بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 34 hadith
علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا، کہا: میں نے عمرو (بن دینار) سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں جابر بن زید اور عمرو بن اوس کے ساتھ زمزم کی سیڑھیوں کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ ستر ہجری کا واقعہ ہے۔ جس سال کہ مصعب بن زبیر نے بصرہ والوں کے ساتھ حج کیا تو بجالہ نے ان دونوں سے بیان کیا، کہا: میں جزء بن معاویہ کا جو اَحنف کے چچا تھے کاتب تھا۔ ہمارے پاس حضرت عمر بن خطابؓ کا خط ان کے فوت ہونے سے ایک سال پہلے آیا کہ پارسیوں میں سے ہر ایک ذی محرم کو الگ کر دو اور حضرت عمرؓ نے اس وقت تک پارسیوں سے جزیہ نہیں لیا تھا۔
جب تک کہ حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ نے یہ شہادت نہ دی کہ رسول اللہ ﷺ نے ہجر کے پارسیوں سے جزیہ لیا تھا۔
حضرت نعمانؓ نے (حضرت مغیرہ بن شعبہؓ سے) کہا: تمہیں تو اللہ ایسی کئی لڑائیوں میں نبی ﷺ کے ساتھ شریک رکھ چکا ہے اور اس نے نہ تمہیں شرمندہ کیا اور نہ تمہیں رسوا کیا۔ البتہ میں بھی رسول اللہ
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا کہ زُہری سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: عروہ بن زبیر نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مِسوَر بن مخرمہؓ سے روایت ہے۔ انہوں نے ان کو خبر دی کہ حضرت عمرو بن عوف انصاریؓ نے جو بنو عامر بن لوئی کے حلیف اور بدر میں شریک تھے، ان کو بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابو عبیدہ بن جراحؓ کو بحرین کی طرف بھیجا کہ اس کا جزیہ لائیں اور رسول اللہ ﷺ نے بحرین کے باشندوں سے صلح کر لی تھی اور حضرت علاء بن حضرمیؓ کو ان کا امیر مقرر کیا تھا۔ حضرت ابو عبیدہؓ بحرین کا مالیہ لے کر آئے اور انصار نے حضرت ابو عبیدہؓ کی آمد کی خبر سنی تو انہوں نے نبی ﷺ کے ساتھ آ کر صبح کی نماز پڑھی۔ جب آپؐ فجر کی نماز ان کو پڑھا چکے تو آپؐ مڑے۔ صحابہ آپؐ کے سامنے آ بیٹھے۔ رسول اللہ ﷺ نے جب ان کو دیکھا تو آپؐ مسکرائے اور فرمایا: میں سمجھتا ہوں تم نے سن لیا ہے کہ ابو عبیدہ کچھ لے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا: ہاں یا رسول اللہ! آپؐ نے فرمایا: پھر تمہیں بشارت ہو اور اسی بات کی امید رکھو جو تمہیں خوش کرے گی۔ بخدا! تمہارے متعلق مجھے محتاجی کا اندیشہ نہیں۔ بلکہ اس بات کا اندیشہ ہے کہ کہیں دنیا تمہارے لئے اس طرح کشادہ نہ ہو جائے جس طرح ان لوگوں پر کشادہ ہوئی تھی جو تم سے پہلے تھے اور پھر تم اس میں اس طرح ایک دوسرے سے بڑھ کر حرص کرنے لگو جس طرح انہوں نے کی اور یہ حرص تمہیں بھی ویسے ہی ہلاک کر دے جیسے انہیں ہلاک کیا ہے۔ أطرافہُ: ۴۰۱۵، ۶۴۲۵۔
فضل بن یعقوب نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ بن جعفر رَقی نے ہمیں بتایا۔ معتمر بن سلیمان نے ہم سے بیان کیا کہ سعید بن عبیداللہ ثقفی نے ہمیں بتایا۔ بکر بن عبداللہ مزنی اور زیاد بن جبیر نے جبیر بن حیہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: حضرت عمرؓ نے لوگوں کو بڑے بڑے شہروں میں مشرکین سے جنگ کرنے کے لئے بھیجا۔ آخر ہرمزان نے اسلام قبول کر لیا۔ حضرت عمرؓ نے (ان سے) کہا: میں تم سے ان مقامات پر حملہ کے بارے میں مشورہ چاہتا ہوں۔ اس نے کہا: ہاں۔ ان مقامات کی مثال اور ان لوگوں کی مثال جو ان میں ہیں یعنی وہ جو مسلمانوں کے دشمن ہیں ایک پرندے کی سی ہے جس کا سر بھی ہو اور جس کے دو بازو اور دو ٹانگیں بھی ہوں۔ اگر دو بازوئوں میں سے ایک بازو توڑ دیا جائے تو دو ٹانگوں ایک بازو اور سر کے ساتھ اُٹھ کھڑا ہوگا اور اگر دوسرا بازو بھی توڑ دیا جائے تو دو ٹانگوں اور سر کے بل اُٹھ کھڑا ہوگا اور اگر سر کچل دیا جائے تو دو ٹانگیں اور دو بازو اور سر ناکارہ ہو جائیں گے۔ سر تو کسریٰ ہے اور ایک بازو قیصر اور دوسرا بازو فارس۔ اس لئے مسلمانوں کو حکم دیں کہ وہ کسریٰ کی طرف نکلیں۔ بکر اور زیاد دونوں نے جبیر بن حیہ سے نقل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت عمرؓ نے ہمیں جنگ کے لئے روانہ کیا اور حضرت نعمان بن مقرنؓ کو ہم پر امیر مقرر کیا۔ جب ہم دشمن کی سرزمین میں پہنچے اور کسریٰ کا ایک افسر چالیس ہزار سپاہ لے کر ہمارے مقابلے کے لئے آیا تو ایک ترجمان کھڑا ہوا اور کہنے لگا: چاہیے کہ تم میں سے ایک شخص مجھ سے بات کرے۔ حضرت مغیرہ (بن شعبہؓ) نے کہا: جو تم پوچھنا چاہتے ہو پوچھو۔ اس نے کہا: تم کون ہو؟ حضرت مغیرہؓ نے کہا: ہم عرب لوگ ہیں۔ ہم سخت بدبختی اور نہایت کڑی مصیبت میں تھے۔ بھوک کے مارے کھالیں چوسا کرتے اور گٹھلیاں چبایا کرتے اور اون اور بال پہنتے تھے اور درختوں اور پتھروں کو پوجتے تھے۔ ہم اسی حالت میں تھے کہ آسمانوں اور زمینوں کے ربّ نے جس کی تعریف تمام بلندیوں میں ہو رہی ہے اور جس کی عظمت ہر جگہ جلوہ گر ہے، ہمارے پاس ایک نبی بھیجا جو ہم میں سے تھا۔ ہم اس کے ماں باپ کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ تو ہمارے اس نبی نے جو ہمارے ربّ کا رسول ہے- اللہ اپنی خاص رحمتوں سے انہیں نوازے- ہمیں ارشاد فرمایا کہ جب تک تم واحد خدا کی عبادت نہ کرو یا جزیہ نہ دو اس وقت تک تم سے لڑیں اور ہمیں ہمارے نبی ﷺ نے- اللہ انہیں ابدالآباد تک سلامتی میں رکھے- ہمارے ربّ کا یہ پیغام ہمیں دیا کہ ہم میں سے جو مارا جائے گا وہ جنت میں جائے گا۔ جہاں وہ ایسی نعمتوں میں ابدی زندگی بسر کرے گا جن کی مانند نعمتیں اس نے کبھی نہ دیکھیں اور جو ہم میں سے جیتا بچ رہے گا تو وہ تمہاری گردنوں کا مالک ہوگا۔ (حضرت مغیرہؓ نے یہ گفتگو ختم کرنے کے بعد نعمان سے کہا: لڑائی شروع کرو۔)
سہل بن بکار نے ہم سے بیان کیا کہ وُہیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو بن یحيٰ سے، انہوں نے عباس ساعدی سے، عباس ساعدی نے حضرت ابوحمید ساعدیؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ہم نبی ﷺ کے ساتھ تبوک پر حملہ کرنے کے لئے نکلے اور اَیلہ کے بادشاہ نے نبی ﷺ کو ایک سفید خچر ہدیہ بھیجا اور آپؐ کے استعمال کے لئے ایک چادر بھی پہننے کے لئے بھیجی اور آپؐ نے ان کی بستیاں اسی کے نام لکھ دیں۔ أطرافہُ: ۱۴۸۱، ۱۸۷۲، ۳۷۹۱، ۴۴۲۲۔
(تشریح)آدم بن ابی ایاس نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ ابوجمرہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے جویریہ بن قدامہ تمیمی سے سنا۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا۔ ہم نے کہا: امیر المؤمنین ہمیں وصیت کریں۔ انہوں نے کہا: میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ اللہ کے عہد کی نگہداشت رکھنا۔ کیونکہ وہ عہد تمہارے نبی ﷺ کا عہد و پیمان ہے اور تمہارے بال بچوں کا رزق۔ أطرافہُ: ۱۳۹۲، ۳۰۵۲، ۳۷۰۰، ۴۸۸۸، ۷۲۰۷۔
