بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 9 of 309 hadith
عبداللہ بن ابی الاسود نے ہم سے بیان کیا کہ یزید بن زُرَیع اور حُمَید بن اسود نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حبیب بن شہید سے، حبیب نے ابن ابی مُلَیکہ سے روایت کی کہ حضرت ابن زبیرؓ نے حضرت ابن جعفر رضی اللہ عنہم سے کہا: کیا تمہیں یاد ہے کہ میں نے اور تم نے اور ابن عباسؓ نے آگے جاکر رسول اللہ ﷺ کا استقبال کیا تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں اور آنحضرت ﷺ نے ہمیں سوار کر لیا تھا اور تمہیں چھوڑ دیا تھا۔
مالک بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ ابن عیینہ نے ہمیں بتایا۔ زُہری سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے تھے: ہم بچوں کے ساتھ ثنیۃ الوداع تک گئے تھے کہ رسول اللہ ﷺ سے آگے جا کر ملیں۔
(تشریح)موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ ہمیں جویریہ نے بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت عبداللہ (بن عمر) رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی ﷺ جب سفر سے لوٹتے تو تین بار اللہ اکبر کہتے اور فرماتے: اگر اللہ نے چاہا تو ہم واپس لوٹنے والے ہیں۔ اپنے ربّ کے حضور توبہ کرنے والے، اپنے ربّ کی عبادت کرنے والے اور اپنے ربّ کی ستائش کرنے والے اور اپنے ربّ کو سجدہ کرنے والے ہیں۔ اللہ نے اپنا وعدہ پورا کیا اور اپنے بندہ کی مدد فرمائی اور سارے دشمنوں کو تنہا شکست دے کر بھگا دیا۔
ابو معمر نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوارث نے ہمیں بتایا، کہا: یحيٰ بن ابی اسحٰق نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ تھے۔ جب آپؐ عسفان سے لوٹے اور رسول اللہ ﷺ اس وقت اپنی اونٹنی پر سوار تھے اور آپؐ نے حضرت صفیہؓ بنت حییّ کو پیچھے بٹھایا ہوا تھا۔ آپؐ کی اونٹنی نے ٹھوکر کھائی اور دونوں گر پڑے۔ حضرت ابوطلحہؓ یہ دیکھ کر فوراً اونٹ سے کودے اور بولے: یا رسول اللہ! میں آپؐ پر قربان۔ آپؐ نے فرمایا: اس عورت کی خبر لو۔ حضرت ابوطلحہؓ نے اپنے منہ پر کپڑا ڈال لیا اور حضرت صفیہؓ کے پاس آئے اور وہ کپڑا اُن پر ڈالا اور ان دونوں کی سواری درست کی جس پر وہ سوار ہوگئے اور ہم نے رسول اللہ ﷺ کے گرد حلقہ بنا لیا۔ جب ہم مدینہ کی بلندی پر پہنچے تو آپؐ نے فرمایا: ہم لوٹ کر آنے والے ہیں، ہم اپنے ربّ کے حضور توبہ کرنے والے ہیں۔ اپنے ربّ کی عبادت کرنے والے اور اپنے ربّ کی ستائش کرنے والے ہیں۔ آپؐ اس وقت تک کہ مدینہ میں داخل ہوئے یہی کلمات فرماتے رہے۔
علی (بن مدینی) نے ہم سے بیان کیا کہ بشر بن مفضل نے ہمیں بتایا۔ یحيٰ بن ابی اسحق نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ وہ اور حضرت ابوطلحہؓ نبی ﷺ کی معیت میں چلے آرہے تھے اور نبی ﷺ کے ساتھ حضرت صفیہؓ تھیں۔ جنہیں آپؐ نے اپنے پیچھے اونٹنی پر بٹھایا ہوا تھا۔ جب وہ راستے میں ایک جگہ پر پہنچے تو اونٹنی نے ٹھوکر کھائی اور نبی ﷺ اور حضرت صفیہؓ گر پڑے اور حضرت ابوطلحہؓ نے (میرا خیال ہے) یوں کیا: وہ اپنے اونٹ سے فوراً کود پڑے اور رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: نبی اللہ! میں آپؐ پر قربان۔ کیا آپؐ کو چوٹ تو نہیں آئی؟ آپؐ نے فرمایا: نہیں مگر تم اس عورت کی خبر لو۔ حضرت ابوطلحہؓ نے اپنا کپڑا اپنے منہ پر ڈالا اور حضرت صفیہؓ کی طرف گئے اور آکر اپنا کپڑا اُن پر ڈال دیا اور وہ اُٹھ کھڑی ہوئیں۔ پھر حضرت ابوطلحہؓ نے ان کی اونٹنی ان کے لئے مضبوط کس دی اور وہ دونوں سوار ہوگئے اور چل دئیے۔ جب مدینہ کی اونچی سطح پر پہنچے یا کہا کہ جب بلندی پر پہنچ کر مدینہ نظر آیا تو نبی ﷺ نے فرمایا: ہم لوٹ کر آنے والے ہیں۔ اپنے رب کے حضور اپنے گناہوں سے توبہ کرنے والے ہیں، اپنے ربّ کی عبادت کرنے والے، اپنے ربّ کی ستائش کرنے والے ہیں۔ اس وقت تک کہ آپؐ مدینہ میں داخل ہوئے آپؐ یہی کلمات فرماتے رہے۔
(تشریح)سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے محارب بن دثار سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں ایک سفر میں نبی ﷺ کے ساتھ تھا۔ جب ہم مدینہ میں پہنچے تو آپؐ نے مجھ سے فرمایا: {مسجد میں} جاؤ اور دو رکعت نماز پڑھو۔
ابو عاصم نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے ابن جریج سے، ابن جریج نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عبدالرحمن بن عبداللہ بن کعب سے، عبدالرحمن نے اپنے باپ اور چچا عبیداللہ بن کعب سے، انہوں نے حضرت کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی ﷺ کی عادت تھی کہ جب آپؐ چاشت کے وقت کسی سفر سے لوٹ کر آتے تو مسجد میں جاتے اور پیشتر اس کے کہ آپؐ بیٹھتے، دو رکعت نماز پڑھتے۔
(تشریح)محمد (بن سلام) نے ہم سے بیان کیا کہ وکیع نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے شعبہ سے، شعبہ نے محارب بن دِثار سے، محارب نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ جب مدینہ پہنچے تو آپؐ نے اونٹ ذبح کیا، یا (کہا:) گائے ذبح کی۔ معاذ نے شعبہ سے روایت کرتے ہوئے اتنا بڑھایا کہ شعبہ نے محارب سے روایت کی۔ محارب نے حضرت جابر بن عبداللہؓ سے سنا کہ نبی ﷺ نے مجھ سے ایک اونٹ دو اوقیہ اور ایک یا دو درہم پر خریدا۔ جب آپؐ صرار جگہ میں پہنچے تو ایک گائے ذبح کرنے کے لئے فرمایا جو ذبح کی گئی اور لوگوں نے اس کا گوشت کھایا۔ جب مدینہ آئے تو آپؐ نے مجھ سے فرمایا کہ میں مسجد میں جاکر دو رکعت نماز پڑھوں اور آپؐ نے مجھے اونٹ کی قیمت تول کر دی۔
ابوالولید نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے محارب بن دثار سے، محارب نے حضرت جابر سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں ایک سفر سے آیا تو نبی ﷺ نے فرمایا: دو رکعت نماز پڑھو۔ صرار ایک مقام ہے جو مدینہ کے قریب ایک جانب میں ہے۔
(تشریح)