بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 261 hadith
ابو نعمان نے ہم سے بیان کیا کہ حماد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب سے، انہوں نے نافع سے روایت کی، کہا: عبداللہ بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم نے اپنے باپ سے کہا کہ آپؓ یہیں ٹھہرے رہیں کیونکہ میں اس حج کو آپؓ کے لئے باامن نہیں دیکھتا۔ کہیں آپؓ بیت اللہ سے روک نہ دئیے جائیں۔ انہوں نے کہا: تو پھر میں ویسے ہی کروں گا جیسا رسول اللہ ﷺ نے کیا اور اللہ تعالیٰ فرما چکا ہے کہ تمہارے لئے رسول اللہ ﷺ میں اچھا نمونہ ہے۔ میں تم کو گواہ ٹھہراتا ہوں کہ میں نے اپنے نفس پر عمرہ واجب کر لیا ہے تو حضرت ابن عمرؓ نے عمرہ کا احرام باندھا۔ نافع نے کہا: پھر وہ (مدینہ سے) نکلے؛ یہاں تک کہ جب بیداء میں پہنچے تو حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا اور بلند آواز سے لبیک کہنے کے بعد کہا: حج اور عمرہ کی بات ایک ہی ہے۔ پھر انہوں نے قدید سے قربانی کا جانور خریدا۔ پھر مکہ میں آئے اور عمرہ و حج دونوں کا ایک ساتھ طواف کیا اور احرام نہیں کھولا جب تک کہ ان دونوں سے بیک وقت فارغ نہ ہو گئے۔
(تشریح)احمد بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ نے ہمیں خبر دی۔ معمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے، انہوں نے عروہ بن زبیر سے، عروہ نے مسور بن مخرمہ اور مروان سے روایت کی۔ دونوں نے کہا: نبی ﷺ صلح حدیبیہ کے موقع پر مدینہ سے ایک ہزار سے کچھ اوپر صحابہ کی تعداد کے ساتھ نکلے۔ یہاں تک کہ آپؐ ذوالحلیفہ میں پہنچے تو نبی ﷺ نے قربانی کے جانور کی گردن میں ہار ڈالا اور اسے نشان لگایا اور عمرہ کا احرام باندھا۔
احمد بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ نے ہمیں خبر دی۔ معمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے، انہوں نے عروہ بن زبیر سے، عروہ نے مسور بن مخرمہ اور مروان سے روایت کی۔ دونوں نے کہا: نبی ﷺ صلح حدیبیہ کے موقع پر مدینہ سے ایک ہزار سے کچھ اوپر صحابہ کی تعداد کے ساتھ نکلے۔ یہاں تک کہ آپؐ ذوالحلیفہ میں پہنچے تو نبی ﷺ نے قربانی کے جانور کی گردن میں ہار ڈالا اور اسے نشان لگایا اور عمرہ کا احرام باندھا۔
ابو نعیم (فضل بن دکین) نے ہم سے بیان کیا کہ افلح (بن حمید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قاسم (بن محمد) سے، قاسم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے نبی ﷺ کی قربانی والے اونٹوں کے لئے ہار اپنے ہاتھ سے بنائے۔ پھر آپؐ نے وہ ہار ان کے گلے میں ڈالے اور ان پر نشان لگایا اور مکہ کی طرف روانہ کر دیا۔ اس کے بعد پھر کوئی بات آپؐ کے لئے ممنوع نہ ہوئی جو آپؐ کے لیے حلال تھی۔
(تشریح)مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ نے ہمیں بتایا۔ عبیداللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: نافع نے مجھے خبر دی۔ انہوں نے حضرت ابن عمرؓ سے، حضرت ابن عمرؓ نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہم سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے عرض کی۔ یا رسول اللہ! لوگوں کا یہ کیا حال ہے کہ انہوں نے احرام کھول دئیے ہیں۔ جبکہ آپؐ نے احرام نہیں کھولا؟ آپؐ نے فرمایا: میں نے اپنے سر کے بال جما لئے تھے اور اپنے قربانی کے جانوروں کو ہار پہنا لئے تھے تو میں احرام نہیں کھولوں گا جب تک کہ میں حج سے فارغ نہ ہو جائوں۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ ابن شہاب نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے عروہ سے اور عمرہ بنت عبدالرحمن سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ ﷺ مدینہ سے قربانی کے جانور روانہ کیا کرتے تھے اور میں آپؐ کی قربانی والے جانوروں کے لئے ہار بٹا کرتی تھی۔ پھر آپؐ کسی بات سے پرہیز نہیں کیا کرتے تھے جس سے احرام والا پرہیز کیا کرتا ہے۔
عبداللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا کہ افلح بن حمید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قاسم (بن محمد) سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے نبی ﷺ کی قربانی والے جانوروں کے ہار بٹے۔ پھر آپؐ نے ان پر نشان لگایا اور انہیں ہار پہنائے یا کہا: میں نے انہیں ہار پہنائے۔ پھر آپؐ نے انہیں بیت اللہ کی طرف بھیج دیا اور خود مدینہ میں ٹھہرے اور آپؐ پر کوئی بات ممنوع نہ ہوئی جو آپؐ کے لیے حلال ہو۔
(تشریح)عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبد اللہ بن ابی بکر بن عمرو بن حزم سے، انہوں نے عمرہ بنت عبدالرحمن سے روایت کی۔ انہوں نے اُن کو بتایا کہ زیاد بن ابی سفیان نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو لکھا کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا ہے: جس نے قربانی کا جانور بھیج دیا؛ اس پر تمام وہ باتیں ممنوع ہو جاتی ہیں جو ہر حاجی کے لئے ممنوع ہیں۔ یہاں تک کہ اس کی قربانی کا جانور ذبح کیا جائے۔ عمرہ نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ ایسا نہیں ہے جیسے ابن عباسؓ نے کہا ہے۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کی قربانی والے جانوروں کے ہار اپنے ہاتھ سے بنائے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھوں سے وہ ہار پہنائے۔ پھر میرے باپ کے ساتھ وہ جانور بھیج دیے اور اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کے لئے کوئی ایسی بات ممنوع نہ ہوئی جو اللہ تعالیٰ نے آپؐ کے لئے حلال کی ہو۔ یہاں تک کہ قربانی کے جانور ذبح کئے گئے۔
(تشریح)ابو نعیم نے ہم سے بیان کیا کہ اعمش نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابراہیم (نخعی) سے، انہوں نے اسود سے، اسود نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے ایک دفعہ قربانی کے لئے بکریاں بھیجیں۔
ابو نعمان نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالواحد نے ہمیں بتایا کہ اعمش نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) ابراہیم (نخعی) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسود سے، اسود نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ انہوں نے کہا: میں نبی ﷺ کی قربانیوں کے ہار بٹا کرتی تھی اور آپؐ بکریوں کے گلے میں ہار ڈالتے اور اپنے اہل بیت میں بغیر احرام ہی رہتے۔