(تشریح)احمد بن یونس نے ہم سے بیان کیا کہ زُہیر نے ہمیں بتایا کہ یحيٰ بن سعید سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے انصار کو بلایا تا ان کو بحرین کی سندیں لکھ دیں۔ انہوں نے کہا: بخدا! ہم نہیں لیں گے، جب تک کہ آپؐ ہمارے قریش بھائیوں کو بھی ویسی ہی سندیں نہ لکھ دیں۔ آپؐ نے فرمایا: جب اللہ چاہے انہیں بھی ملیں گی۔ وہ آپؐ سے یہی بات کہتے رہے۔ آپؐ نے فرمایا: عنقریب میرے بعد تم دیکھو گے کہ دوسرے تم پر خودغرضی کی وجہ سے مقدم کئے جائیں گے تو اس وقت تک کہ تم مجھ سے حوض پر ملو، صبر کرنا۔ أطرافہُ: ۲۳۷۶، ۲۳۷۷، ۳۷۹۴۔
علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ اسماعیل بن ابراہیم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: رَوح بن قاسم نے مجھے بتایا۔ انہوں نے محمد بن منکدر سے، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا: اگر بحرین کا مالیہ ہمارے پاس آگیا تو میں تمہیں اس طرح اور اس طرح اور اس طرح دوں گا۔ جب رسول اللہ ﷺ وفات پا گئے اور بحرین کا مالیہ آیا، حضرت ابوبکرؓ نے کہا: جس شخص سے رسول اللہ ﷺ نے کچھ وعدہ کیا ہو تو وہ میرے پاس آئے۔ چنانچہ میں ان کے پاس آیا اور میں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا تھا: اگر بحرین کا مالیہ ہمارے پاس آیا تو میں تمہیں اس طرح اور اس طرح اور اس طرح دوں گا۔ حضرت ابوبکرؓ نے مجھ سے کہا: اس میں سے ایک لپ بھر لو۔ چنانچہ میں نے ایک لپ بھر لیا۔ انہوں نے مجھ سے کہا: انہیں گنو۔ میں نے ان کو گنا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ پانچ سو ہیں اور انہوں نے مجھے ایک ہزار پانچ سو دیا۔
اور ابراہیم بن طہمان نے عبدالعزیز بن صہیب سے نقل کیا۔ انہوں نے حضرت انسؓ سے روایت کی کہ نبی ﷺ کے پاس بحرین کا مالیہ لایا گیا تو آپؐ نے فرمایا: اس کو مسجد میں رکھ دو۔ یہ سب سے زیادہ مال تھا جو رسول اللہ ﷺ کے پاس لایا گیا۔ اتنے میں حضرت عباسؓ آپؐ کے پاس آئے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ! مجھے بھی دیں۔ میں نے اپنا فدیہ دیا اور عقیل کا بھی۔ آپؐ نے فرمایا: لے لیں۔ تو وہ اپنے کپڑے میں لپ بھر کر ڈالنے اور اسے اُٹھانے لگے تو اسے نہ اُٹھا سکے۔ انہوں نے کہا: کسی سے فرمائیں کہ وہ مجھے اُٹھوا دے۔ آپؐ نے فرمایا: یہ نہیں ہوگا۔ حضرت عباسؓ نے کہا: پھر آپؐ ہی اسے اُٹھا کر مجھ پہ رکھ دیں۔ فرمایا: نہیں۔ تو انہوں نے اس میں سے کچھ نکال ڈالے اور پھر اس کو اُٹھانے لگے مگر پھر بھی نہ اُٹھا سکے۔ حضرت عباسؓ نے کہا: آپؐ کسی سے فرمائیں کہ اس کو اُٹھا کر مجھ پر رکھ دے۔ آپؐ نے فرمایا: نہیں۔ کہنے لگے: تو آپؐ ہی اس کو اُٹھا کر مجھ پر رکھ دیں۔ فرمایا: نہیں۔ پھر انہوں نے کچھ اور نکال ڈالے اور اس کے بعد اس مال کو اپنے کندھے پر اُٹھا لیا اور چل دئیے۔ حضرت عباسؓ جب تک ہم سے اوجھل نہیں ہوگئے، آنحضرت ﷺ ان کو دیکھتے رہے۔ آپؐ کو ان کی حرص پر بہت تعجب ہوا۔ اور رسول اللہ ﷺ وہاں سے نہیں اُٹھے جب تک کہ اس مال میں سے ایک درہم بھی باقی رہا۔ (یعنی سب بانٹ کر اُٹھے۔) أطرافہُ: ۴۲۱، ۳۰۴۹۔
(تشریح)