھا اور انہوں نے کہا: میں نے اسی کا احرام باندھا ہے جس کا نبی ﷺ نے باندھا ہے۔ پھر نبی ﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا کہ حج کو عمرہ کر دیں اور طواف کریں۔ اس کے بعد بال کٹوائیں اور احرام کھول ڈالیں؛ سوائے ان کے جن کے ساتھ قربانی کا جانور ہو۔ آپؐ کے ساتھی کہنے لگے کہ ہم منیٰ کو چل پڑیں جبکہ ہم جنبی ہوں۔ یہ خبر نبی ﷺ کو پہنچی تو آپؐ نے فرمایا: اگر مجھے وہ پہلے سے معلوم ہوتا جو مجھے بعد میں معلوم ہوا ہے تو میں اپنے ساتھ قربانی کے جانور نہ لاتا اور اگر میرے ساتھ قربانی کا جانور نہ ہوتا تو میں احرام کھول ڈالتا اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا حائضہ ہوئیں تو وہ بھی حج کی ساری عبادتیں بجا لائیں سوائے اس کے کہ انہوں نے بیت اللہ کا طواف نہیں کیا۔ جب وہ حیض سے فارغ ہوئیں تو انہوں نے بیت اللہ کا طواف کیا۔ کہنے لگیں: یا رسول اللہ! آپؐ تو حج اور عمرہ کرکے چل پڑیں گے اور میں صرف حج کرکے چلوں گی۔ تو آپؐ نے حضرت عبدالرحمن بن ابی بکرؓ سے فرمایا کہ وہ ان کے ساتھ تنعیم کی طرف جائیں۔ چنانچہ حج کے بعد انہوں نے عمرہ کیا۔
مومل بن ہشام نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) اسماعیل (بن علیہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب (سختیانی) سے، ایوب نے حفصہ (بنت سیرین) سے روایت کی کہ وہ کہتی تھیں: ہم کنواریوں کو (عید کے دن) باہر نکلنے سے منع کیا کرتے تھے۔ ایک عورت آئی اور وہ بنی خلف کے محل میں اُتری تو اس نے بیان کیا کہ اس کی بہن رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے ایک آدمی کی بیوی تھی جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بارہ جنگوں میں شریک ہوچکے تھے اور میری بہن چھ جنگوں میں ان کے ساتھ تھی۔ وہ کہتی تھیں: ہم زخمیوں کا علاج معالجہ اور بیماروں کی خدمت کرتے تھے تو میری بہن نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: کیا اگر ہم میں سے کسی کے پاس جلباب نہ ہو تو کوئی ڈر تو نہیں کہ وہ (عید کے لیے) باہر نہ جائے؟ آپؐ نے فرمایا: اس کی ساتھن اس کو اپنے جلباب سے اُڑھائے اور چاہیے کہ وہ نیک کام اور مومنوں کی دعا میں شریک ہو۔ جب حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا (بصرہ) آئیں تو انہوں نے ان سے پوچھا یا کہا کہ ہم نے ان سے پوچھا۔ پھر (حفصہ نے) کہا: اور حضرت ام عطیہؓ جب رسول اللہ ﷺ کا ذکر کرتیں تو ضرور ہی یہ کہتیں: میرا باپ آپؐ پر قربان! ہم نے پوچھا کہ آپؓ نے رسول اللہ ﷺ کو ایسا ایسا فرماتے سنا تو انہوں نے کہا: ہاں۔ میرا باپ آپؐ پر قربان اور آپؐ نے فرمایا: پردے دار کنواریاں یا فرمایا: کنواریاں اور پردے والیاں اور حیض والیاں بھی باہر نکلیں اور نیک کاموں اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوں اور حیض والیاں نماز گاہ سے الگ رہیں۔ میں نے کہا: حیض والی بھی؟ تو انہوں نے کہا: تو کیا وہ عرفات میں موجود نہیں ہوتیں اور کہا: وہ فلاں جگہ نہیں جاتیں اور فلاں جگہ نہیں جاتیں۔
(تشریح)