بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 27 hadith
عمرو بن عون نے ہم سے بیان کیا، کہا: خالد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یونس سے، یونس نے حسن (بصری) سے، حسن نے حضرت ابوبکرہؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے کہ سورج گرہن ہوا۔ نبی ﷺ اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے جلدی سے اٹھے اور مسجد میں آئے۔ ہم بھی (مسجد میں) گئے اور آپؐ نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی یہاں تک کہ سورج صاف ہوگیا اور آپ ﷺ نے فرمایا: سورج اور چاند کو کسی کے مرنے سے گرہن نہیں لگتا اور جب تم ان دونوں کو (گرہن) دیکھو تو نماز پڑھو اور دعا کرو یہاں تک کہ گرہن کھل جائے۔
شہاب بن عباد نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابراہیم بن حمید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسماعیل سے، اسماعیل نے قیس سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابومسعودؓ (انصاری) سے سنا۔ وہ کہتے تھے: نبی ﷺ نے فرمایا: سورج اور چاند کو لوگوں میں سے کسی کی موت کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے نشانوں میں سے دو نشان ہیں۔ پس جب تم انہیں دیکھو تو تم اُٹھو اور نماز پڑھو۔
ہم سے اصبغ نے بیان کیا، کہا: ابن وہب نے مجھے بتایا۔ انہوں نے کہا: عمرو (بن حارث) نے مجھے بتایا۔ انہوں نے عبدالرحمن بن قاسم سے، ابن قاسم نے اپنے باپ (قاسم بن محمد) سے بیان کیا۔ انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ وہ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہوئے بتا رہے تھے کہ سورج اور چاند کو کسی کی موت کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا اور نہ کسی کی زندگی کی وجہ سے بلکہ وہ تو اللہ تعالیٰ کے نشانوں میں سے دو نشان ہیں۔ سو جب تم انہیں دیکھو تو نماز پڑھو۔
عبداللہ بن محمد نے ہم سے بیان کیا، کہا: ہاشم بن قاسم نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: شیبان ابومعاویہ (نحوی) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زیاد بن علاقہ سے، زیاد نے حضرت مغیرہ بن شعبہؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں سورج گرہن اس روز ہوا جس روز ابراہیم فوت ہوئے۔ لوگوں نے کہا: ابراہیم کی موت کی وجہ سے سورج گرہن ہوا ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سورج اور چاند کسی کی موت اور زندگی کی وجہ سے نہیں گہناتے۔ جب تم (گرہن) دیکھو تو تم نماز پڑھو اور اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرو۔
(تشریح)عبداللہ بن مسلمہ (قعنبی) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ (عروہ بن زبیر) سے، انہوں نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں سورج کو گرہن ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ آپؐ کھڑے ہوئے اور دیر تک کھڑے رہے۔ پھر آپؐ نے رکوع کیا اور دیر تک رکوع میں رہے، پھر آپؐ کھڑے ہوئے اور دیر تک کھڑے رہے۔ آپؐ کا یہ قیام پہلے قیام سے کم تھا۔ پھر آپؐ نے رکوع کیا اور دیر تک رکوع میں رہے اور یہ رکوع پہلے رکوع سے کم تھا۔ پھر آپؐ نے سجدہ کیا اور دیر تک سجدہ میں رہے۔ پھر دوسری رکعت میں بھی آپؐ نے ایسا ہی کیا جیسے پہلی (رکعت) میں کیا تھا۔ پھر آپؐ فارغ ہوئے اور سورج صاف ہوچکا تھا۔ آپؐ لوگوں سے مخاطب ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی پھر فرمایا: سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کے نشانوں میں سے دو نشان ہیں۔ کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے وہ نہیں گہناتے۔ پس جب تم گرہن دیکھو تو اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرو اور اس کی کبریائی بیان کرو اور نماز پڑھو اور صدقہ دو۔ پھر آپؐ نے فرمایا: اے محمد کی امت! بخدا اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی غیور نہیں کہ اس کا بندہ یا اس کی باندی زنا کرے۔ اے محمدؐ کی امت! { اللہ کی قسم } اگر تمہیں معلوم ہو جو مجھے معلوم ہے تو تم لوگ یقینا ہنستے کم اور روتے بہت۔
(تشریح)اسحق نے ہم سے بیان کیا، کہا: یحيٰ بن صالح نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: معاویہ بن سلام بن ابی سلام حبشی دمشقی نے ہم سے بیان کیا، کہا: یحيٰ بن ابی کثیر نے ہمیں بتایا، کہا: ابوسلمہ بن عبدالرحمن بن عوف زہری نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما (ابن عاص) سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ انہوں نے کہا: جب رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں سورج گرہن ہوا تو لوگوں کو یوں آواز دی گئی: اِنَّ الصَّلٰوۃَ جَامِعَۃٌ یعنی نماز باجماعت ہوگی۔
