بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 309 hadith
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔ عبدالملک بن عُمَیر نے ہم سے بیان کیا کہ میں نے عمرو بن میمون اودی سے سنا۔ انہوں نے کہا کہ حضرت سعد (بن ابی وقاصؓ) اپنے بیٹوں کو یہ دعائیہ کلمات سکھایا کرتے تھے جیسے استاد لڑکوں کو لکھنا سکھاتا ہے اور کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نماز کے بعد یہ کلمات پڑھ کر دعا کرتے تھے: اے میرے اللہ! میں بزدلی سے تیری پناہ لیتا ہوں اور میں تیری پناہ لیتا ہوں ایسی عمر تک پہنچنے سے جو نکمی اور بیکار ہو اور میں دنیا کے فتنہ سے تیری پناہ لیتا ہوں اور عذاب قبر سے بھی تیری پناہ لیتا ہوں۔ میں نے یہ حدیث مصعب (بن سعد) سے بیان کی تو انہوں نے اس کی تصدیق کی۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ معتمر (بن سلیمان) نے ہمیں بتایا، کہا: میں نے اپنے باپ سے سنا۔ کہتے تھے: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے: اے میرے اللہ! میں عاجز آجانے سے اور سستی اور بزدلی اور بڑھاپے کی نکمی عمر سے اور زندگی اور موت کے فتنہ سے تیری پناہ لیتا ہوں۔ نیز عذاب قبر سے تیری پناہ لیتا ہوں۔
(تشریح)قُتَیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ حاتم (بن اسماعیل) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے محمد بن یوسف سے، ابن یوسف نے سائب بن یزید سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں حضرت طلحہ بن عبید اللہ، حضرت سعد (بن ابی وقاص)، حضرت مقداد بن اسود اور حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہم کے ساتھ رہا ہوں۔ میں نے ان میں سے کسی کو بھی (جنگ کے متعلق) کوئی حدیث رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہوئے نہیں سنا صرف حضرت طلحہؓ کو اُحد کی جنگ سے متعلق (واقعات) بیان کرتے ہوئے سنا ہے۔
(تشریح)عمرو بن علی نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (بن سعید) نے ہمیں بتایا۔ سفیان (ثوری) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: منصور نے مجھے بتایا۔ انہوں نے مجاہد سے، مجاہد نے طائوس سے، طائوس نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے فتح مکہ کے دن فرمایا کہ اس فتح کے بعد ہجرت نہیں لیکن جہاد اور نیت ہے اور جب تمہیں جہاد کے لئے نکلنے کو کہا جائے تو تم نکل کھڑے ہو۔
(تشریح)عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا۔ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوزناد سے، ابوزناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ دو آدمیوں کو دیکھ کر خوش ہوگا جن میں سے ایک دوسرے کا قاتل ہوگا اور دونوں جنت میں داخل ہوں گے۔ ایک تو اس لئے کہ اللہ کی راہ میں لڑتا ہوا مارا گیا۔ اس کے بعد اللہ قاتل کی توبہ قبول کر لے اور وہ بھی جہاد کرتا ہوا مارا جائے۔
حمیدی (عبداللہ بن زبیر ابوبکر) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ زُہری نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: عنبسہ بن سعید (اموی) نے مجھے بتایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپؐ خیبر میں تھے جبکہ صحابہ اسے فتح کر چکے تھے۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے بھی حصہ دیں۔ سعید بن عاص کے ایک بیٹے نے کہا: یا رسول اللہ! اسے حصہ نہ دیں۔ حضرت ابوہریرہؓ نے کہا: یہ (نعمان) بن قوقل کا قاتل ہے۔ ابن سعید بن عاص نے کہا: اس جانور پر تعجب ہے ہم پر اکڑتا ہے۔ ابھی ضأن پہاڑی کی چوٹی پر سے بکریاں چراتا ہمارے پاس آ گیا ہے مجھ پر عیب لگاتا ہے کہ میں نے ایک مسلمان مرد کو قتل کر دیا تھا جس کو اللہ نے میرے ہاتھ سے عزت دی اور مجھے اس کے ہاتھوں رسوا نہیں کیا۔ سفیان کہتے تھے: میں نہیں جانتا کہ آپؐ نے ان کو حصہ دیا یا نہیں۔ سفیان نے کہا: یہ حدیث (عمرو بن یحيٰ) سعیدی نے مجھ سے روایت کی۔ انہوں نے اپنے دادا سے، ان کے دادا نے حضرت ابوہریرہؓ سے۔ ابوعبداللہ (امام بخاریؒ) نے کہا: یہ سعیدی عمرو بن یحيٰ بن سعید بن عمرو بن سعید بن عاص ہیں۔
(تشریح)آدم (بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ ثابت بنانی نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا۔ کہتے تھے: ابو طلحہؓ نبی ﷺ کے زمانہ میں جہاد کی وجہ سے (نفلی) روزہ نہیں رکھا کرتے تھے (تاکہ طاقت کم نہ ہو جائے) جب نبی ﷺ فوت ہوئے تو میں نے سوائے عید الفطر یا عید الاضحی کے دن کے کبھی ان کو بے روزہ نہیں دیکھا۔
(تشریح)عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سُمَیّ سے۔ سُمَیّ نے ابوصالح سے، ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: شہید پانچ شخص ہیں۔ طاعون سے مرنے والا، پیٹ کی بیماری سے مرنے والا، ڈوب کر مرنے والا، (مکان) گرنے سے مرنے والا اور اللہ کی راہ میں شہید ہونے والا۔
بشر بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبر دی۔ عاصم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حفصہ بنت سیرین سے، حفصہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے، حضرت انسؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: طاعون ہر مسلمان کے لئے شہادت ہے۔
(تشریح)ابوالولید نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا کہ ابواسحق سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت براء (بن عازب) رضی اللہ عنہ سے سنا۔ کہتے تھے: جب آیت لَا یَسْتَوِي الْقَاعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اُتری تو رسول اللہ ﷺ نے زید (بن ثابتؓ) کو بلایا وہ شانے کی ہڈی لے آئے اور انہوں نے یہ آیت لکھی اور (عبداللہ) بن ام مکتومؓ نے اپنی بینائی کا شکوہ کیا تو یہ آیت نازل ہوئی لَا یَسْتَوِي الْقَاعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ غَیْرُ أُوْلِی الضَّرَرِ۔ یعنی مومنوں میں سے بغیر کسی بیماری کے گھر میں بیٹھ رہنے والے برابر نہیں ہو سکتے۔۔۔۔۔۔