بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 3 of 3 hadith
۱۔ باب فِي الْحَوَالَةِ، وَهَلْ يَرْجِعُ فِي الْحَوَالَةِ
1. Al-Hawala (the transference of a debt from one person to another. It is an agreement whereby a debtor is released from a debt by another becoming responsible for it). Can Hawala be rejected by the creditors after accepting it?
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوالزناد سے، ابوالزناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دولت مند کا ٹال مٹول کرنا بہت بڑا گناہ ہے اور جس کو اپنا قرض لینے کے لئے مالدار شخص کے سپرد کیا جائے تو وہ قبول کرے۔
(تشریح)۲۔ باب إِذَا أَحَالَ عَلَى مَلِيٍّ فَلَيْسَ لَهُ رَدٌّ
2. If somebody's debt are transferred to a rich debtor
۳۔ باب إِنْ أَحَالَ دَيْنَ الْمَيِّتِ عَلَى رَجُلٍ جَازَ
3. If the debts due on a dead person are transferred to somebody, the transference is legal
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے (عبداللہ) بن ذکوان سے، ابن ذکوان نے اعرج سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: دولت مند کا قرض ادا کرنے میں دیر لگانا ظلم ہے اور اگر تم میں سے کسی ایک کو کسی مالدار پر ہنڈی دی جائے تو قبول کر لے۔
(تشریح)مکی بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ یزید بن ابی عبید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی ﷺ کے پاس ہم بیٹھے تھے کہ اِتنے میں ایک جنازہ لایا گیا اور لوگوں نے کہا: آپؐ اس کا جنازہ پڑھیں۔ آپؐ نے پوچھا: کیا اس پر کوئی قرض ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ پھر آپؐ نے پوچھا: کیا اس نے کچھ چھوڑا ہے؟ لوگوں نے کہا: نہیں۔ آپؐ نے اس کی نمازِ جنازہ پڑھی۔ پھر اس کے بعد ایک اور جنازہ لایا گیا اور لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! اس کی نمازِ جنازہ پڑھیے۔ آپؐ نے پوچھا: کیا اس پر کوئی قرض ہے؟ عرض کیا گیا: جی ہاں۔ آپؐ نے پوچھا: کیا اس نے کچھ چھوڑا ہے؟ لوگوں نے کہا: تین اشرفیاں۔ آپؐ نے اس کا جنازہ پڑھا۔ اس کے بعد پھر تیسرا جنازہ لایا گیا اور لوگوں نے عرض کیا: اس کا جنازہ پڑھیں۔ آپؐ نے پوچھا: کیا اس نے کچھ چھوڑا؟ لوگوں نے کہا: نہیں۔ آپؐ نے پوچھا: اس پر کوئی قرض ہے؟ لوگوں نے کہا: تین اشرفیاں۔ آپؐ نے فرمایا: تم ہی اپنے ساتھی کا جنازہ پڑھ لو۔ حضرت ابو قتادہؓ نے کہا: یا رسول اللہ! آپؐ اس کا جنازہ پڑھیں اور اس کے قرض کی ادائیگی میرے ذمہ ہوگی۔ تب آپؐ نے اس کا جنازہ پڑھا۔
(تشریح)