بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 261 hadith
عبداللہ بن مسلمہ (قعنبی) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) مالکؒ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے محمد بن عبد الرحمان بن نوفل سے، انہوں نے عروہ سے، عروہ نے حضرت زینب بنت ام سلمہؓ سے، حضرت زینبؓ نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ وہ کہتی تھیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے شکایت کی کہ میں بیمار ہوں تو آپؐ نے فرمایا: سوار ہوکر لوگوں کے پیچھے پیچھے طواف کر لو۔ چنانچہ میں نے طواف کیا اور رسول اللہ ﷺ بیت اللہ کے پہلو میں نماز پڑھ رہے تھے اور آپؐ سورۃ وَالطُّوْرِ وَكِتَابٍ مَّسْطُوْرٍ تلاوت فرما رہے تھے۔
(تشریح)میری ماں نے مجھے بتایا کہ ان کی بہن (حضرت عائشہؓ) اور حضرت زبیرؓ اور فلاں فلاں لوگوں نے عمرہ کا احرام باندھا۔ جب انہوں نے حجرِ اسود کا مسح کیا تو اس وقت انہوں نے احرام کھولا۔
(تشریح)عبداللہ (بن محمد) بن ابی اسود نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) ابو ضمرہ نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) عبیداللہ (بن عمری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے (حضرت عبداللہ) بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے پانی پلانے کی غرض سے بجائے منیٰ مکہ میں رات ٹھہرنے کی اجازت چاہی۔ آپؐ نے ان کو اجازت دی۔
اسحق (بن شاہین) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) خالد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے خالد حذاء سے، خالد حذاء نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ پانی کی سبیل پر آئے اور آپؐ نے پانی مانگا۔ حضرت عباسؓ نے کہا: فضل! اپنی ماں کے پاس جاؤ اور ان سے رسول اللہ ﷺ کے لیے شربت لے آئو۔ آپؐ نے فرمایا: مجھے پانی پلائو۔ حضرت عباسؓ نے کہا: یا رسول اللہ! وہ اس میں اپنے ہاتھ ڈالتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: مجھے اسی سے پلا دو۔ چنانچہ آپؐ نے اس سے پانی پیا۔ پھر زمزم پر آئے اور لوگ پانی پلا رہے تھے اور اس میں سے پانی کھینچ رہے تھے۔ آپؐ نے فرمایا: (اپنا کام) کئے جائو۔ کیونکہ تم نیک کام میں ہو۔ پھر آپؐ نے فرمایا: اگر مجھے یہ خیال نہ ہو کہ تمہیں تکلیف ہوگی تو میں بھی اُترتا اور رسی اس پر رکھتا۔ یعنی اپنے کندھے پر اور آپؐ نے اپنے کندھے کی طرف اشارہ کیا۔
(تشریح)اور عبدان نے کہا: عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں بتایا، (کہا:) یونس نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے روایت کی کہ حضرت انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ حضرت ابوذر (غفاری) رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری چھت کھولی گئی اور اس وقت میں مکہ میں تھا۔ جبرائیل علیہ السلام اُترے۔ انہوں نے میرا سینہ شق کیا۔ پھر اس کو زمزم کے پانی سے دھویا۔ پھر سونے کا ایک طشت لائے جو حکمت اور ایمان سے بھرا ہوا تھا اور اس کو میرے سینے میں انڈیل دیا۔ پھر اس کو جوڑ دیا۔ پھر انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے ورلے آسمان کی طرف لے گئے۔ جبرائیل نے ورلے آسمان کے داروغہ سے کہا: کھولو۔ اس نے پوچھا: یہ کون؟ بولے: جبرائیل۔
محمد جو سلام کے بیٹے ہیں؛ نے ہم سے بیان کیا، (کہا: مروان بن معاویہ) فزاری نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عاصم (احول) سے، عاصم نے شعبی سے روایت کی کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے بیان کیا، کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو زمزم سے پانی پلایا اور آپؐ نے پانی پیا اور آپؐ کھڑے ہی تھے۔ عاصم نے کہا: (میں نے عکرمہ سے یہ ذکر کیا) تو عکرمہ نے قسم کھا کر کہا: اس دن آپؐ اونٹ پر تھے۔
(تشریح)عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا۔ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ (کہتی تھیں:) رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہم حجۃ الوداع میں نکلے اور ہم نے عمرہ کا احرام باندھا۔ پھر آپؐ نے فرمایا: جس کے ساتھ قربانی کا جانور ہو تو وہ حج اور عمرہ کا احرام باندھ لے۔ پھر جب تک کہ دونوں سے فارغ نہ ہو جائے احرام نہ کھولے۔ میں جب مکہ میں پہنچی تو حائضہ تھی۔ جب ہم اپنا حج ادا کر چکے تو آپؐ نے مجھے عبدالرحمنؓ کے ساتھ تنعیم کی طرف بھیجا۔ میں نے (وہاں سے) عمرہ کیا۔ آپﷺ نے فرمایا: یہ (عمرہ) تمہارے اس عمرہ کی جگہ ہے۔ جن لوگوں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا انہوں نے طواف کیا۔ اس کے بعد انہوں نے احرام کھول ڈالے اور پھر انہوں نے منیٰ سے لوٹنے کے بعد ایک اور طواف کیا اور جن لوگوں نے حج اور عمرہ اکٹھا کیا تھا تو انہوں نے صرف ایک ہی طواف کیا۔
