بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 309 hadith
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حصین (بن عبدالرحمن) سے، حصین نے عمرو بن میمون سے، عمرو نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے بوقت وفات کہا: میں اس کو (جو میرے بعد خلیفہ ہو) اللہ کی اور اس کے رسول ﷺ کی ذمہ داری کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کہ ان (ذمیوں) سے ان کا وہ عہد پورا کیا جائے (جو ان سے کیا گیا ہے) اور ان کو بچانے کے لئے دشمنوں سے جنگ کی جائے اور اُن سے اتنا ہی کام لیا جائے جتنا وہ برداشت کرسکیں۔
(تشریح)قبیصہ نے ہم سے بیان کیا کہ ابن عیینہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سلیمان احول سے، سلیمان نے سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا کہ جمعرات کا دن اور جمعرات کا وہ دن کیسا تھا۔ یہ کہہ کر وہ اتنا روئے کہ ان کے آنسوؤں نے زمین کی کنکریاں تر کر دیں اور کہنے لگے: جمعرات کے دن رسول اللہ ﷺ کو آپؐ کی بیماری نے سخت نڈھال کر دیا۔ آپؐ نے فرمایا: لکھنے کا سامان میرے پاس لاؤ کہ میں تمہیں ایک ایسی تحریر لکھ دوں کہ اس کے بعد کبھی گمراہ نہ ہو گے۔ یہ سن کر صحابہ نے جھگڑا شروع کر دیا۔ حالانکہ نبی کے پاس جھگڑا زیبا نہیں تھا۔ کہنے لگے: رسول اللہ ﷺ بیماری کی شدت کی وجہ سے یہ سب کچھ کہہ رہے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: جاؤ مجھے چھوڑ دو۔ جس حال میں ہوں وہ بہتر ہے اس سے جس کی طرف تم بلاتے ہو۔ اور آپؐ نے بوقت وفات تین باتوں کی وصیت کی۔ مشرکوں کو جزیرۂ عرب سے نکال دینا اور ایلچیوں سے اسی طرح نیک سلوک کرنا جس طرح میں کرتا تھا اور تیسری بات میں بھول گیا۔ یعقوب بن محمد (زُہری) کہتے تھے: میں نے مغیرہ بن عبدالرحمن سے جزیرۂ عرب سے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: اس سے مراد مکہ، مدینہ، یمامہ اور یمن ہے۔ اور یعقوب نے یہ بھی کہا کہ تہامہ (یعنی مدینہ کا علاقہ) عرج سے شروع ہوتا ہے۔
(تشریح)یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عُقَیل سے، عُقَیل نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے سالم بن عبداللہ سے روایت کی کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: حضرت عمرؓ نے بازار میں ایک ریشمی جوڑا (چادر اور تہہ بند) بکتے دیکھا اور وہ اسے رسول اللہ ﷺ کے پاس لے آئے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ! یہ جوڑا خرید لیں اور عید کے موقعہ پر اور نمائندوں سے ملنے کے لئے زیب تن فرمایا کریں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ تو ان لوگوں کا لباس ہے جن میں کوئی بھلائی نہیں یا یہ فرمایا کہ اسے تو وہی پہنا کرتے ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ چند روز تک کہ جب تک اللہ کو منظور تھا حضرت عمرؓ خاموش رہے۔ پھر ایسا ہوا کہ خود آنحضرت ﷺ نے ایک ریشمی جُبّہ حضرت عمرؓ کو تحفۃً بھیجا۔ وہ اس کو لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! آپؐ نے تو فرمایا تھا کہ یہ اس کا لباس ہے جس میں کوئی بھلائی نہیں یا اسے تو وہی پہنا کرتے ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں اور پھر آپؐ نے مجھے یہ بھیج دیا۔ آپؐ نے فرمایا: اس لئے کہ تم اسے بیچو یا اپنے کسی کام میں لائو۔
