بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 5 of 35 hadith
26. "I was granted victory with As-Saba"
باب ۲۶ : قَوْلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " نُصِرْتُ بِالصَّبَا "
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا: مشرقی ہوا سے میری مدد کی گئی
مسلم (بن ابراہیم) نے ہم سے بیان کیا، کہا: شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حکم سے، حکم نے مجاہد سے، مجاہد نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے فرمایا: بادِ صبا سے میری مدد کی گئی اور بادِ دبور سے عاد ہلاک کئے گئے۔
27. Earthquakes and (other) signs (of the Day of Judgement)
باب ۲۷ : مَا قِيلَ فِي الزَّلاَزِلِ وَالآيَاتِ
جو زلزلوں اور نشانوں سے متعلق بیان کیا گیا ہے
28. "And instead for the provision He gives you, you deny"
باب ۲۸ : قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ
اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: اور تم ذریعہ معاش بناتے ہو اس بات کو کہ تم تکذیب کرتے ہو
29. Except Allah nobody nobody knows when it will rain
باب ۲۹ : لاَ يَدْرِي مَتَى يَجِيءُ الْمَطَرُ إِلاَّ اللَّهُ
کوئی نہیں جانتا کہ مینہ کب آئے گا مگر اللہ (عز وجل)
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا، کہا: شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: ابوالزناد نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے عبدالرحمن (بن ہرمز) اعرج سے، عبدالرحمن نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے فرمایا: وہ ساعت برپا نہ ہوگی مگر اس وقت کہ جب علم سمیٹ لیا جائے گا اور بھونچال بہت ہوں گے اور زمانہ جلدی جلدی گزرے گا اور فتنوں کا غلبہ ہوگا اور مار دھاڑ بہت ہوگی۔ ہرج کے معنی ہیں قتل اور جب دولت تم میں اتنی بڑھ جائے گی کہ سیلاب کی طرح بہے گی۔
محمد بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا، کہا: حسین بن حسن نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: ابن عون نے ہمیں بتایا۔ ابن عون نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمرؓ سے روایت کی۔ (نافع نے کہا:) انہوں نے (یوں) دُعا کی: اے اللہ! ہمارے (ملک) شام میں اور ہمارے یمن میں برکت دے۔ (نافع) کہتے تھے: لوگوں نے کہا اور ہمارے نجد میں بھی۔ (نافع) کہتے تھے: تو انہوں نے جواب دیا: وہاں تو زلزلے اور فساد ہوں گے۔ وہیں سے شیطان کا گروہ نکلے گا۔
اسماعیل (بن ابی اویس) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے صالح بن کیسان سے، صالح نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے، عبیداللہ نے حضرت زید بن خالد جہنیؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ میں ہمیں صبح کی نماز بارش کے بعد پڑھائی جو رات سے شروع تھی۔ جب رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو آپؐ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: کیا تم جانتے ہو تمہارے رب نے کیا فرمایا ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ (آپؐ نے فرمایا:) اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: آج صبح میرے بندوں میں سے کوئی میرا مومن ہے اور کوئی (میرا) کافر۔ سو جس نے کہا: ہم پر اللہ کے فضل اور رحم سے بارش ہوئی تو وہ میرا مومن ہے اور ستاروں کا منکر اور جس نے کہا کہ فلاں فلاں ستارے کے فلاں فلاں جگہ آنے سے ہم پر بارش ہوئی ہے تو وہ میرا منکر ہے اور ستاروں کا مومن۔
محمد بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، کہا: سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبداللہ بن دینار سے، ابن دینار نے حضرت ابن عمرؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: غیب کی چابیاں پانچ ہیں؛ صرف اللہ انہیں جانتا ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ کل کیا ہوگا اور کوئی نہیں جانتا، رحموں میں کیا ہے اور کوئی جان نہیں جانتی کہ وہ کل کیا کمائے گی اور کوئی جان نہیں جانتی کہ وہ کس ملک میں مرے گی اور کوئی نہیں جانتا مینہ کب برسے گا۔