یعقوب بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا، (کہا: اسماعیل) بن علیہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب سے، ایوب نے نافع سے روایت کی کہ (حضرت عبداللہ) ابن عمر رضی اللہ عنہما جبکہ ان کی سواری (حج کو جانے کے لیے) گھر میں تیار تھی تو ان کے بیٹے عبد اللہ بن عبد اللہ آئے اور انہوں نے کہا: مجھے ڈر ہے کہ کہیں اس سال لوگوں کے درمیان لڑائی نہ ہو جائے؛ وہ آپؓ کو بیت اللہ سے روک دیں۔ اس لئے اگر آپؓ ٹھہر جائیں (تو بہتر ہے۔) تو انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ ﷺ بھی نکلے تھے تو کفارِ قریش آپؐ کے اور بیت اللہ کے درمیان حائل ہوگئے تھے۔ (اگر میرے اور بیت اللہ کے درمیان بھی روک ہوئی) تو جیسا رسول اللہ ﷺ نے کیا تھا میں بھی ویسا ہی کروں گا۔ کیونکہ (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ) تمہارے لئے رسول اللہ ﷺ میں عمدہ نمونہ ہے۔ پھر (حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے) کہا: میں تمہیں گواہ ٹھہراتا ہوں کہ میں نے اپنے عمرہ کے ساتھ حج بھی واجب کر لیا ہے۔ ان کے بیٹے (عبداللہ) کہتے تھے: اس کے بعد وہ (مکہ) پہنچے تو انہوں نے حج اور عمرہ کا ایک ہی طواف کیا۔
قتیبہ (بن سعید) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے روایت کی۔ جس سال حجاج نے (حضرت عبداللہ) بن زبیرؓ پر حملہ کیا اس سال حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے حج کا ارادہ کیا تو ان سے کہا گیا کہ لوگوں کے درمیان لڑائی ہونے والی ہے اور ہم ڈرتے ہیں کہ وہ آپؓ کو روک دیں گے۔ انہوں نے جواب دیا: (لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ) تب میں ایسے ہی کروں گا جیسے رسول اللہ ﷺ نے کیا تھا۔ میں تمہیں گواہ ٹھہراتا ہوں کہ میں نے عمرہ کو واجب کر لیا ہے۔ پھر وہ نکلے یہاں تک کہ جب بیداء کے کھلے میدان میں پہنچے تو انہوں نے کہا: حج اور عمرہ کی بات ایک ہی ہے۔ میں تمہیں گواہ ٹھہراتا ہوں۔ میں نے اپنے عمرہ کے ساتھ حج بھی واجب کر لیا ہے اور انہوں نے قربانی کا جانور بھی (اپنے ساتھ) لیا؛ جس کو (مقامِ) قدید میں خریدا تھا اور اس سے زیادہ کوئی کام نہیں کیا۔ نہ قربانی ذبح کی اور نہ کوئی اور بات جو احرام میں منع ہے۔ نہ سر منڈوایا، نہ بال کٹوائے۔ یہاں تک کہ قربانی کا دن ہوا تو آپؓ نے ذبح کیا اور سر منڈوایا اور سمجھے کہ پہلے ہی طواف میں حج اور عمرہ (دونوں) کا ہی طواف کر چکے ہیں اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے بھی ایسا ہی کیا تھا۔
(تشریح)احمد بن عیسیٰ نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) (عبداللہ) ابن وہب نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ عمرو بن حارث نے مجھے بتایا کہ محمد بن عبدالرحمن بن نوفل قریشی سے مروی ہے کہ انہوں نے عروہ بن زبیر سے پوچھا تو انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے بھی حج کیا اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے بتایا کہ جب آپؐ (مکہ میں) آئے تو سب سے پہلی بات جس سے آپؐ نے حج شروع کیا وہ یہ تھی کہ آپؐ نے وضو کیا۔ پھر بیت اللہ کا طواف کیا۔ آپؐ کا حج عمرہ نہیں ہوا۔ پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حج کیا اور بیت اللہ کا طواف پہلا کام تھا جس سے انہوں نے حج شروع کیا اور ان کا حج عمرہ نہیں ہوا۔ ان کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا۔ ان کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی حج کیا تو میں نے ان کو دیکھا کہ پہلا کام جس سے انہوں نے حج شروع کیا وہ بیت اللہ کا طواف تھا۔ پھر ان کا حج بھی عمرہ نہ ہوا۔ پھر ان کے بعد حضرت معاویہ ؓ اور حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے بھی (حج کیا)۔ پھر میں نے (اپنے باپ) حضرت زبیر بن عوام ؓ کے ساتھ حج کیا تو پہلا کام جس سے انہوں نے حج شروع کیا بیت اللہ کا طواف تھا۔ پھر ان کا بھی حج عمرہ نہ ہوا۔ پھر میں نے مہاجرین و انصار کو بھی یہی کرتے دیکھا۔ پھر ان کا بھی حج عمرہ نہیں ہوا۔ پھر سب سے آخر جس کو میں نے یہی کرتے دیکھا؛ حضرت ابن عمر ؓ تھے۔ پھر انہوں نے بھی حج کی نیت توڑ کر اسے عمرہ نہیں کیا اور حضرت ابن عمر ؓ اِن میں موجود ہیں۔ ان سے کیوں نہیں پوچھ لیتے اور جتنے بھی لوگ گزرے ہیں ان میں سے ایک بھی نہیں جس نے ایسا کیا ہو۔ وہ جونہی اپنا قدم مکہ میں رکھتے بیت اللہ کا طواف کرتے اور اس کے بعد احرام نہیں کھولتے تھے اور میں نے اپنی ماں (حضرت اسماء ؓ) اور اپنی خالہ (حضرت عائشہ ؓ) کو بھی دیکھا کہ جب وہ مکہ میں آتیں تو پہلے کوئی کام نہ کرتیں، بیت اللہ کا طواف کرتیں۔ پھر وہ احرام نہ کھولتیں۔