بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 77 hadith
علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا کہ زہری نے ہم سے بیان کیا۔ زُہری نے کہا: عباد بن تمیم نے اپنے چچا (عبداللہ بن زید انصاری) سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو مسجد میں دیکھا کہ آپؐ اپنا ایک پاؤں دوسرے پر رکھے ہوئے چت لیٹے ہیں۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ نیز اسماعیل (بن ابی اویس) نے بھی ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت عبداللہ (بن عمر) رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تین آدمی ہوں تو دو تیسرے کو چھوڑ کر آپس میں سرگوشیاں نہ کریں۔
(تشریح)عبداللہ بن صباح نے ہم سے بیان کیا کہ معتمر بن سلیمان نے ہمیں بتایا، کہا: میں نے اپنے باپ سے سنا۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس بن مالکؓ سے سنا۔ (وہ کہتے تھے) کہ نبی ﷺ نے مجھے ایک راز کی بات بتائی تو میں نے آپؐ کے بعد وہ کسی کو بھی نہیں بتائی۔ اور حضرت اُم سُلیمؓ نے بھی مجھ سے پوچھا تو میں نے اُن کو بھی وہ بات نہیں بتائی۔
عثمان (بن ابی شیبہ) نے مجھ سے بیان کیا کہ جریر (بن عبدالحمید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور (بن معتمر) سے، منصور نے ابووائل سے، ابووائل نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے فرمایا کہ جب تم تین آدمی ہو تو دو آدمی تیسرے کو چھوڑ کر اُس وقت تک آپس میں سرگوشی نہ کریں کہ تم میں اَور لوگ شامل ہو جائیں۔ اس لئے کہ کہیں یہ بات اس کو رنجیدہ نہ کردے۔
عبدان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابو حمزہ (محمد بن میمون) سے، ابو حمزہ نے اعمش سے، اعمش نے شقیق سے، شقیق نے حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے ایک دن مال تقسیم کیا تو انصار میں سے ایک شخص نے کہا: یہ تو ایسی تقسیم ہے کہ اس سے اللہ کی رضا مندی نہیں چاہی گئی۔ میں نے کہا: دیکھو! اللہ کی قسم میں نبی ﷺ کے پاس ضرور جاؤں گا۔ چنانچہ میں آپؐ کے پاس آیا اور آپؐ اس وقت بھری مجلس میں تھے۔ میں نے چپکے سے (آپؐ کے کان میں) وہ بات کہی تو آپؐ (سن کر) اس قدر غصے میں آئے کہ آپؐ کا چہرہ سرخ ہوگیا۔ پھر آپؐ نے فرمایا: موسیٰؑ پر اللہ کی رحمت ہو۔ اُنہیں اس سے زیادہ دکھ دیا گیا اور انہوں نے صبر کیا۔
محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن جعفر نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے عبدالعزیز (بن صہیب) سے، عبدالعزیز نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نماز کے لئے تکبیر ہو گئی اور ایک شخص رسول اللہ ﷺ سے سرگوشی کر رہا تھا۔ اور وہ آپؐ سے اتنی دیر تک سرگوشی کرتا رہا کہ آپؐ کے صحابہ سو گئے۔ پھر اس کے بعد آپؐ کھڑے ہوئے اور نماز پڑھائی۔
ابو نعیم نے ہم سے بیان کیا کہ ابن عیینہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے سالم سے، سالم نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے نبی ﷺ سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: جب تم سونے لگتے ہو تو اپنے گھروں میں آگ نہ رہنے دیا کرو۔
محمد بن علاء نے ہم سے بیان کیا کہ ابو اسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے بُرید بن عبداللہ سے، بُرید نے ابو بُردہ سے، ابو بردہ نے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: مدینہ میں رات کو ایک گھر جل گیا جس میں گھر والے تھے تو نبی ﷺ کو اُن کے متعلق بتایا گیا۔ آپؐ نے فرمایا: یہ آگ تمہاری دشمن ہے۔ اس لئے جب تم سونے لگو تو اس کو بجھا کر بے فکر ہو جایا کرو۔
قتیبہ (بن سعید) نے ہم سے بیان کیا کہ حماد (بن زید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کثیر سے جو ابن شنظیر ہیں، کثیر نے عطاء (بن ابی رباح) سے، عطاء نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: برتنوں کو ڈھانپ دیا کرو اور دروازوں کو بند کر لیا کرو اور چراغوں کو بجھا دو کیونکہ چوہا کبھی کبھی بتی گھسیٹ کر لے جاتا ہے اور گھر والوں کو جلا دیتا ہے۔
حسان بن ابی عباد نے ہم سے بیان کیا کہ ہمام (بن یحيٰ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عطاء (بن ابی رباح) سے، عطاء نے حضرت جابر (بن عبداللہ انصاریؓ) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم سونے لگو تو رات کو چراغ بجھا دیا کرو اور دروازوں کو بند کر لیا کرو اور مشکوں کے منہ باندھو اور کھانے اور پینے کی چیزوں کو ڈھانپو۔ ہمام نے کہا: اور میں سمجھتا ہوں (کہ عطاء نے یہ بھی) کہا: گو ایک لکڑی سے ہی جو وہ اُس پر آڑی رکھ دے۔