بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 309 hadith
عبداللہ بن مسلمہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے یحيٰ بن سعید سے، یحيٰ نے عمرہ بنت عبدالرحمن سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا۔ وہ کہتی تھیں: ابھی ذوالقعدہ کی پانچ راتیں باقی تھیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے اور ہم حج ہی سمجھ رہے تھے۔ جب ہم مکہ کے قریب پہنچے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جن کے ساتھ قربانیاں نہ ہوں تو وہ جب بیت اللہ کا طواف کر لیں اور صفا اور مروہ کے درمیان سعی کر چکیں تو احرام کھول ڈالیں۔ حضرت عائشہؓ کہتی تھیں: قربانی کے دن ہمارے پاس گائے کا گوشت لایا گیا۔ میں نے پوچھا: یہ کیسا ہے؟ تو جواب دیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی ازواج کی طرف سے قربانی کی ہے۔ یحيٰ نے کہا: میں نے قاسم بن محمد سے یہ بات بیان کی تو انہوں نے کہا: بخدا! حضرت عائشہؓ نے یہ بات جیسی تھی ہو بہو ویسی تم سے بیان کی ہے۔
(تشریح)علی بن عبد اللہ (مدینی) نے ہمیں بتایا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: زُہری نے مجھے بتایا۔ انہوں نے عبیداللہ سے، عبیداللہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ رمضان میں نکلے اور آپؐ کا روزہ بھی تھا۔ جب کدید میں پہنچے تو آپؐ نے افطار کیا۔ سفیان نے کہا کہ زُہری نے کہا ہے کہ عبیداللہ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی اور پھر انہوں نے یہی حدیث بیان کی۔ { ابو عبد اللہ (امام بخاریؒ) نے کہا: یہ زُہری کا قول ہے: رسول اللہ ﷺ کی اسی بات پر عمل ہوتا ہے جو سب سے آخری ہو۔}
(تشریح)(عبداللہ) بن وہب نے کہا: عمرو (بن حارث) نے مجھے بتایا۔ انہوں نے بکیر سے، بکیر نے سلیمان بن یسار سے، سلیمان نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک مہم کے سَر کرنے کے لئے بھیجا اور فرمایا: اگر تم فلاں فلاں کو پائو تو انہیں آگ میں جلا دو۔ آپؐ نے یہ قریش کے دو آدمیوں کی نسبت فرمایا جن کا آپؐ نے نام لیا تھا۔ پھر ہم آپؐ کے پاس آئے کہ ہم الوداع کہتے ہوئے آپؐ سے رخصت ہوں۔ جب ہم نے نکلنا چاہا تو آپؐ نے فرمایا: میں نے تم کو حکم دیا تھا کہ فلاں فلاں کو آگ میں جلا دینا۔ آگ سے صرف اللہ سزا دیتا ہے۔ اس لئے اگر تم انہیں پا جاؤ تو ان کو قتل کر دو۔
(تشریح)مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبیداللہ (عمری) سے روایت کی۔ کہا: مجھ سے نافع نے۔ نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، حضرت ابن عمرؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی۔ (دوسری سند) اور محمد بن صباح نے بھی ہمیں بتایا کہ اسماعیل بن زکریا نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبیداللہ سے، عبیداللہ نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، حضرت ابن عمرؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: بات سننا اور اطاعت کرنا اس وقت تک ضروری ہے جب تک کہ احکامِ الٰہی کی نافرمانی کا حکم نہ دیا جائے۔ اگر احکامِ الٰہی کی نافرمانی کا حکم دیا جائے تو پھر نہ سننا چاہیے اور نہ اطاعت کرنا۔
ابو الیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں خبر دی۔ ابو زناد نے ہمیں بتایا کہ اعرج نے ان سے بیان کیا۔ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: ہم (دنیا میں) سب سے پیچھے آنے والے ہیں۔ لیکن سب سے آگے بڑھنے والے ہیں۔
اور اسی سند سے مروی ہے کہ (آپؐ نے فرمایا:) جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی اور جس نے امیر کی بات مانی اس نے میری ہی اطاعت کی۔ جس نے امیر کی نافرمانی کی تو اس نے گویا میری ہی نافرمانی کی۔ امام تو ایک ڈھال ہے۔ جس کے پیچھے ہو کر لڑا جاتا ہے اور جس کے ذریعہ بچا جاتا ہے۔ پس اگر اس نے تقوی اللہ کا حکم دیا اور انصاف کیا تو اس کو اس کا اجر ملے گا اور اگر اس نے کچھ اَور کیا تو اس کا وبال اسی پر پڑے گا۔
(تشریح)موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ جویریہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: (حضرت عبداللہ) بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے: صلح حدیبیہ کے دوسرے سال ہم دوبارہ گئے تو ہم میں سے دو آدمیوں نے بھی متفق ہو کر یہ پتہ نہ دیا کہ یہی وہ درخت ہے جس کے نیچے ہم نے بیعت رضوان کی تھی۔ یہ اللہ کی طرف سے رحمت تھی۔ ہم نے نافع سے پوچھا کہ آنحضرت ﷺ نے ان سے کس بات پر بیعت لی، کیا موت پر؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپؐ نے ان سے ثابت قدم رہنے کی بیعت لی تھی۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ وُہَیب نے ہمیں بتایا۔ عمرو بن یحيٰ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے عباد بن تمیم سے، عباد نے حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: واقعہ حرہ کے ایام میں ان کے پاس ایک آنے والا آیا۔ ان سے کہنے لگا کہ ابن حنظلہ لوگوں سے موت کی بیعت لے رہا ہے۔ تو انہوں نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی کی بھی اس امر پر بیعت نہیں کروں گا۔
مکی بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ یزید بن ابی عبید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حضرت سلمہ (بن اکوع) رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی ﷺ سے میں نے بیعت کی۔ پھر الگ ہو کر ایک سایہ دار درخت کے نیچے چلا گیا۔ جب لوگ کم ہوئے۔ آپؐ نے فرمایا: اکوع کے بیٹے! کیا تم بیعت نہیں کرتے؟ کہتے تھے: میں نے کہا: یا رسول اللہ! میں بیعت کر چکا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا: پھر دوبارہ سہی۔ چنانچہ میں نے آپؐ سے دوسری دفعہ بیعت کی۔ (یزید کہتے تھے:) میں نے کہا: ابو مسلم! آپؓ ان دِنوں کس بات پر بیعت کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: موت پر۔
حفص بن عمر نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ حمید سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا۔ کہتے تھے: انصار خندق کے دن یہ شعر پڑھتے تھے: ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے محمد ﷺ سے یہ بیعت کی کہ ہم جب تک زندہ رہیں گے جہاد کرتے رہیں گے یہ سن کر نبی ﷺ نے ان کو یہ جواب دیا: اے اللہ! اصل زندگی تو آخرت ہی کی زندگی ہے۔ اس لئے انصار اور مہاجرین پر کرم فرما اور ان کو (دین و دنیا میں) عزت دے۔