(تشریح)عبداللہ بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام (بن یوسف) نے ہمیں بتایا۔ معمر نے ہمیں خبر دی۔ ان سے زُہری نے روایت کی کہ سالم بن عبداللہ نے مجھے خبر دی۔ انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے بتایا: حضرت عمرؓ نبی ﷺ کے صحابہ میں سے ایک جماعت کے ساتھ آنحضرت ﷺ کی معیت میں ابن صیاد کی طرف گئے۔ انہوں نے بنی مغالہ کے محلوں کے پاس اسے لڑکوں کے ساتھ کھیلتے پایا اور ان دِنوں ابن صیاد بلوغت کے قریب تھا۔ اسے اسی وقت معلوم ہوا جب نبی ﷺ نے اس کی پیٹھ پر اپنا ہاتھ رکھا اور فرمایا: کیا تم اقرار کرتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ ابن صیاد نے آپ کی طرف دیکھا اور کہا: میں یہ اقرار کرتا ہوں کہ آپؐ اُمیّوں کے رسول ہیں۔ ابن صیاد نے نبی ﷺ سے پوچھا: کیا آپؐ اقرار کرتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ نبی ﷺ نے فرمایا: میں اللہ اور اس کے سب رسولوں پر ایمان لایا ہوں اور فرمایا: تم کیا دیکھتے ہو؟ ابن صیاد نے کہا: میرے پاس سچی اور جھوٹی خبریں آتی ہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: اصل حقیقت تم پر مشتبہ ہو گئی ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: میں نے تمہارے لئے ایک بات چھپائی ہے۔ ابن صیاد نے کہا: وہ دُخْ ہی ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: چل دور ہو تم اپنی بساط سے آگے نہیں بڑھ سکو گے۔ حضرت عمرؓ کہنے لگے: یا رسول اللہ! آپؐ اجازت دیں تو میں اس کی گردن اڑا دوں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: اگر یہ وہی (دجال) ہوا (جس کی خبر دی گئی ہے) تو تم اس پر قابو نہیں پا سکو گے اور اگر وہ نہ ہوا تو پھر اس کے مار ڈالنے میں تمہارے لئے کوئی بھلائی نہیں۔
دوسری روایت حضرت ابن عمرؓ سے اسی سند سے یہ ہے کہ نبی ﷺ اور حضرت اُبیّ بن کعبؓ اس نخلستان میں گئے جہاں ابن صیاد تھا۔ جب اس نخلستان میں داخل ہوئے تو نبی ﷺ کھجوروں کی آڑ میں چلنے لگے اور آپؐ (ابن صیاد کے پاس) دبے پائوں آہستہ آہستہ جا رہے تھے تا آپؐ ابن صیاد سے پیشتر اس کے کہ وہ آپؐ کو دیکھے، کچھ سن لیں اور ابن صیاد اپنے بچھونے پر ایک کمبل اوڑھے ہوئے لیٹا تھا۔ اس میں کچھ گنگناہٹ کی سی آواز تھی۔ ابن صیاد کی ماں نے نبی ﷺ کو دیکھ لیا۔ جب آپؐ کھجوروں کی آڑ لئے (دبے پائوں) آرہے تھے۔ اس نے ابن صیاد کو پکار کر کہا: ارے صاف اور یہ اس کا نام تھا۔ (محمد آئے ہیں) یہ سنتے ہی ابن صیاد اُٹھ کھڑا ہوا۔ نبی ﷺ فرماتے تھے: اگر وہ اسے رہنے دیتی تو حال کھل جاتا۔
اور سالم (بن عبداللہ) نے کہا: حضرت ابن عمرؓ کہتے تھے: پھر اس کے بعد نبی ﷺ لوگوں میں کھڑے ہوئے اور اللہ کی وہ تعریف کی جس کا وہ مستحق ہے اور دجال کا ذکر کیا اور فرمایا: میں بھی تم کو اس کے خطرہ سے آگاہ کرتا ہوں اور کوئی ایسا نبی نہیں جس نے اپنی قوم کو اس کے خطرہ سے آگاہ نہ کیا ہو۔ نوحؑ نے بھی اپنی قوم کو اس کے خطرہ سے خبردار کیا تھا۔ مگر میں تمہیں اس کے متعلق ایک ایسی بات بتاتا ہوں جو کسی نبی نے اپنی قوم کو نہیں بتائی۔ تمہیں یہ علم ہے کہ وہ یک چشم ہے اور اللہ ایسا نہیں۔