(تشریح)یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا ، کہا : لیث نے مجھے بتایا۔ انہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی۔ نیز احمد بن صالح نے مجھے بتایا ، کہا : عنبسہ (بن خالد) نے بھی ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: یونس (بن یزید) نے ہمیں بتایا۔ ابن شہاب سے مروی ہے کہ (انہوں نے کہا:) عروہ نے حضرت عائشہؓ نبی ﷺ کی زوجہ سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا۔ وہ کہتی تھیں کہ نبی ﷺ کی زندگی میں سورج گرہن ہوا۔ آپؐ مسجد میں گئے۔ لوگ آپؐ کے پیچھے صف بستہ کھڑے ہوگئے۔ آپؐ نے اللہ اکبر کہا اور بہت لمبی قرأت کی۔ پھر تکبیر کہی اور بڑا لمبا رکوع کیا۔ پھر آپؐ نے سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ کہا اور کھڑے ہوگئے اور سجدہ نہیں کیا اور لمبی قرأت کی جو کہ پہلی قرأت سے کم تھی۔ پھر آپؐ نے اللہ اکبر کہا اور لمبا رکوع کیا جو پہلے رکوع سے کم تھا۔ پھر آپؐ نے سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ کہا۔ پھر سجدہ کیا۔ پھر دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کیا۔ اس طرح آپؐ نے (دو رکعتوں میں) چار رکوع اور چار سجدے کئے اور سورج نماز سے فارغ ہونے سے پہلے پہلے ظاہر ہوگیا تھا۔ پھر آپؐ کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی جس تعریف کے وہ لائق ہے، تعریف کی اور فرمایا: چاند اور سورج اللہ تعالیٰ کے نشانوں میں سے دو نشان ہیں۔ کسی کی موت کی وجہ سے انہیں گرہن نہیں لگتا اور نہ کسی کی زندگی کی وجہ سے، سو جب سورج اور چاند کو تم گرہن لگا ہوا دیکھو تو نماز کے لئے مضطرب ہوکر لپکو اور کثیر بن عباس بیان کرتے تھے کہ (ان کے بھائی) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سورج گرہن کی حدیث اسی طرح بیان کرتے تھے۔ جیسے عروہ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا۔ (زہری کہتے تھے:) میں نے عروہ سے کہا: آپ کے بھائی نے جس دن مدینہ میں سورج گرہن ہوا دو رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھیں جیسے صبح کی نماز ہوتی ہے۔ انہوں نے جواب دیا : ہاں۔ اس لیے کہ وہ سنت سے چوک گئے۔
(تشریح)سعید بن عُفیر نے ہم سے بیان کیا، کہا: لیث نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) عقیل نے مجھے بتایا۔ ابن شہاب سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: عروہ بن زبیر نے مجھے بتایا کہ حضرت عائشہؓ نبی ﷺ کی زوجہ نے ان کو بتایا۔ رسول اللہ ﷺ نے جب سورج کو کسوف ہوا، نماز پڑھائی۔ آپؐ کھڑے ہوئے۔ اللہ اکبر کہا اور پھر بہت لمبی قرأت کی۔ پھر آپؐ نے بہت لمبا رکوع کیا پھر آپؐ نے سر اُٹھایا اور سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ کہا۔ پھر جیسے تھے اسی طرح کھڑے رہے پھر لمبی قرأت کی اور وہ پہلی قرأت سے کم تھی پھر ایک لمبا رکوع کیا، جو پہلے رکوع سے کم تھا۔ پھر آپؐ نے لمبا سجدہ کیا۔ پھر دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کیا۔ پھر آپؐ نے سلام پھیرا اور سورج ظاہر ہو چکا تھا۔ پھر آپؐ لوگوں سے مخاطب ہوئے اور سورج اور چاند کے کسوف کی بابت فرمایا کہ وہ دونوں اللہ تعالیٰ کے نشانوں میں سے دو نشان ہیں۔ کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے انہیں گرہن نہیں ہوتا۔ جب تم انہیں دیکھو تو نماز کے لئے مضطرب ہو کر لپکو۔
(تشریح)قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا، کہا: حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یونس سے، یونس نے حسن (بصری) سے، انہوں نے حضرت ابوبکرہؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کے نشانوں میں سے دو نشان ہیں۔ یہ کسی کی موت کی وجہ سے نہیں گہنایا کرتے۔ ہاں اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ سے اپنے بندوں کو خوف دلاتا ہے۔ اور ابو عبد اللہ (امام بخاریؒ) نے کہا: عبد الوارث، شعبہ، خالد بن عبد اللہ اور حماد بن سلمہ نے یونس سے، یہ یُخَوِّفُ بِھِمَا عِبَادَہٗ کا فقرہ بیان نہیں کیا۔ اور یونس کے ساتھ اس حدیث کو اشعث بن عبد الملک نے بھی حسن (بصری) سے روایت کیا۔ اور یونس کی طرح اس حدیث کو موسیٰ نے مبارک سے اور مبارک نے حسن بصری سے روایت کرتے ہوئے بتایا۔ انہوں نے کہا: حضرت ابوبکرہؓ نے مجھے بتایا۔ نبی ﷺ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان دونوں کو گہنا کر اپنے بندوں کو خوف دلاتا ہے۔
(تشریح)عبداللہ بن مسلمہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے یحيٰ بن سعید سے، یحيٰ نے عمرہ بنت عبدالرحمن سے، انہوں نے حضرت عائشہؓ نبی ﷺ کی زوجہ سے روایت کی کہ ایک یہودی عورت (حضرت عائشہؓ) سے کچھ مانگنے آئی۔ اس نے اُن کو یہ دعا دی کہ اللہ تعالیٰ آپ کو عذابِ قبر سے پناہ میں رکھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: کیا لوگوں کو اُن کی قبروں میں عذاب دیا جائے گا؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: خدا کی پناہ اس سے۔