بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 309 hadith
عبداللہ بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو (بن دینار) سے، عمرو نے حضرت جابر (بن عبداللہ انصاریؓ) سے، حضرت جابرؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: کعب بن اشرف سے کون نپٹے گا؟ محمد بن مسلمہؓ نے کہا: آپؐ چاہتے ہیں کہ میں اس کو مار ڈالوں؟ آپؐ نے فرمایا: ہاں۔ انہوں نے کہا: تو کیا پھر مجھے اجازت ہے کہ میں کوئی بات بنائوں؟ آپؐ نے فرمایا: میری طرف سے اجازت ہے۔
اور میں نے آپؐ سے شکایت کی کہ میں گھوڑے پر جم کر نہیں بیٹھ سکتا۔ آپؐ نے میرے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا: اے اللہ! اسے گھوڑے پر جم کر بیٹھنے کی توفیق دے اور اس کو راہِ راست کا رہبر بنا اور راہِ راست دِکھا۔
(تشریح)لیث نے کہا عُقَیل نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے سالم بن عبداللہ سے، سالم نے حضر ت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ اُبی بن کعب کو ساتھ لے کر ابن صیاد کی طرف روانہ ہوئے۔ آپؐ کو بتایا گیا کہ وہ نخلستان میں ہے۔ جب رسول اللہ ﷺ نخلستان میں اس کے پاس پہنچے تو آپؐ کھجوروں کی آڑ لیتے ہوئے احتیاط سے چلنے لگے اور ابن صیاد اپنی ایک چادر اوڑھے ہوئے تھا۔ اس میں سے روں روں کی آواز آرہی تھی۔ {ابن } صیاد کی ماں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھ لیا اور بولی: ارے صاف! یہ محمد آگئے ہیں۔ یہ سن کر ابن صیاد جلدی سے اُٹھ کھڑا ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر وہ اسے رہنے دیتی تو اس کا حال کھل جاتا۔
(تشریح)مسدد نے ہمیں بتایا کہ ابوالاحوص نے ہم سے بیان کیا کہ ابواسحق نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حضرت براء (بن عازب) رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو جنگ خندق میں دیکھا۔ آپؐ مٹی ڈھو رہے تھے۔ حالت یہ تھی کہ مٹی نے آپؐ کے سینے کے بالوں کو چھپا رکھا تھا اور آپؐ کے جسم پر بال بہت تھے اور آپؐ عبداللہ (بن رواحہؓ) کے یہ رجزیہ اشعار پڑھتے جاتے تھے: اے اللہ! اگر تو ہدایت نہ دیتا تو ہم کبھی ہدایت نہ پاتے۔ اور نہ ہم صدقہ دیتے اور نہ نماز پڑھتے۔ سو ہم پر سکینت نازل فرما۔ اور ہمارے قدموں کو مضبوط رکھ، اگر ہماری مٹھ بھیڑ ہو۔ ان دشمنوں نے ہی ہم پر ظلم کئے ہیں جب بھی انہوں نے کوئی فتنہ اُٹھانا چاہا ہم انکار کرتے رہے۔ آپؐ ان شعروں کو پڑھتے وقت اپنی آواز بلند فرماتے۔
(تشریح)محمد بن عبداللہ بن نُمَیر نے ہم سے بیان کیا کہ (عبداللہ) بن ادریس نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسماعیل (بن ابی خالد) سے، اسماعیل نے قیس (بن ابی حازم) سے، قیس نے حضرت جریر (بن عبداللہ) رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: جب سے میں مسلمان ہوا ہوں نبی ﷺ نے مجھ سے (گھر میں) پردہ نہیں کرایا اور جب کبھی آپؐ نے مجھے دیکھا تو ضرور مسکرائے۔
علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ ابو حازم نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: لوگوں نے حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: رسول اللہ ﷺ کے زخم کا علاج کس چیز سے کیا گیا تھا؟ حضرت سہلؓ نے کہا: لوگوں میں سے اب کوئی باقی نہیں رہا جو اس بارہ میں مجھ سے بڑھ کر جانتا ہو۔ حضرت علیؓ اپنی ڈھال میں پانی لاتے تھے اور وہ یعنی حضرت فاطمہؓ آپؐ کے چہرے سے خون دھوتی تھیں اور ایک چٹائی لی گئی اور اس کو جلایا گیا۔ پھر اس سے رسول اللہ ﷺ کا زخم بھر دیا گیا۔
(تشریح)یحيٰ (بن جعفر) نے ہم سے بیان کیا کہ وکیع نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے شعبہ سے، شعبہ نے سعید بن ابی بردہ سے، سعید نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے ان کے دادا سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے حضرت معاذؓ اور حضرت ابوموسیٰ (اشعریؓ) کو یمن کی طرف بھیجا۔ آپؐ نے فرمایا: نرمی کرنا اور سختی نہ کرنا اور لوگوں کو خوش رکھنا، نفرت نہ دلانا، آپس میں مل جل کر کام کرنا اور اختلاف نہ کرنا۔
عمرو بن خالد نے ہم سے بیان کیا کہ زُہَیر نے ہمیں بتایا۔ ابو اسحق نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما کو بیان کرتے سنا۔ وہ کہتے تھے: نبی ﷺ نے جنگ احد کے دن پیادہ فوج پر حضرت عبداللہ بن جبیرؓ کو مقرر فرمایا اور یہ پچاس آدمی تھے اور ان سے فرمایا: اپنی اس جگہ سے نہ ہٹنا خواہ دیکھو کہ پرندے ہم پر جھپٹ رہے ہیں۔ اپنی جگہ پر رہنا، تاوقتیکہ میں تمہیں نہ بلا بھیجوں اور اگر تم ہمیں اس حالت میں بھی دیکھو کہ لوگوں کو ہم نے شکست دے دی ہے اور انہیں ہم نے روند ڈالا ہے۔ تب بھی یہاں سے نہ سِرکنا، جب تک کہ میں تمہیں نہ کہلا بھیجوں۔ چنانچہ مسلمانوں نے ان کو شکست دے کر بھگا دیا۔ حضرت براءؓ کہتے تھے: بخدا میں نے (مشرک) عورتوں کو دیکھا کہ وہ بھاگ رہی تھیں اور وہ اپنے کپڑے اُٹھائے ہوئے تھیں۔ ان کی پازیبیں اور پنڈلیاں ننگی ہو رہی تھیں۔ (حضرت عبداللہ) بن جبیرؓ کے ساتھیوں نے یہ دیکھ کر کہا: لوگو! چلو، غنیمت حاصل کریں۔ تمہارے ساتھی غالب ہوگئے۔ تم کیا انتظار کر رہے ہو؟ حضرت عبداللہ بن جبیرؓ نے کہا: کیا تم وہ بات بھول گئے ہو جو رسول اللہ ﷺ نے تم سے فرمائی تھی؟ انہوں نے کہا: بخدا ضرور ہم بھی لوگوں کے پاس پہنچیں گے اور غنیمت کا مال لیں گے۔ جب وہ وہاں پہنچے تو ان کے منہ پھیر دئیے گئے اور شکست کھا کر بھاگتے ہوئے لوٹے۔ یہی وہ واقعہ ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جبکہ رسول تمہاری سب سے پچھلی جماعت میں (کھڑا) تمہیں بلا رہا تھا۔ نبی ﷺ کے پاس بارہ آدمیوں کے سوا اور کوئی نہ رہا اور کافروں نے ہم میں سے ستر آدمی شہید کئے اور نبی ﷺ اور آپؐ کے صحابہ نے جنگ بدر میں مشرکوں کے ایک سو چالیس آدمیوں کو نقصان پہنچایا تھا۔ ستر قیدی اور ستر مقتول۔ ابوسفیان نے تین بار پکار کر کہا: کیا ان لوگوں میں محمد ہے؟ نبی ﷺ نے صحابہ کو اسے جواب دینے سے روک دیا۔ پھر اس نے تین بار پکار کر پوچھا: کیا لوگوں میں ابو قحافہ کا بیٹا ہے؟ پھر تین بار پوچھا: کیا ان لوگوں میں ابن خطاب ہے؟ پھر وہ اپنے ساتھیوں کی طرف لوٹ گیا اور کہنے لگا: یہ جو تھے وہ تو مارے گئے۔ یہ سن کر حضرت عمرؓ اپنے آپ کو قابو میں نہ رکھ سکے اور بولے: اے اللہ کے دشمن! بخدا تم نے جھوٹ کہا ہے۔ جن کا تونے نام لیا ہے وہ سب زندہ ہیں۔ جو بات ناگوار ہے اس میں سے ابھی تیرے لئے بہت کچھ باقی ہے۔ ابوسفیان بولا: یہ معرکہ بدر کے معرکے کا بدلہ ہے اور لڑائی تو ڈول کی طرح ہے۔ (کبھی اس کی فتح اور کبھی اس کی۔) تم ان لوگوں میں کچھ ایسے مردے پائو گے جن کے ناک کان کٹے ہوئے ہیں۔ میں نے اس کا حکم نہیں دیا اور میں نے اسے برا بھی نہیں سمجھا۔ پھر اس کے بعد وہ یہ رجزیہ فقرہ پڑھنے لگا: ہبل کی جَے۔ ہبل کی جے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: کیا اسے جواب نہیں دو گے؟ صحابہ نے کہا: یا رسول اللہ! ہم کیا کہیں؟ آپؐ نے فرمایا: تم کہو۔ اللہ ہی سب سے بلند اور بڑی شان والا ہے۔ پھر ابوسفیان نے کہا: عُزّٰی نامی بت ہمارا ہے اور تمہارا کوئی
قُتَیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ حماد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ثابت سے، ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ سب لوگوں سے زیادہ خوبصورت، سب لوگوں سے زیادہ سخی اور سب لوگوں سے زیادہ بہادر تھے۔ حضرت انسؓ کہتے تھے: ایک رات مدینہ والے یکایک گھبرا گئے۔ انہوں نے کوئی آواز سنی تھی۔ کہتے تھے: وہ باہر گئے تو نبی ﷺ ان کو سامنے سے آتے ہوئے ملے۔ آپؐ حضرت ابوطلحہؓ کے گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر سوار تھے اور تلوار لٹکائی ہوئی تھی۔ آپؐ نے فرمایا: ڈرو نہیں۔ ڈرو نہیں۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے اس گھوڑے کو دریا پایا ہے۔
مکی بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ یزید بن ابی عبید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حضرت سلمہ (بن اکوعؓ ) سے روایت کی کہ انہوں نے ان کو خبر دی۔ وہ کہتے تھے کہ میں مدینہ سے نکل کر غابہ کی طرف جا رہا تھا۔ جب میں غابہ کی پہاڑی کے موڑ پر پہنچا تو عبدالرحمن بن عوفؓ کا ایک غلام مجھ سے ملا۔ میں نے کہا: ارے تم یہاں کیسے، اس نے کہا: نبی ﷺ کی دو دھیل اونٹنیاں پکڑ کر لے گئے ہیں۔ میں نے کہا: کون لے گئے ہیں؟ کہنے لگا: غطفان اور فزارہ کے لوگ۔ میں نے تین دفعہ یا صباحاہ، یا صباحاہ للکارا۔ مدینہ کے دونوں پتھریلے کناروں کے درمیان جتنے لوگ تھے سبھی کو سنائی دیا۔ پھر میں سرپٹ دوڑا۔ یہاں تک کہ ان سے جا ملا اور انہوں نے اونٹوں کو پکڑا ہوا تھا۔ میں ان پر تیر پھینکنے لگا اور یہ کہتا جاتا تھا: میں اکوع کا بیٹا ہوں اور آج وہ دن ہے کہ جب کمینے لوگوں کی ہلاکت ہوگی۔ آخر میں نے ان اونٹنیوں کو ان لوگوں سے چھڑا لیا۔ پیشتر اس کے کہ وہ پانی پیتے۔ پھر میں انہیں ہانک کر واپس لے آیا۔ نبی ﷺ مجھ سے ملے۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! یہ لوگ پیاسے تھے اور پانی پینے سے پہلے ہی میں نے ان کو جا لیا۔ آپؐ ان کے پیچھے فوج بھیجیں۔ آپؐ نے فرمایا: اکوع کے بیٹے! تم غالب آگئے ہو درگزر کرو۔ ان لوگوں کی قوم مہمان نواز ہی رہی ہے۔
(تشریح)