(تشریح)محمود (بن غیلان) نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالرزاق نے ہمیں بتایا۔ معمر نے زُہری سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا۔ زُہری نے علی بن حسین سے، علی نے عمرو بن عثمان بن عفان سے، عمرو نے حضرت اسامہ بن زیدؓ سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپؐ کل اپنے حج کے اثناء میں کہاں اتریں گے؟ آپؐ نے فرمایا: کیا عقیل نے ہمارے لئے کوئی ٹھکانا چھوڑا ہے؟ پھر آپؐ نے فرمایا: ہم کل خیف بنی کنانہ یعنی محصب میں اُتریں گے۔ جہاں قریش نے کفر پر رہنے کی قسمیں کھائی تھیں اور یہ واقعہ یوں ہوا تھا کہ بنی کنانہ نے قریش سے بنی ہاشم کے خلاف عہد و پیمان کیا تھا کہ نہ وہ ان سے خرید و فروخت کریں گے اور نہ انہیں اپنے گھروں میں آنے دیں گے۔ زُہری نے کہا اور خیف وادی کو کہتے ہیں۔
اسماعیل نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: مالک نے مجھے بتایا۔ مالک نے زید بن اسلم سے، زید نے اپنے باپ سے روایت کی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک غلام کو جسے ہنیا کہا کرتے تھے (سرکاری) رَکھ پر محافظ مقرر کیا اور اس سے کہا: ہنیا! مسلمانوں سے اپنا بازو سمیٹے رکھنا اور مظلوم کی بددعا سے بچنا۔ کیونکہ مظلوم کی دعا قبول ہوتی ہے اور تھوڑی سی اونٹنیوں والے اور تھوڑی سی بکریوں والے کو رَکھ میں آنے دینا اور میری ناراضگی سے بچنا اور (عبدالرحمن) بن عوفؓ اور (عثمان) بن عفانؓ کے جانوروں کو نہ چرنے دینا۔ کیونکہ (وہ دونوں امیر ہیں) اگر ان کے جانور مر بھی جائیں تو وہ نخلستانوں اور کھیتوں سے کام چلا سکتے ہیں اور تھوڑی سی اونٹنیوں والا یا تھوڑی سی بکریوں والا اگر اس کے مویشی مر گئے تو میرے پاس اپنے بچوں کو لائے گا اور کہے گا: امیر المؤمنین! (ان کو پالو) تیرا باپ نہ رہے تو کیا میں ان کو بھوکا چھوڑ دوں گا؟ دیکھنا گھاس اور پانی دینا مجھ پر سونے اور چاندی کے دینے سے زیادہ آسان ہے اور بخدا وہ تو یہی سمجھیں گے کہ میں نے ان پر ظلم کیا۔ یہ ان کی بستیاں ہیں جن کی وجہ سے وہ جاہلیت میں لڑتے رہے اور انہی کو بچانے کے لئے وہ اسلام میں داخل ہوئے اور اسی ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر یہ مویشی نہ ہوتے جن پر اللہ کی راہ میں (مجاہدین کو) سوار کرتا ہوں تو میں ان کی جائیدادوں میں سے ایک بالشت زمین بھی محفوظ نہ رکھتا۔
(تشریح)محمد بن یوسف (فریابی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابو وائل سے، ابو وائل نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے فرمایا: جن لوگوں نے اسلام کا زبان سے اقرار کیا ہے ان کے نام مجھے لکھ دو اور ہم نے ڈیڑھ ہزار مردوں کے نام لکھ کر آپؐ کو دئیے اور ہم کہنے لگے: کیا اب بھی ہمیں ڈر ہے جبکہ ہم ڈیڑھ ہزار ہیں؟ ہم نے اپنے آپ کو آزمائش کے اس زمانہ میں بھی دیکھا ہے جب ایک شخص اکیلا نماز پڑھتا اور وہ خوف زدہ ہوتا۔ عبدان نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے ابو حمزہ سے، ابو حمزہ نے اعمش سے پھر یہی حدیث روایت کی۔ اس میں یہ ذکر آتا ہے کہ ہم نے ان کو پانچ سو کی تعداد میں پایا۔ ابو معاویہ نے کہا: چھ سات سو کے درمیان تھے۔
ابو نعیم نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن جریج سے، ابن جریج نے عمرو بن دینار سے، عمرو بن دینار نے ابو معبد سے، ابو معبد نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا۔ کہنے لگا: یا رسول اللہ! فلاں فلاں مہم میں جانے کے لئے میرا نام لکھا گیا ہے اور میری بیوی حج کو جا رہی ہے۔ آپؐ نے فرمایا: واپس جاؤ اور اپنی بیوی کے ساتھ حج کرو۔
(تشریح)